کھودنا پہاڑ فیض آباد دھرنا کمیشن کا
جب فیض آباد دھرنا کمیشن کے ممبران کا اعلان ہوا تو جہاں اپنے بھائی صاحب کو کمیشن کا سربراہ دیکھ کر مسرت آمیز حیرت ہوئی، وہیں کمیشن کی ہیئت دیکھ کر غالب کا کہا یاد آ گیا کہ
وہ مری چین جبیں سے غم پنہاں سمجھا
راز مکتوب بہ بے ربطی عنواں سمجھا
دو ریٹائرڈ پولیس افسران اور ایک حاضر سروس سرکاری بابو پر مشتمل کمیشن سے یہ توقع لگا لینا کہ وہ جان رامبو کی طرح سب نظام کو تہہ و بالا کر دیں گے ایک مسحور کن خواہش سے زیادہ کچھ نہیں۔ اپنی پچھلی زندگی میں یہ خاکسار بھی سرکاری بابو گیری کرچکا ہے۔ اور مشاہدے اور مجاہدے سے یہ بات جانتا ہے کہ کسی بھی سرکاری افسر کا ذاتی زندگی میں کسی حد تک صادق و امین رہنا تو ممکن ہے لیکن وہ انقلابی نہیں ہوا کرتے۔ چاہے حاضر سروس ہوں یا ریٹائرڈ، ہر سرکاری افسر بخوبی جانتا ہے کہ
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں
اس لیے وہ دریا سے باہر نکالے جانے کے خطرات اپنے سر نہیں لیا کرتے اور دریا کے اندر کے سبھی مگرمچھوں سے بھی بنا کر رکھتے ہیں۔ اور وہ ایسا کیوں نہ کریں کہ جس معاشرے میں اغوا کنندہ باہر آ کر اغوا کاروں کی سربلندی کے نعرے لگاتے ہیں اور جج حضرات چٹھیاں لکھ کر بے بسی کی دہائیاں دیتے ہوں وہاں کسی سرکاری افسر سے چی گویرا یا بھگت سنگھ بننے کی آرزو لگا لینا کہاں کی دانشمندی ہے۔
سیاسیات کا ہر طالبعلم جانتا ہے کہ کسی بھی نظام میں اختیارات کے استعمال کے ساتھ جوابدہی کا عنصر لازمی ہوا کرتا ہے۔ ہمارے خاکی بھائی کمال کا کھیل کھیلتے ہیں۔ اختیارات تو پوری دلجمعی کے ساتھ استعمال کرتے ہیں لیکن جوابدہی سے دامن بچائے رکھتے ہیں۔ اس کراماتی کھیل کے بارے میں کلیم عاجز فرما گئے تھے
دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
اس کھیل کا ذکر کرتے ہی میں خود ماضی کے جھروکوں سے اپنے چند تجربات کو دلچسپی سے دیکھنے لگا ہوں۔ تفصیلی ذکر پھر کسی تحریر میں کرلوں گا لیکن سردست ایک قصے کو بیان کرتا ہوں جس سے آج کل کے ہائبرڈ نظام کے آغاز کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔
یہ جنرل مشرف کے دور کے اوائل کا تذکرہ ہے۔ عدالت عظمی نے مشرف کے حق فرعونیت کو بہت سے قانونی دلائل کے ساتھ بالکل جائز قرار دیا تھا۔ ملک کے چیف ایگزیکٹیو کے طور پر مشرف نے آرمی مانیٹرنگ ٹیم کے نظام کا اعلان کیا جس کے تحت تمام سرکاری محکموں میں حاضر سروس آرمی افسران پر مشتمل ٹیمیں متعین کردی گئیں جن کی مرضی و منشا کے بغیر کار سرکار کی ادائیگی ناممکن قرار پائی تھی۔
میں کراچی کسٹم ہاؤس میں درآمدات سے وابستہ ایک ذمہ داری پر متعین تھا۔ کسٹم قوانین کے تحت درآمدہ اشیا کی مالیت کے لیے ایک الگ محکمہ ”ویلیوایشن کلیکٹوریٹ“ موجود تھا جو ایک کتابچہ جاری کرتا تھا جس میں درآمدہ اشیا کی مالیت درج ہوا کرتی تھی۔ عمومی حالات میں سب درآمدات پر ڈیوٹی ٹیکس لگانے کے لیے اس کتابچے میں درج مالیت پر انحصار کرنا لازم ہوا کرتا تھا۔ لیکن جب سے آرمی مانیٹرنگ ٹیم نے کسٹم ہاؤس میں اپنا پڑاؤ ڈالا تھا تب سے ایک کرنل صاحب تن تنہا سب درآمدات کی مالیت سے متعلق احکامات جاری کرتے تھے۔ یہ مالیت کتابچے میں درج مالیت سے کافی زیادہ ہوا کرتی تھی۔
