لندن کا حال بھی ہمارے جیسا


Dr Mushtaq Soomro UK

جب برطانیہ نے 27 رکن ممالک پر مشتمل یورپی یونین کے ساتھ 47 سالہ تعلقات کو توڑنے کا فیصلہ کیا تو زیادہ تر لوگوں کا خیال تھا کہ بحیثیت قوم اور اپنے عظیم ماضی کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کا قدم اور فیصلہ درست ہو گا اور یہ ان کے وسیع تر مفاد میں ہو گا۔ 31 جنوری 2020 کو جب طلاق کے عمل کو عملی شکل میں پیش کیا گیا تو یہ معلوم ہوا کہ سیانے کوے نے اپنی دونوں ٹانگیں پھنسا لی ہیں۔

اس بحران کے بعد جو اس دن سے ابھرا ہے اس سے نکلنے کا کوئی نام و نشان نہیں ہے۔ اب نظر آتا ہے کہ یورپی یونین سے نکلنے کے علاوہ برطانوی معاشی بحران کی کچھ اور بھی وجوہات ہیں جن میں سے کچھ جو کہ عالمی سطح پر ہیں، جیسے کہ کورونا کی وبا اور یوکرین اور روس کے درمیان تنازع، لیکن دوسرے ممالک جو آس پاس تھے اب ان عالمی بحرانوں سے کامیابی سے نکل آئے ہیں، لیکن برطانیہ اب بھی اپنے مسائل میں گھرا ہوا ہے، یہاں تک کہ میڈیا میں بہت سی عجیب خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں، بعض اوقات ایسی خبریں آتی ہیں کہ جب آپ اسے پڑھتے ہیں تو آپ کو لگتا ہے کہ آپ پاکستان میں رہتے ہیں۔

گزشتہ سال ستمبر میں جب اسکول موسم گرما کی تعطیلات کے بعد کھلنے والے تھے تو یہ معلوم ہوا کہ ان سکولوں کی تعمیر میں سستا اور غیر معیاری مٹیریل استعمال کیا گیا ہے اور اس بات کا خطرہ ہے کہ عمارتیں یا ان کا پلاسٹر گر کر بچوں کو زخمی کر دے گا۔ اس وجہ سے اسکولوں کا دوبارہ کھولنا کئی ماہ تک روکا گیا۔

2016 میں ایک ریفرنڈم کرایا گیا جس میں سادہ اکثریت سے لوگوں نے کئی برس کے مطالبے کو مانتے ہوئے یورپی یونین چھوڑنے کے فیصلے کی حمایت کی۔

اس پورے عمل کو Brexit کا نام دیا گیا، جس کا مطلب ہے برٹش اور ایگزٹ، یعنی برطانیہ کا باہر نکلنا۔ باہر نکلنے کے لیے ایک مہم چلائی گئی حالانکہ اس وقت کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون، برطانیہ کے یورپی یونین میں رہنے کے حامی تھے مگر بورس جانسن، جو لندن کے میئر بھی تھے اور ایک عوامی شخصیت سمجھے جاتے تھے، کیوں کہ شہر میں اکیلے سائیکل پر پھرتے تھے۔ بورس جانسن نے لوگوں کے جذبات سے کھیلتے ہوئے، ایک بڑی سرخ بس پر زبردست ڈرامہ کیا۔

انہوں نے یہ جملہ لکھا کہ ”ہم ہر ہفتے یورپی یونین کو 350 ملین پاؤنڈ بطور فیس دیتے ہیں اس رقم کو استعمال کرتے ہوئے ہم ہر ہفتے ایک نیا ہسپتال بنا سکتے ہیں اور پیسے بچا کر اپنے ملک کو ترقی دے سکتے ہیں۔ ریفرنڈم ہارنے کے بعد ڈیوڈ کیمرون نے فوری طور استعفا دیا تھا۔

سرخ رنگ کی بس پر نقش اس نعرے نے خوب کام کیا اور ریفرنڈم کا نتیجہ یہ نکلا کہ 51.8 فیصد افراد نے یورپی یونین چھوڑنے کے حق میں فیصلہ کیا۔ مجھے یاد ہے کہ انتخابی مہم کے دوران کسی نے اس دلفریب نعرے کے خلاف بھرپور آواز نہیں اٹھائی، لیکن چند برس کے بعد سب نے مان لیا کہ یہ جھوٹ اور ڈرامہ تھا اگر پیسہ فیس کی مد میں لیا گیا تھا، لیکن ٹیکس کی چھوٹ کی صورت میں برطانیہ مزید فوائد حاصل کر رہا تھا۔

