بلوچ بچے کی ڈائری


میں شاید گاؤں کا واحد فرد رہ گیا تھا کہ جس کو اب بھی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔ باقی تمام اب ان آوازوں کی گرفت سے آزاد تھے۔ شاید اس لیے کہ ایک زمانے سے بمباری اور گولیوں کے شور نے ان کی سماعت چھین لی تھی۔ میں تو شہر میں رہتا رہا ہوں مجھے تو گاڑیوں کے ہارن، چلتی مشینوں کی ڈگڈگی یا پھر سابق فوجی دستوں کے شادیانے بجانے کی آوازیں سنائی دیتی رہی ہیں۔ اور ہاں، اگر کبھی جب جلدی آنکھ کھلتی تو ہاسٹل کے لان میں بیٹھے پرندوں کی چہچہانے کی آوازیں بھی سن لیتا تھا۔

اچانک اس کو پھر سے اس آواز نے اپنے اندر لپیٹ لیا۔
اب اس کے خیالات کا ربط ٹوٹ چکا تھا۔

اس آواز کے ساتھ چاند بھی کھڑکی سے اندر جھانک رہا تھا۔ ابھی اسے کھڑکی بند کرنے کی ہمت بھی نہیں ہو رہی تھی۔

وہ روز کی طرح آج بھی کچھ پوچھنے آیا تھا۔

وہ ہر روز اپنا سوال اس کی سماعتوں کی نظر کر کے چلا جاتا اور اگلے روز جواب طلب کرتا۔ اور یہ سلسلہ گاؤں میں چھٹیوں کے دنوں میں رہتا اور شہر جاتے آخری رات اس کے کان میں گاؤں کی تمام داستانیں سنا کر نکل جاتا۔

کچھ دن پہلے اس نے خلاف معمول ایک کے بجائے دو سوال پوچھ لیے تھے۔ ”دہشتگرد کون ہوتے ہیں؟ اور وہ یہ کام کیوں کرتے ہیں؟“

اگلے دن میں نے اس بتایا کہ دہشتگرد تو وہ ہوتے ہیں جو دہشت پھیلاتے ہوں۔ جن کی موجودگی میں خوف و ہراس پھیلتا ہو، اور لوگ ان کے سامنے اپنے حق کی بات کرنے سے بھی ڈرتے ہوں۔

اور وجہ شاید یہ ہو سکتی ہے کہ وہ اپنی کوئی غلطی چھپانے کے لئے دہشت پھیلاتے ہوں۔
ہمممم! کچھ دیر بعد پھر سے گرجدار سوال نے مجھے دہلا کر رکھ دیا۔ وہ کہنا لگا کہ
”آج کل آپ لوگ کس سے زیادہ خوف کھاتے ہو؟“

میں سوچنے لگا۔ کافی دیر کی خاموشی نے اس کی برداشت کے پیمانے لبریز کر دیے تھے اور وہ طیش میں آ کے بولنے لگا۔

”بتاتے کیوں نہیں؟“
میں ڈرتے ڈرتے بول پڑا
آج کل۔ ریاست اور خدا۔ بس بول دیا۔ یا منہ سے نکل گیا۔
”وہ ڈانٹتے ہوئے کہنے لگا کہ آپ ریاست اور خدا کو دہشتگرد کہہ رہے ہو؟“
میں نے کہا، نہیں تو۔

خدا اور ریاست کو نہیں، ان کا وجود انسانیت کے لئے آسانیاں پیدا کرتا ہے۔ اور ریاست کے اداروں کے وجود کا مطلب امن و امان ہوتا ہے۔ وہ تو سب کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ سب اپنے جان و مال اور عزت و آبرو، عقیدے کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ مگر آج کل خدا اور ریاست کے منتظمین نے ہمیں بہت تنگ کر رکھا ہے۔ خدا نے ہمیں زندگی بخشی اور ریاست نے ہماری زندگی کے تحفظ کا ذمہ اٹھا رکھا ہے۔ مگر اب خدا کے منتظمین ہمارے لئے زندگی تنگ کر رہے ہیں اور ریاستی ادارے گھر۔

میری بات ختم ہونے کی دیر تھی۔ کہ رونے کی آواز آنے لگی۔ جب تک میں جاگتا رہا، وہ آواز آتی رہی۔

Facebook Comments HS