ایک دفعہ ایک نامی گرامی کسٹم ایجنٹ نے وکیل کے ذریعے ٹربیونل سے اس بنیاد پر کیس جیتا کہ آرمی مانیٹرنگ ٹیم نے جس مالیت کا تعین کیا ہے اس کو نظر انداز کر دیا جائے کیونکہ کسٹم قوانین کے تحت یہ اختیار صرف ویلیوایشن کلیکٹوریٹ کا ہے۔ یہی کہانی لے کر وہ کسٹم ایجنٹ ایک دوسرے کیس میں میرے پاس پیش ہوا اور یہ امید لگا بیٹھا کہ یا تو میں ٹربیونل کے فیصلے کی روشنی میں کرنل صاحب کے احکامات کو رد کردوں گا یا میرے کمزور فیصلے کو باآسانی ٹربیونل سے برخاست کروا دیا جائے گا۔ میں نے نامی گرامی ایجنٹ کے دلائل خوب توجہ سے سنے اور پھر اپنا فیصلہ لکھنے لگا۔ وہ پوری امید لگا بیٹھا تھا کہ مجھے پوری طرح شیشے میں اتار چکا ہے۔ جب بعد میں فیصلے کی کاپی ملی تو بہت سٹپٹایا کہ اتنی قانونی موشگافیاں بھلا ڈپٹی کلیکٹر سطح کی نیم عدالتی کارروائی میں کب پڑھنے کو ملا کرتی ہیں۔
میں نے فیصلہ لکھتے ہوئے کیس پر براہ راست بات کرنے سے قبل تین بنیادی اصولوں کا ذکر کیا تھا۔ اول، کسی بھی ملک کا نظام قانون و عدل ایک مرکزی قانون سے ماخذ ہوتا ہے جسے حرف عام میں آئین کہتے ہیں۔ دوئم، میں نے سپریم کورٹ کے اولین فیصلوں میں سے ایک کا حوالہ دے کر کہا کہ کامیاب بغاوت انقلاب کہلایا کرتی ہے اور اس کے نتیجے میں پرانا نظام قانون و عدل منسوخ ہوجاتا ہے اور اس کی جگہ انقلابیوں کا نافذ کردہ قانون لے لیتا ہے۔ سوئم، جنرل مشرف کی بغاوت کو سپریم کورٹ نے کامیاب انقلاب قرار دے کر اس پر اپنی مہر ثبت کردی تھی۔ یوں تمام دیگر قوانین پر مشرف کا انقلاب اور اس کے احکامات کو فوقیت حاصل ہو گئی تھی۔ چونکہ آرمی مانیٹرنگ ٹیم کا نظام براہ راست مشرف کے احکامات کے تحت ہوا تھا اس لیے آرمی مانیٹرنگ کے کرنل کے احکامات کو کسٹم قوانین پر فوقیت حاصل تھی۔ اور نتیجتاً تمام کسٹم افسران پر کرنل صاحب کے تحریری یا زبانی احکامات پر عمل کرنا لازمی تھا۔ ان اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مذکورہ اشیا کی مالیت کا تعین چونکہ کرنل صاحب نے خود کیا تھا اس لیے وہ درست تھا تاوقتیکہ اعلی عدلیہ آرمی مانیٹرنگ کے پورے نظام کو غیر قانونی نہ قرار دے۔
کچھ عرصے بعد وہ کسٹم ایجنٹ ملا تو شکایتاً بولا کہ ٹربیونل کے ممبران بھی شش و پنج میں تھے کہ میرے تحریر کردہ نکات پر کیا فیصلہ صادر کریں۔ آخر میں ہوا کیا مجھے نہیں معلوم کیونکہ کچھ ہی عرصے بعد میں درس و تدریس کے لیے برطانیہ روانہ ہو گیا تھا۔
اس قصے کو بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ ہمارے خاکی بھائی اکثر نامعلوم افراد کا روپ دھار کر سول انتظامیہ کے مخصوص اختیارات کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں اور جوابدہی کے سمے متعلقہ سول افسران کو آگے کر کے تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہیں۔ سول افسران بے بسی کی تصویر بن کر دہائی دیتے ہیں کہ
چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں، ہم کو عبث بدنام کیا
چاہے بینظیر قتل کیس ہو یا فیض آباد دھرنا یا اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کے برخلاف گرفتاریاں۔ اختیارات کے استعمال کے بٹن پر انگلی کسی اور کی ہوتی ہے اور عدالتوں کے آگے ذلت و خواری سول افسران کا مقدر بنتی ہے۔ اگر میری مثال کو نظیر بناتے ہوئے سول افسران ہر زبانی حکم کو تحریری بنا لیا کریں تو بہت سی بدمزگیوں اور قباحتوں سے بچ سکتے ہیں۔ ورنہ کمیشن یونہی پہاڑ کھودتے رہیں گے اور نکلے گا وہی جو اب کی بار نکلا ہے۔

