ڈیجیٹل دنیا میں خواتین کہاں ہیں؟

کیا آپ نے کبھی اپنی فیس بک پروفائل کے پروفیشنل موڈ میں جا کر یہ اعداد و شمار دیکھے ہیں کہ آپ کی پوسٹیں کن لوگوں تک پہنچ رہی ہیں؟ میں کافی عرصے سے یہ مشاہدہ کر رہی ہوں کہ میری تحریریں بھلے خواتین کے مسائل سے متعلق ہوں ان پر مرد حضرات تو میٹھے پر مکھیوں کی طرح پہنچ رہے ہوتے ہیں لیکن خواتین خال خال ہی اپنی رائے دیتی نظر آتی ہیں۔ فیسبک کے مطابق بھی گزشتہ اٹھائیس

Read more

جنگلوں میں اگائے گئے شہروں کا ازالہ ویجٹیرین بن کر نہیں کیا جا سکتا

گزشتہ برس بڑی عید پر میں نے عید مبارک کی پوسٹ لگائی تو ایک کمیونسٹ دوست نے کمینٹ کیا کہ آپ تو ایتھیسٹ ہیں پھر ایک ایسے تہوار کی مبارک دینا جس پر لاکھوں معصوم جانوروں کو قتل کر دیا جاتا ہے آپ کی منافقت کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایک تو ان ایتھیسٹ حضرات کو نجانے کیوں ہر وہ شخص بھی ایتھیسٹ لگتا ہے جو مذہب پر تنقید یا سوال کرے۔ میں اگناسٹک ہوں اور اگناسٹک ایسے شخص کو کہتے

Read more

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی پہلی فکشنل کتاب ”ناگہانی تا ناگہانی“ کا تعارف

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی جو گزشتہ چار دہائیوں سے خواتین کے طبی اور سماجی مسائل کی نبض پر ہاتھ رکھے ہوئے ہیں، اپنی بیباک کالم نگاری پر مشتمل چھ کتابوں اور پنجابی نظموں کے مجموعے ”جتی“ کے بعد ، اب فکشن کی دنیا میں ”ناگہانی تا ناگہانی“ کے ساتھ وارد ہوئی ہیں۔ یہ کتاب محض ایک مجموعہ نہیں، بلکہ ان کے فکری و تخلیقی سفر کا ایک نیا، چونکا دینے والا موڑ ہے۔ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کے فکشن کا اسلوب ایک

Read more

شادی کا قانون بدل گیا، کیا ہماری سوچ بدلے گی؟

پاکستان نے اپنے بچوں کے روشن مستقبل کو محفوظ بنانے اور معاشرتی نا انصافیوں کے خلاف ایک اہم جنگ جیتنے کے لیے ایک تاریخی قدم اٹھایا ہے۔ ”بچوں کی شادی کی ممانعت کا بل“ اب باقاعدہ قانون کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس کا مقصد کم عمری کی شادی جیسی جاہلانہ رسم کا خاتمہ ہے۔ یہ بل، جسے قومی اسمبلی میں شرمیلا فاروقی اور سینٹ میں شیریں رحمن نے پیش کیا، شدت پسند مذہبی حلقوں کی شدید مخالفت کے

Read more

اُردو زبان: ایک ایسی کہانی جو مردوں نے لکھی؟

مولوی عبدالحق کو ان کی اردو زبان کے لیے ادبی خدمات کے اعتراف میں ”بابائے اردو“ کہا جاتا ہے۔ ہم نے میٹرک کے نصاب میں شامل ان کا خاکہ ”نام دیو مالی“ پڑھا تو ان کے لیے دل میں محبت اور عقیدت کا لافانی چشمہ پھوٹ پڑا۔ ان کی کتاب ”چند ہم عصر“ اردو خاکہ نگاری میں اپنی مثال آپ ہے۔ مولوی صاحب کی ایک اور اہم اور مشہور کتاب ”قواعد اردو“ ہے۔ اس کتاب کو مشعل راہ بنا کر

Read more

پاکستانی حکومت نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کو کیوں بلایا ہے؟

آج کل انٹرنیٹ کھولنے پر ہر طرف ڈاکٹر ذاکر نائیک چھائے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایک طبقہ ہے جو ان کے انگریزی لباس، پرائیویٹ جیٹ، شاہانہ لائف سٹائل پر تنقید کر رہا ہے تو دوسرا طبقہ انہیں ولی اللہ، لاکھوں کو مسلمان کرنے والا اور اسلام پر سوال اٹھانے والوں کو دھول چٹانے والا قرار دے کر تعریفیں کر رہا ہے۔ میں متحارب فریقین کی تحریریں پڑھ پڑھ کر بیزار ہو گئی ہوں اس لیے اس موضوع پر مختصراً لکھ

Read more

کیا ”آگ کا دریا“ ایک مشکل اور بے کار ناول ہے؟

چار برس پہلے جب میں نے ”آگ کا دریا“ ناول اپنے موبائل پر پڑھنا شروع کیا تو اس سے پہلے میں قدرت اللہ شہاب، محمد حسین آزاد اور مولوی عبدالحق جیسے اردو میں اچھے اسلوب کے حامل مصنفین کا مطالعہ کر چکی تھی اور میں نے قرۃ العین حیدر ہی کا ناول ”آخر شب کے ہمسفر“ بھی پڑھ رکھا تھا اس لیے میری اردو اتنی اچھی ہو چکی تھی کہ اس ناول نے ابتدا ہی میں مجھے اپنے سحر میں

