سچ گپ
واٹس ایپ پہ موصولہ لمبے دورانیے کے کلپ میں زیادہ تر واہ کینٹ سے راولپنڈی یا اسلام آباد جاتے ہوئے دیکھتا ہوں جبکہ گاڑی ڈرائیور چلا رہا ہوتا ہے۔ اس دن بھی میں نے ایسا ہی کیا۔ کلپ کسی شاہی یا نیم شاہی تقریب کے بارے میں تھا۔ مقرر نے اصرار کے ساتھ یہ موقف اختیار کیا کہ ہمارے مسائل کی اصل ہمارے ہاں کی تعلیم کی کمی ہے۔ پہلی صف میں براجمان کوٹ پتلون میں ملبوس ایک صاحب نے اس موقع پر مقرر سے اختلاف کیا اور بولے کہ میرے خیال میں ہمارا مسئلہ تعلیم کا نہیں بلکہ تربیت کی کمی کا ہے۔ اپنی بات کی تائید میں انہوں نے ہمارے دیسی سٹائل کو اپناتے ہوئے تھوڑی تقریر بھی کی۔ اس پہ مجھے حفیظ جالندھری کا مصرعہ یاد آیا۔
ع۔ تمنا مختصر سی ہے مگر تمہید طولانی
یہ بات سننے کے بعد میرا ڈرائیور خاموش نہ رہ سکا اور اس نے انٹری ڈالی۔ بولا، سر آپ کو پتہ ہے کہ میں نے پہلے پہل دوبئی میں تقریباً دو سال خواری کاٹی ہے ( سمجھنے والے سمجھ گئے ہیں کہ وہ پشتون ہے ) ۔ میں نے اپنی کلاس سے تعلق رکھنے والے پاکستانی جن کی نہ تعلیم برابر تھی اور نہ تربیت، صبح و شام وہاں دیکھتا تھا۔ میں نے ان میں سے کسی کو بھی سڑک یا کسی اور عوامی جگہ پر کبھی اخپل مرضی کرتے ہوئے نہیں دیکھا اور کبھی کسی نے قانون سے کھلواڑ کرنے کی جرات بھی نہیں کی۔ سر جی، یہ سب لوگ جن کی ہمارے ہاں ڈسپلن سے آزاد زندگی کو صاحبان، علم یا تربیت کی کمی قرار دیتے ہیں یہی لوگ جب دوبئی یا سعودیہ میں لینڈ کرتے ہیں تو سیدھے تیر کیوں ہو جاتے۔
اب میں کیا کہتا۔ جواب تو مجھے پتہ تھا اور آپ کو بھی پتہ ہے۔ ہے ناں۔


