انگریزی ادب کے نامور پرفیسر مراد علی کی شخصیت


گورنمنٹ کالج چترال میں داخلہ لینے کے بعد پہلے دن انگریزی کی کلاس میں داخل ہوا تو ایک دراز قد، وجیہ صورت، خوش لباس اور ہنس مکھ انسان ڈائس پر پہلے سے موجود تھے۔ ان کا دبدبہ قابل دید تھا۔ جب پڑھانا شروع کیا اس کے کیا ہی کہنے۔ ان کا لہجہ، ان کا انداز بیان، زبان پر عبور، الفاظ کا چناؤ اور اہل زبان کی طرح ان کی ادائیگی سب قابل رشک تھے۔ پہلی کلاس میں کم پڑھایا لیکن بہت ہی زبردست طریقے سے پڑھایا۔ دے سی گل کو پڑھاتے ہوئے زندگی میں کامیابی کے کئی پوشیدہ راز فلسفیانہ انداز میں بیان کیا جس کا ایک ایک لفظ آج تک مجھے یاد ہے۔

انگریزی کی یہ کلاس انگریزی زبان سیکھنے کے ساتھ ساتھ انسانیت کے گر سیکھنے کا بھی بہترین ذریعہ بن گیا۔ میں ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی صاحب کی کلاس کی طرح اس کلاس کا بھی بے چینی سے انتظار کرتا۔ یہاں میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ اس دور میں ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی صاحب آرٹس والوں کو اردو پڑھاتے تھے۔ اس پیریڈ میں ہماری فزکس کی کلاس ہوتی تھی اور میں وہ چھوڑ کر چپکے سے ان کی کلاس میں جا کر بیٹھ جاتا اور آپ کے علم سے فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا۔

اس کے بعد چند بار استاد محترم سے ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ لیکن ان کے علمی رعب اور دبدبہ کی وجہ سے کبھی کھل کر بات کرنے کی ہمت نہ ہو سکی۔ اس کے بعد میری پہلی علمی ملاقات ایک نجی سکول کے ایک انٹرویو میں ہوئی۔ پروفیسر مراد علی صاحب بھی اس انٹرویو پینل میں بطور سبجیکٹ اسپیشلسٹ موجود تھے۔ شاعری کے متعلق سوال ہوا تو میں نے رومانوی شاعری کے حق میں دلائل دیے اور نیو کلاسیکل والوں سے ان کی شاعری کو بہتر کہا۔ اس پر مراد علی صاحب نے مجھ سے اختلاف کیا۔ میں بھی اپنی بات پر ڈٹا رہا۔ شروع سے ہی بے باک جو ٹھرا۔ آخر میں مراد علی صاحب نے مجھ سے صرف اتنا کہا کہ آپ نیو کلاسیکل شاعری کو دوبارہ سے پڑھیں، آپ کو مزہ آئے گا۔

اس کے کچھ عرصہ بعد مجھے ایک کال آئی۔ دوسری طرف مراد علی صاحب تھے۔ کال کرتے ہی پوچھا کہ چترال میں ہو یا لاہور میں؟ میں نے کہا کہ سر میں چترال میں ہوں، اگلے مہینے روانگی ہے۔ حکم دیا کہ کل آ کر کلاسیں لینا شروع کرو۔ میں نے ابو کا بہانا کیا تو کہا کہ اگر تم آنا چاہتے ہو تو منیجر صاحب کو منانا میری ذمہ داری ہے۔

