سلیم رضا ٹھاکر کا پنجابی ناول: ’مانتا‘


Shabeer Dar Advocate Gujrat

مانتا ناول کا آغاز بالکل تنہائی کے سو سال کی مانند ہوتا ہے، یعنی ایک اہم واقعہ جس کی نسبت سے کہانی کا آغاز ہو۔ ہم عہد نامہ عتیق کی کہانیوں میں بھی یہ طرز تحریر پاتے ہیں۔ کہ کس طرح ”عظیم سیلاب“ سے پہلے کی دنیا اور اس کے بعد کی دنیا۔ بالکل جادوئی حقیقت نگاری کی طرز پرایک ایسا برگد کا درخت جس کی چھاؤں میں بیٹھ کر پورے گاؤں کی آبادی مع چرند و پرند اپنی زندگی کے ماہ و سال گزارتے ہیں۔

اس روز مرہ کی زندگی کی عکاسی بھی مصنف نے ایک آئیڈیل کی سی کی ہے۔ گاؤں میں بسنے والے تمام طبقات اس برگد کی چھاؤں سے استفادہ کرتے ہیں۔ تمام گاؤں والوں کی زندگی کے اہم واقعات برگد کے زمین بوس ہونے سے پہلے اور بعد کے وقت سے کرتے ہیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے کھوج کاروں کی رپورٹ کے مطابق اس وقت کے ہندوستان میں برگد کے اتنے بڑے درخت موجود تھے، جن میں تین چار گاؤں سما سکتے تھے۔ جن کی تصاویر ایشیاٹک سوسائٹی کے جرنلز میں موجود ہے۔

گاؤں والوں کی طرح پرندوں کا بھی اس برگد پر انحصار تھا، جن کی حالت زار کا نقشہ ٹھاکر صاحب نے برگد کے گرنے کے بعد کا کھینچا ہے۔ جو کسی بھی بڑے المیہ سے کم نہیں ہے۔ بلکہ آج کے ماحولیاتی آلودگی کے مضر اثرات جس طرح ہماری زندگی پر اثر انداز ہو رہے ہیں، اس کی تصویر کشی کے لیے ہمیں نیشنل جیوگرافک پڑھنے کی ضرورت نہیں بلکہ اس ناول کا مطالعہ ضروری ہے۔

اس ناول کا مرکزی کردار ”مانتا“ سلو لرنر ہے، جو کہ پڑھائی میں کمزور ہے اور دیر سے چلنا اور بولنا سیکھتا ہے، ناول نگار نے اس کے بچپن اور سکول میں ”مانتا“ کی پڑھائی کے مسائل کی ایک ماہر تعلیم دان کے روپ میں کردار کشی کی ہے۔ آج کی جدید دنیا میں A، D، H، D کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ ناول کا بڑا اہم حصہ ہے۔ اگر مجھے روز سبق نہیں آتا تو ماسٹر مجھے روز کیوں مارتا ہے، ماسٹر یہ کیوں نہیں سمجھتا کہ مجھے اس کی سمجھ ہی نہیں آتی؟ ماسٹر یہ کیوں نہیں سمجھتا کہ مجھے learning by heart نہیں ہوتا، اگر مجھ سے یہ سب کچھ نہیں ہوتا، تو ماسٹر مجھے بے قصور مار پیٹ کرتا ہے، ماسٹر کو کیوں سمجھ نہیں آتی کہ ”مار کا کوئی فائدہ نہیں ہو رہا۔

یہ تعلیمی نظام کی سمجھ جدید دنیا کو 1960 کی دہائی میں آئی تو انہوں نے جسمانی سزا کو ختم کر دیا۔ ناول کا یہ حصہ میرے خیال میں آج کل کے مدرسوں کے اساتذہ کو لازمی پڑھنا چاہیے اور والدین جو اپنے بچوں کو ڈاکٹر اور انجینئر بنانے کے علاوہ اور کسی پیشے پر راضی نہیں ان کو بھی اس کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ چائلڈ ابیوز جو کہ سکولوں میں ہوتی ہے اس کا نقشہ بھی بہت اعلی کھینچا گیا ہے۔

ایک معصوم طالب علم اپنے والدین سے پوچھتا ہے کہ ”ماسٹر نے تین سال اس پر جسمانی اور روحانی تشدد کیا، اس کے باوجود وہ اسے اپنا نام لکھنا بھی نہیں سکھا سکا، اس تین سالہ بے عزتی کا حاصل کیا ہوا؟