ریفرنڈم میں جن لوگوں نے یورپی یونین چھوڑنے کے حق میں ووٹ دیا ان میں اکثریت ایسے بزرگ افراد کی تھی جو غیر ملکیوں کے برطانیہ میں آباد ہونے پر خوش نہیں تھے، ان کے فیصلے میں نسل پرستی اور سفید فاموں کی بالادستی کا اندرونی جذبہ کارفرما تھا۔ برطانیہ کے لیے تمام یورپی یونین کے لوگوں کو بغیر کسی پابندی کے ملک میں داخل ہونے کی صورتحال میں ملکی وسائل پر بوجھ زیادہ ہوتا تھا۔ خاص طور پر صحت کا شعبہ زیادہ متاثر ہوتا تھا، کیونکہ برطانیہ میں پیدائش سے لے کر موت تک ہر شخص کا علاج ہسپتالوں میں مفت کیا جاتا ہے۔ رومانیہ، پولینڈ وغیرہ کے لوگ مفت علاج کی سہولتیں حاصل کر رہے تھے۔ مشرقی یورپ کے کچھ افراد ایسے بھی پائے گئے جو مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ اس کے باوجود مشرقی یورپ کے لوگوں کا یہاں کی معیشت میں منافع بخش کردار بھی تھا۔ کیونکہ وہاں کے لوگ تعمیراتی کاموں میں بہت محنتی اور ہنر مند ہیں۔ اس کے علاوہ، الیکٹریشن، پلمبر، مستری اور بڑھئی معمولی فیس پر کام کرنے کے لیے تیار رہتے تھے۔ لیکن اب جب Brexit ہوا ہے تو ایسے سستے کاریگر ملک چھوڑ چکے ہیں جس کی وجہ سے ایسے چھوٹے موٹے کام کروانا بہت مہنگا پڑ گیا ہے۔

برطانیہ، جو جغرافیائی طور پر ایک جزیرہ ہے، فرانس کے راستے یورپی براعظم کے ساتھ تجارت کرتا ہے کیونکہ انگلش چینل کہلانے والے سمندر کے ایک ٹکڑے کو عبور کرنے کے بعد برطانیہ کی حدود شروع ہوجاتی ہیں۔ جب برطانیہ یورپی یونین میں شامل ہوتا تھا تو فرانس کے ساحل کی طرف سے آنے والے مہاجرین پر کڑی نظر ہوا کرتی تھی۔

جب غیر قانونی پناہ گزین کشتیوں کے ذریعے برطانیہ میں داخل ہونے کی کوشش کرتے تھے، تو فرانس بھی انہیں روکنے کی پوری کوشش کرتا تھا، کیوں کہ یورپی یونین سے نکلنے کے بعد فرانس کو برطانیہ کے اس مسئلے سے کوئی ہمدردی نہیں تھی، اس لیے ہزاروں افراد، بشمول شام، عراق اور دیگر جنگ سے متاثرہ ممالک کے لوگ برطانیہ میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

2020 کے بعد افغانستان سے وہ لوگ جو طالبان کے خلاف تھے اور برطانوی فوجیوں کی حمایت کرتے تھے انہیں بھی یہاں آباد کیا گیا۔ ایک پرانے انتظام کے مطابق ہانگ کانگ سے ہزاروں لوگ برطانیہ میں آ کر بسے۔ یورپی یونین کی جانب سے تجارتی ٹیکس کے نفاذ اور سہولیات واپس لینے کی وجہ سے جب آپ سپر مارکیٹ میں جاتے ہیں تو وہاں ٹماٹر نہیں ہوتے۔ اور ایک دو ماہ بعد دیکھا گیا کہ اسٹرابیری غائب ہو گئی۔

بڑے آئل ٹینکر زیادہ تر مشرقی یورپ کے ڈرائیور چلاتے تھے۔ اور وہ ڈرائیور اچھی اجرت کے لئے فرانس اور جرمنی جا کر بسے۔ اور نتیجے کے طور پر پیٹرول پمپس پر تیل کی فراہمی سخت متاثر ہوئی۔ اور صورتحال ایسی بن گئی کہ فوج سے ٹینکر ڈرائیور کو ہنگامی بنیادوں پر بلایا گیا۔