دوسرے دن کالج گیا تو میری کلاسیں مجھے حوالہ کر کے ضروری باتیں سمجھا دیں۔ اس کے بعد یہ کہا یہ میری لٹریچر والوں کے ساتھ کلاسیں ہیں۔ ان میں سے بھی اگر کوئی کلاس میرے ساتھ شفل کرنا چاہتے ہو تو مجھے بتا دینا۔ دوسرے دن میں نے لٹریچر کی کلاس، جو سر مراد علی پڑھا رہے تھے، کے لئے گزارش کی تو بغیر کسی سوال کے اس کلاس کی فائل مجھے دی اور میری دوسری کلاس کی فائل مجھ سے لے کر اس کلاس میں جا کر پڑھانے کا حکم صادر کر دیا۔ اس سے پہلے ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی صاحب کے ماتحت کام کر کے ایسی آسانیوں کا عادی ہونے والے انسان کو اور کیا چاہیے تھا۔ میں اکثر یہ کہا کرتا ہوں کہ اشفاق احمد صاحب کے اس مشہور جملے ”یا اللہ ہمیں آسانیاں عطا فرما اور آسانیاں بانٹنے کا شرف عطا فرما“ کو پریکٹس کرنے والے انسان ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی صاحب کے بعد اگر کوئی ہیں تو وہ پروفیسر مراد علی صاحب ہیں۔

پروفیسر صاحب ایک آسان طبع انسان ہیں۔ بحیثیت چیرمین، انگلش ڈپارٹمنٹ، وہ چیزوں کو آسان بنانے کی بھرپور کوشش کرتے۔ اپنے ماتحتوں کے لئے آسانی پیدا کرتے۔ ان کا طریقہ کار ایک لیڈر جیسا ہوتا۔ وہ کبھی بھی حاکم بن کر اپنے کولیگز کو اپنے ماتحت کر کے اپنا حکم شاہی صادر کرنے کی کوشش تک نہیں کرتے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ آج بھی سب کے پسندیدہ ہیں۔ اپنے ماتحتوں، یہاں تک کہ کلاس فور سٹاف، کے لئے بھی آسانیاں پیدا کر کے سب کو ہر لحاظ سے فائدہ پہنچانا آپ کی شخصیت کا ہی کمال تھا۔

پروفیسر مراد علی صاحب دل کے جتنے اچھے ہیں اتنے ہی فراخ دل انسان ہیں۔ ان کا یہ فلسفہ ہے کہ انسان کو اچھا کھانا کھانا اور اچھا پہننا چاہیے۔ ڈپارٹمنٹ میں سب کے لئے چائے بسکٹ منگوانا ان کا معمول تھا۔ ان کی فراخ دلی کا اندازہ آپ اس واقعہ سے لگا سکتے ہیں۔ سمیسٹر کے اینڈ میں ان کا، بحیثیت پرنسپل، تبادلہ گورنمنٹ کالج، بونی، ہوا۔ ان کی کلاسیں ہمیں دی گئیں۔ ان کلاسوں کے جو پیسے بنتے تھے وہ کلاس کے حساب سے تقسیم ہونے تھے۔ پروفیسر صاحب نے یہ پیسے سے انکار کیا اور خوشی خوشی اپنے کولیگز کو دیے، باوجود اس کے کہ زیادہ تعداد میں کلاسیں انہوں نے لی تھیں۔

پروفیسر صاحب کی ریٹائرمنٹ سے ان کی کمی ضرور محسوس کی جائے گی۔ بحیثیت پرنسپل ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ لیکن اس سے بھی بڑھ کر ان کے کولیگز اور طلباء کے لئے ان کی غیر موجودگی کسی قیمتی شے کو کھو دینے سے کم نہیں ہو گا۔ انگریزی ادب کے طلباء کے لئے وہ کسی رحمت سے کم نہ تھے۔ ان کے بغیر انگلش ڈپارٹمنٹ ادھورا لگے گا۔ گورنمنٹ کالج کے موجودہ پرنسپل، جناب پروفیسر سراج صاحب، کی خدمت میں میری مؤدبانہ گزارش ہوگی کہ دوبارہ سے ان کی خدمات حاصل کی جائیں۔ کم از کم ہفتے میں ایک دن ان کا ایک گیسٹ لیکچر رکھا جائے تاکہ انگریزی ادب کے طلبا کے ساتھ ساتھ اساتذہ بھی ان کی علمی اور ادبی باتوں سے مستفید ہو سکیں۔

Facebook Comments HS