ہمارے تعلیمی نظام کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ بچوں کو مادری زبان میں تعلیم نہیں دی جاتی۔ یونیسکو اور بہت سے ماہرین لسانیات اس پر متفق ہیں کہ سب سے تیزی سے علم کا حصول بچوں کی مادری زبان ہی کے ذریعے ہو سکتا ہے۔ بچوں کے لیے ’مج‘ کو بھینس سمجھنے میں دشواری پیش آتی ہے، ’کھوتی‘ کو گدھی سمجھنا اس کے لیے مشکل ہے۔ مڑے کو لڑکا کہنا بھی اس کی سمجھ سے باہر ہے۔

ایک معصوم طالب علم اپنے آپ سے سوال کرتا ہے کہ جب مجھے ارد گرد کی تمام چیزوں کے نام آتے ہیں تو پھر ان ناموں کو مجھے پرائی زبان میں کیوں یاد کروایا جاتا ہے۔

میرے خیال میں اجنبی اور پرائی زبان کی بحث ہی پاکستان ٹوٹنے کی پہلی وجہ بنی تھی۔ اردو تین فیصد لوگوں کی زبان کو باون فیصد بنگلہ پر جب نافذ کرنے کی کوشش کی گئی۔ اگر ملک کا ایک حصہ اجنبی زبان کو مسلط کرنے سے علیحدہ ہوجاتا ہے تو پھر ہمارا کم خواندگی کا مسئلہ بھی اس سے جڑا ہوا ہے۔ اگر عوام کو ان کی مادری زبان میں تعلیم دی جائے تو خواندگی اگلے دس سالوں میں 100 % ہو جائے گی۔

ناول کا ہیرو جونہی ہمارے روایتی سکول سے نالائق ہونے کی بنا پر روایتی پڑھائی سے فارغ ہوتا ہے تو وہ اپنا تمام کام کھیتی باڑی اور مویشیوں کی دیکھ اتنی خوبصورتی اور کفایت سے کرتا ہے کہ وہ جلد مویشیوں کا ایک خوبصورت اور مکمل یونٹ بنا دیتا ہے۔ جبکہ ہمارا روایتی تعلیمی نظام اسے پانچ سال ڈنڈے مارتا اور پھر نالائق قرار دے کر فارغ کر دیتا ہے۔

یہاں پر سلیم ٹھاکر ہمارے ذہنوں کو جھنجوڑتا ہے کہ تعلیم کا مقصد محض چیزوں کو غیر مادری زبان میں رٹنا نہیں بلکہ ان کے جوہر کو سمجھنا ہے۔ مصنف ہمیں اپنے ناول کے ہیرو کے ذریعے خواندہ بنانے کی کوشش کرتا ہے اور ریاست کے نظام تعلیم پر گہری چوٹ کرتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو صحیح معنوں میں تعلیم یافتہ بنانے میں ناکام ہو گیا ہے۔

مصنف نے ایک ماہر اینتھروپالوجسٹ ہوتے ہوئے اپنے سماج کی سوشل اکنامک زندگی کی عکاسی بڑی مہارت سے کی ہے۔ بارانی زمینوں کے کاشتکاروں کے مسائل اور اپنی معاشی زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے انہیں زمین اور مویشیوں کے علاوہ فوج میں ملازمت کرنی پڑتی ہے تب جا کے معاشی دائرہ مکمل ہوتا ہے۔

ناول کا ہیرو مانتا اپنے دراز قد اور مضبوط جسم کی وجہ سے باآسانی فوج میں بھرتی ہوجاتا ہے۔ جس سے اس کے گھر میں مالی آسودگی آ جاتی ہے، لیکن وہ اپنی آسودگی میں دوسروں کو بھی شریک کرتا ہے۔ وہ فراغ دلی سے وہ فروٹ جو چھٹی آتے ہوئے گھر لے کر آتا ہے، اپنے گاؤں والوں میں تقسیم کرتا ہے۔ اپنے لائق دوستوں کے لیے وہ لنڈ کوتل کی بنی ہوئی لالٹینیں لاتا ہے، جس سے ان کی پڑھائی میں سہولت پیدا ہوتی ہے۔

الغرض وہ ہر قسم کے لالچ، تعصب اور حسد سے پاک ہے۔ یہی ایک آئیڈیل ہے جس کی تصویر کشی مصنف نے بڑی مہارت سے کی ہے۔

Facebook Comments HS