گزشتہ دس سال سے برطانیہ میں رہنے سے مجھے یہاں کی سیاست کو سمجھنے کا موقع ملا ہے کہ گزشتہ 12 سالوں سے یہاں کنزرویٹو یا ٹوری پارٹی کی حکومت رہی ہے جو عوام کے لیے بہت غیر دوستانہ ہے اور سرمایہ داروں کے مفادات کو مقدم رکھتی ہے۔ عوام کی بھلائی یعنی تعلیم اور صحت پر ہونے والے اخراجات میں نمایاں کمی لائی جا چکی ہے۔ جس کی وجہ سے جب کورونا کی عالمی وبا آئی تو بہت نقصان ہوا جس کی مثال ترقی یافتہ دنیا میں کم ہی ملی۔

یہاں 2 لاکھ 32 ہزار افراد ہلاک ہوئے جن میں سینکڑوں ڈاکٹر اور نرسیں شامل ہیں۔ مارچ 2020 میں جب دنیا کے بیشتر ممالک اس وبا سے متاثر ہوئے تھے اور لاک ڈاؤن کر دیا تھا تو اس وقت کے وزیر اعظم بورس جانسن کی حکومت نے جان بوجھ کر لاک ڈاؤن کے حکم میں دس سے بارہ دن کی تاخیر کی تھی۔ کورونا کی وبا یہاں اپنے زور و شور سے لوگوں کو مار رہی تھی، حالت یہ تھی کہ روزانہ 1500 سے 1800 لوگ مر رہے تھے۔ متکبر اور خود کو جینئس سمجھنے اور ماہر ڈاکٹروں اور سائنسدانوں کی رائے کو اہمیت نہ دینے کی وجہ سے وزیراعظم بورس جانسن خود بھی کورونا وبا کا شکار ہو گئے اور کئی روز تک ہسپتال میں داخل رہے۔ ڈاکٹروں نے بڑی مشکل سے اس کی جان بچائی۔

اس وبا کے دوران برطانیہ کی حکومت کی ناقص کارکردگی کی تحقیقات تاحال جاری ہیں، جس کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ وبا کے دوران جب پورا ملک لاک ڈاؤن میں تھا اور پولیس نے سختی سے لوگوں کو گھروں تک محدود رکھا ہوا تھا۔ خلاف ورزی کے معاملے پر جرمانے بھی عائد کیے گئے۔ مگر معلوم ہوا ان دنوں بورس جانسن اور ان کے ساتھی وزیر اعظم گھر میں مے نوشی کی ضیافتوں سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ زیادہ بدنامی سے بچنے کے لئے کنزرویٹو پارٹی نے اپنے ہی وزیر اعظم کو ہٹا کر رشی سناک کو وزیر اعظم بنا دیا۔ وہ وزیر خزانہ تھے، برطانیہ کے لوگوں کو رشی سناک سے بہت امیدیں تھیں کہ وہ آ کر ہمیں معاشی بدحالی سے نکالے گا، لیکن جیسے جیسے علاج ہوتا گیا، بیماری بڑھتی گئی۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کئی ایسی ویڈیوز موجود ہیں جن میں لوگوں نے دیوان کو اپنے سامنے آتے دیکھا اور ”رشی سناک استعفیٰ دے کر گھر جاؤ“ کے نعرے لگائے اور رشی سناک جلدی جلدی سے اپنا چہرہ چھپاتے ہوئے تیزی سے گزرنے میں کامیاب ہو گئے۔

مصنف لندن کے قریب رہنے والے ایک پیشہ ور ڈاکٹر ہیں اور ایک آزاد مصنف بھی ہیں جو سندھی، اردو اور انگریزی میں لکھتے ہیں۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر مشتاق سومرو، برطانیہ

ڈاکٹر مشتاق سومرو دس سال سے برطانیہ میں مقیم ہیں اور سندھی کے ساتھ انگریزی اور اردو میں بھی لکھتے رہتے ہیں۔

dr-mushtaq-soomro-uk has 3 posts and counting.See all posts by dr-mushtaq-soomro-uk