پیدائش مخالف فلسفہ، فیمنزم اور ڈاکٹر طاہرہ کاظمی


جیسے اندھیرے کا الٹ روشنی ہے ویسے ہی ہر چیز کا مخالف کچھ نہ کچھ ہوتا ہے، پھر بھلے یہ کوئی فکر و فلسفہ ہی کیوں نہ ہو۔ یہاں تک کہ شیطان کے وجود کے بغیر تو خدا کا تصور بھی ادھورا محسوس ہو گا۔

جہاں کچھ والدین بڑھاپے کے سہارے یا بچے پسند ہونے کے باعث اور مذاہب اپنے پیروکاروں کی گنتی بڑھانے کے لیے زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے پہ زور دیتے ہیں وہیں اس کے متضاد بھی ایک سوچ پائی جاتی ہے۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے کا الٹ کیا ہوا؟

جی ہاں! کم سے کم بچے پیدا کرنا۔ لیکن یاد رہے کم سے کم کا ہندسہ ہوتا ہے زیرو!

پیدائش مخالف (Antinatalism) ایک یونانی اور ایک لاطینی لفظ سے مل کر بنا ہے۔ اینٹی کا مطلب ہے مخالف اور نیٹل کا مطلب پیدا کرنا یا پیدا کرنے سے پہلے۔ یوں اینٹی نیٹل ازم سے مراد ہے بچہ پیدا کرنے کی مخالفت کرنا۔

یہ دنیا دکھوں اور تکلیفوں سے بھری ہوئی ہے۔ پیدائش سے موت تک ایک حساس انسان کے لیے زندگی ایک ہاری ہوئی جنگ جیسی ہوتی ہے۔ زندگی خواہشوں کو مرتے دیکھنے اور خوابوں کے جنازے اٹھاتے گزرتی ہے۔ دو وقت کی روٹی، بنیادی انسانی ضروریات اور چھوٹی چھوٹی خواہشات کے لیے بھی جان ہتھیلی پر رکھ کر جینا پڑتا ہے۔ بقول غالب:

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

اور کرشن بہار پوری لکھتے ہیں :
زندگی سے بڑی سزا ہی نہیں
اور کیا جرم ہے پتہ ہی نہیں

پیدائش مخالف فلسفے کے ماننے والوں کا دعویٰ ہے کہ دولت، کامیابی یا آسائشیں اس مسئلے کا حل نہیں کہ حضرت آدم کو تو جنت میں بھی سکون میسر نہ آیا تھا۔ اگر ہر پیدا ہونے والے نے دکھ جھیل کر مرنا ہی ہے تو کیوں نہ اس دکھ کا سر چشمہ ہی بند کر دیا جائے، یعنی پیدائش ہی ترک کر دی جائے۔ ہم نے تو خود کو زندگی کی چکی میں پستے ہوئے پایا اور ہم اس کے لیے بے بس تھے لیکن اختیار ہونے کے باوجود ہمیں ایک ننھی سی جان کو زندگی کا عذاب جھیلنے کے لیے کیوں پیدا کرنا چاہیے؟ چند لمحوں کی لذت، ذاتی خوشی، حسرت یا مفادات کے لیے ایک زندگی کو جنم دینا اپنے ہی بچے پہ ظلم کرنے کے مترادف ہے۔ بقول شاعر:

یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی

پیدائش مخالف فلسفے (Antinatalism) کی تاریخ

پیدائش مخالف فلسفے کی جڑیں چار ہزار سال قبل کے ہندوستان تک پھیلی ہوئی ہیں۔ گوتم بدھ کا دور ہندستان میں اس فلسفے کا نقطہ عروج سمجھا جا جاتا ہے۔ یہ فلسفہ سفر کرتا ہوا یونان اور پھر عرب تک پہنچا۔ 215 ء میں حکیم مانی نے اس فکر کو مشرق وسطیٰ میں وسیع پیمانے پر پھیلانے میں کردار ادا کیا۔ اس کے افکار کی گونج دیر تک گونجتی رہی۔ آپ نے اقبال کی نظم ”ابلیس کی مجلس شوریٰ“ میں مزدک ( 525 ء میں قتل ہوا) کا نام یقیناً پڑھا ہو گا۔ وہ بھی حکیم مانی کے افکار سے متاثر تھا اور پیدائش مخالف تھا۔ لیکن عربوں میں پیدائش مخالف فلسفے کے لیے جانا جانے والا سب سے بڑا نام ابو العلاء المعری ( 973۔ 1057 ء) کا ہے۔ وہ نابینا شاعر اور فلسفی تھا جس نے ساری زندگی پھل پتوں پہ گزاری کیونکہ اس کا ماننا تھا کہ جانور حلال یا حرام نہیں ہوتا بلکہ گوشت کے حصول کے لیے جانور کو قتل کر دینا حرام ہے۔ یہاں تک کہ وہ گائے بھینس کا دودھ پینے کی بھی مخالفت کرتا تھا اس کے نزدیک فطرت نے یہ دودھ بچھڑے کے لیے اتارا ہے آپ کے لیے نہیں!