Read more

حکومت سے ”مرحوم محکمہ صحت“ کے کفن دفن کا انتظام نہیں ہو رہا

ہمارے گھٹن زدہ سماج میں لڑکیوں کی تعلیم اور ملازمت پہ پابندیوں کا حال کسے معلوم نہیں؟ ایسے میں ایک باپ یا شوہر اپنی بیٹی یا بیوی کو تعلیم اور ملازمت کا موقع دیتا ہے، اس کی خودمختاری اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کا خواب دیکھتا ہے، رشتے داروں اور اردگرد کے طعنے سہتا ہے۔ تو کیا اس جرات کے لیے اسے ایسا سبق سکھایا جانا چاہیے کہ وہ اپنی بیٹی، بہن یا بیوی کو گھر بٹھا لے اور

Read more

گندم، تربوز اور دانشوروں کی لڑائی

بہت دنوں سے گندم پہ جنگ جاری تھی اور ابھی اس سے پہلے کہ اس جنگ میں سیز فائر کا اعلان کرتے ہوئے سفید جھنڈا لہرایا جاتا تربوز کسی بم کی طرح پھٹ پڑا ہے۔ میں بہت مدت سے یہ تماشا دیکھ رہی ہوں آج سوچا کچھ لکھ بھی دوں۔ میرا تعلق ایک دیہات سے ہے اور میرے رشتے داروں سمیت ہم خود بھی ایک دو ایکڑ والے عام چھوٹے کسان ہیں۔ سب سے پہلے تو گندم کی کٹائی شروع

Read more

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے

پنجابی شاعری کے عظیم شاعر وارث شاہ کو پنجابی زبان کا شیکسپئر بھی کہا جاتا ہے۔ ان سے پہلے اور بعد میں کئی لوگوں نے ہیر رانجھے کا قصہ لکھا لیکن کسی کو وہ مقبولیت نہ ملی جو ہیر وارث شاہ کے حصے آئی۔ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ پنجاب میں میں قرآن کے بعد سب سے زیادہ چھپنے والی کتاب ہیر وارث شاہ ہوا کرتی تھی۔ ہیر وارث شاہ کا آغاز ہی حمد سے ہوتا ہے اور اختتام

Read more

انتہا پسند ہندو جناح کو کیا سمجھتے ہیں؟

آج میں آپ کے ساتھ اپنے پسندیدہ رائٹرز میں سے ایک کا تعارف کروا رہی ہوں جنہوں نے تاریخ ہند پر میری سمجھ بوجھ میں اضافہ کیا اور تاریخ پاکستان کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے میں مدد دی۔ پروفیسر ڈاکٹر اشتیاق احمد 24 فروری 1947 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم لاہور میں ہی حاصل کی کچھ عرصہ راولپنڈی میں پڑھایا بھی اور لاہور کی گلیوں میں بچپن سے جوانی کا سفر طے کر کے 1973 میں بڑے

Read more

شو کمار بٹالوی کا شہکار گیت مائیں نی مائیں میرے گیتے دے نیناں وچ

کچھ عرصہ پہلے نصرت فتح علی خان کی آواز میں ایک پنجابی گیت سنا تو ہم دیوانے ہو گئے۔ شاعر کا کھوج لگایا تو پتہ چلا شو کمار بٹالوی کا گیت ہے۔ تجسس بڑھا تو شاعری اور شو کمار کی زندگی سے متعلق پڑھا۔ شو کمار 23 جولائی 1936 ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ تقسیم کے بعد بٹالہ ضلع گورداسپور چلے گئے اور شو کمار بٹالوی کہلائے۔ تعلیمی لحاظ سے شو کمار نے کئی ڈگریوں کا آغاز کیا لیکن

Read more

دیہات میں محفلِ میلاد کا آنکھوں دیکھا حال

ہمارے گاؤں میں بچپن سے اب تک وقتاً فوقتاً مختلف گھروں میں محفل میلاد منعقد ہوتی رہتی ہے، جس میں ہر گھر کی خاتون کی ہر حال میں شرکت ناگزیر ہے۔ بھلے آپ ایامِ ماہواری میں ہوں یا عدت میں اس پاک محفل سے غیر حاضری کا کوئی عذر قابلِ قبول نہیں۔ عدم شرکت آپ کی دین سے دوری اور بے راہ روی کی سند خیال کی جاتی ہے۔ جس گھر میں یہ محفل منعقد ہوتی ہے اس گھر کی

Read more

پیدائش مخالف فلسفہ، فیمنزم اور ڈاکٹر طاہرہ کاظمی – حصہ دوئم

گزشتہ بلاگ میں ہم نے پیدائش مخالف فلسفے (Antinatalism) کے تعارف اور تاریخ پہ سرسری نگاہ ڈالی تھی۔ مختصر سے وقت میں یہ فلسفہ اس مقام پر آن پہنچا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے تک آبادی میں بے پناہ اضافے کا رونا رونے والی دنیا آج تیزی سے کم ہوتی ہوئی آبادی سے پریشان ہے۔ جہاں ایک صدی پہلے تک ایک عورت چھ سے دس بچے پیدا کرتی تھی عالمی اوسط شرح پیدائش کے مطابق اب وہی عورت ایک سے

Read more

پیدائش مخالف فلسفہ، فیمنزم اور ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

جیسے اندھیرے کا الٹ روشنی ہے ویسے ہی ہر چیز کا مخالف کچھ نہ کچھ ہوتا ہے، پھر بھلے یہ کوئی فکر و فلسفہ ہی کیوں نہ ہو۔ یہاں تک کہ شیطان کے وجود کے بغیر تو خدا کا تصور بھی ادھورا محسوس ہو گا۔ جہاں کچھ والدین بڑھاپے کے سہارے یا بچے پسند ہونے کے باعث اور مذاہب اپنے پیروکاروں کی گنتی بڑھانے کے لیے زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے پہ زور دیتے ہیں وہیں اس کے متضاد

Read more