ابو العلاء المعری اپنی الحادی اور منطقی سوچ کے لیے جانے جاتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں دو طرح کے لوگ ہیں ایک وہ جو عقلمند ہیں اور کسی مذہب کو نہیں مانتے اور دوسرے وہ جو بیوقوف ہیں مگر کسی مذہب کے سچ ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔ ابو العلاء المعری پیدائش مخالف فلسفے کا اس حد تک حامی تھا کہ اس نے وصیت کی تھی کہ جب میں مر جاؤں تو میری قبر پہ میرا یہ شعر لکھ دیا جائے : ”مجھے پیدا کر کے میرے والدین نے مجھ پر ظلم کیا ہے۔“

یہ فلسفہ ہندوستان اور عرب دنیا تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ سفر کرتا ہوا یورپ پہنچا جہاں پہلے پہل تو اسے کچھ خاص توجہ نہ مل سکی لیکن رفتہ رفتہ یہ لوگوں کو سحر میں مبتلا کرنے لگا۔

انیسویں صدی میں ایک جرمن شاعر ہینرک ہین اس فکر سے شدید متاثر ہوا۔ اس نے لکھا: ”نیند اچھی ہے، موت بہتر ہے ؛ لیکن یقیناً، سب سے اچھی بات یہ ہوگی کہ کبھی پیدا ہی نہ ہوا جائے۔“

اکیسویں صدی میں ساؤتھ افریقی فلسفی ڈیوڈ بیناتر نے گویا اس فلسفے کو نیا جنم دیا۔ 2006 ء میں اس کی کتاب
”Better Never To Have Been: The Harm Of Coming To The Existence“
کی اشاعت نے اس فلسفے کو دوبارہ مقبولیت کی بلندیوں تک پہنچنے کے قابل بنایا۔ ڈیوڈ بیناتر کی کتاب نے گویا ایک نیا محاذ کھول دیا۔ بے شمار فلسفیوں اور دانش مندوں نے اس فلسفے کی مخالفت میں دلائل دیے لیکن یاد رہے کہ اس کے حامیوں نے بھی ہر سوال کا تسلی بخش جواب دینے کی کوشش کی اور سوال و جواب کا یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔

ایسا ہی ایک سوال پاکستان کی فیمنسٹ رائٹر طاہرہ کاظمی نے فیسبک پر لکھا کہ کیا ہو اگر پوری دنیا کی خواتین بچے پیدا کرنا بند کر دیں؟

طاہر راجپوت صاحب نے اس کے جواب میں لکھا کہ ہو سکتا ہے خواتین میں ورجن برتھ (بغیر باپ کے بچہ پیدا ہونا) چل نکلے یا مردوں سے ایسی سپیشی برآمد ہو جائے جو مونث کا کردار ادا کرے یا کسی اور نوع سے اختلاط کا بھی کوئی نتیجہ برآمد ہو سکتا ہے لیکن اگر ایسا کچھ نہیں ہوتا تو ممکن ہے انسانی نسل معدوم ہو جائے۔

میری میرے صاحب سے اس موضوع پر بات ہوئی تو انہوں نے کہا ہو سکتا ہے جیسے مرغیوں کے بچے خاص درجہ حرارت پہ پیدا کروائے جا سکتے ہیں ویسے ہی مشینی برتھ (Petri Dish Baby) عام ہو جائے اس سے کم از کم سائنسی ترقی کے دور میں زچگی میں ہونے والی عورت کی دردناک اور ہمارے لیے شرمناک موت سے تو بچا جا سکے گا اور زچگی کے بعد کے مسائل جیسے پیشاب خطا ہونے جیسے مسائل سے چھٹکارا بھی ممکن ہو جائے گا لیکن اس کے لیے بھی عورت کی مرضی یعنی انڈے کی شرط اب تک لازم ہے۔

جہاں سوچنے سمجھنے والے لوگوں نے اس پہ مثبت انداز میں بات کی وہیں سوچنے سمجھنے سے عاری لوگوں نے اس بات کا مذاق اڑایا اور ڈاکٹر صاحبہ کی ذات پر حملے کیے۔ حالانکہ یہ کسی کے مذہبی نظریات یا خیالات پر حملہ نہیں صرف ایک سیدھا سادہ سوال تھا لیکن اقبال خورشید صاحب کے بقول طاہرہ کاظمی کے ایک سوال نے پدر سری سماج کی بوکھلاہٹ عیاں کر دی۔ ایک نامور صحافی نے اس کے جواب میں لکھا کہ فیسبک پہ کچھ بھی مضحکہ خیز لکھ دیں تو پڑھنے والے اس پہ کچھ نہ کچھ لکھ دیتے ہیں اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پدر سری نظام بوکھلاہٹ کا شکار ہو گیا ہے۔ یہ پڑھ کر ہمارا جی چاہا کہ سر دیوار میں مار دیں۔ فکر انگیز اور فلسفیانہ سوال مضحکہ خیز سٹیٹمنٹ؟ تم قتل کرو ہو یا کرامات کرو ہو؟ اور سوال کو اپنے خیالات پر حملہ سمجھ کر اپنا دفاع کرنا بوکھلاہٹ نہیں تو اور کیا ہے؟

پیدائش مخالف فلسفے سے تعارف آپ نے پڑھا، اگلے حصے میں ہم اس فلسفے کی اقسام، فیمنزم سے اس کا تعلق اور اس پہ کیے جانے والے اہم سوالات کا جائزہ لیں گے جیسے کہ ”ایسی کسی صورت میں نسل انسانی آگے کیسے بڑھے گی؟“

Facebook Comments HS

One thought on “پیدائش مخالف فلسفہ، فیمنزم اور ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

  • 25/04/2024 at 6:18 شام
    Permalink

    جتنے لوگوں نے اپنی پیدائش کا نوحہ لکھا، وہ سب موجود تھے تو لکھا۔۔ لاموجود پر کیا بات کرنی؟

Comments are closed.