شاہد صدیقی صاحب کا طلسم
شاہد صدیقی صاحب کو پڑھتے ہوئے مجھے اپنے آنگن میں اترتی ہوئی وہ شامیں یاد آئیں کہ جب ٹیلی ویژن سیٹ چلانے کے لیے ہم بچہ پارٹی مل کر گھر والوں کے ساتھ اہتمام کیا کرتے تھے۔ کچی مٹی کے صحن میں چھڑکاؤ کرنے کے لیے نلکے سے بالٹی بھر بھر لانی، چھڑکاؤ کرنے کے بعد گیلی مٹی سے اٹھتی ہوئی مہک سارے گھر میں پھیل جاتی تھی، ٹی وی کے ارد گرد چارپائیاں بچھا دینی، چارپائیاں پر کھیس اور تکیے۔ اور نہ جانے کیا کیا طلسماتی سی فضا بن جایا کرتی تھی اور اس طلسماتی سی فضا میں ”الف لیلیٰ“ ٹی وی پر دیکھی جاتی تھی۔ اس داستان کا ایک جملہ ہمیشہ ساتھ ساتھ چلتا رہا۔ شاہد صدیقی صاحب کو پڑھتے ہوئے بے طرح ”الف لیلیٰ“ کا وہ جملہ یادوں میں گونج اٹھا جو کسی ٹی وی اداکار کی گمبھیر آواز میں گونجتا ”پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا، ورنہ پتھر کے ہو جاؤ گے“ تو ہم سہم سہم جاتے اور کوشش کرتے کہ پیچھے مڑ کر نہ دیکھیں۔ سوچتا ہوں کہ شاہد صدیقی صاحب نے تیس برس پر محیط اس طلسم کو کیسے توڑا۔ یہ آساں تو نہ تھا۔ انتظار حسین نے بھی تو ایک جگہ لکھا ہے کہ چڑیاں، پیڑ اور پرندے اگر نہ پہچانیں تو دکھ ہوتا ہے اور اگر پہچان لیں تو تکلیف ہوتی ہے۔ نہ پہچان سکنے اور پہچان لینے دونوں صورتوں میں بندہ کہیں کا نہیں رہتا۔
شاہد صدیقی صاحب نے کم و بیش پچیس تیس برس بعد ٹورنٹو اور مانچسٹر کی مانوس گلیوں میں قدم رکھا کہ جہاں ان کے زمانہ طالب علمی کے دن گزرے تھے۔ اب اتنے زمانوں بعد کس نے پہچانا اور کس نے نہ پہچانا یہ سوال اہم نہیں ہے۔ اصل ماجرا اس کی یافت کا ہے۔ حال اور ماضی کے اس تانے بانے نے ان کی اس کتاب ”ٹورنٹو، دبئی اور مانچسٹر“ کو دل ربائی عطا کی ہے۔ عام طور پر لکھنے والے اپنی سیاحت، قیام اور مشاہدے کے فوری تاثرات لکھ ڈالتے ہیں لیکن شاہد صدیقی کے ہاں تیس برس کی تپسیا موجود ہے۔ اس برسوں کی تپسیا میں سے وہی برآمد ہوا، جو بہت حد تک گیان کی سطح کو پہنچا ہوا تھا، فوری اور تازہ تر واردات کا شاخسانہ نہیں تھا۔
اور پھر اپنے منیر نیازی بھی تو کہہ گئے
واپس نہ جا وہاں کہ ترے شہر میں منیر
جو جس جگہ پہ تھا، وہ وہاں پر نہیں رہا
شاہد صدیقی صاحب نے نہ منیرنیازی کی اس بات پر کان دھرا کہ واپس نہ جا، نہ وہ ”الف لیلیٰ“ کے طلسم کو کسی خاطر میں لائے اور پکارتے ہوئے درختوں، پرندوں، بارشوں اور دھیرے دھیرے ہوتی رم جھم کی آواز کو پلٹ کو دیکھنے کا حوصلہ کیا اور نہ ہی انتظار حسین کے اس اندیشے کو انھوں نے سامنے رکھا کہ اگر چڑیوں، پیڑوں، دیواروں اور پرندوں نے نہ پہچانا تو کیا ہو گا۔ وہ ایک زمانے کا دریا عبور کر کے دوسری سمت اترے کہ جہاں ان کے ماضی نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ اپنے گزرے ہوئے وقت کو شہروں میں تلاش کرنا اور پھر اس کا سامنا کرنا کیا نشاط انگیز ہو سکتا ہے؟ اس اہم سوال کے جواب کے لیے آپ کو اس کتاب کی سمت آنا پڑے گا۔ بیتے ہوئے سمے کا دکھ کیسا ہوتا ہے؟ اس دکھ کی آنچ محسوس کرنے کے لیے بھی اس کتاب کی اوراق میں جھانک کر دیکھنا ہو گا۔
زمانی فاصلے کرداروں کو دل ربا بنا دیتے ہیں۔ جدائی اور نہ مل سکنے کا تیقن بھی کرداروں کو بقائے دوام کی سی منزلت دے سکتا ہے۔ اس کتاب میں کچھ ایسے ہی دل ربا کردار موجود ہیں کہ جو زمان و مکاں کا فاصلہ طے کر کے بھی یادوں ہی کی صورت میں مصنف کو ملے اور یہی یاد بھری ملاقاتوں کا احوال اس کتاب کے کرداروں کو دل ربائی عطا کر گیا۔ اس کتاب پر لکھنے والے ہر شخص نے پروفیسر راج، پاروتی اور جمیلہ کا تذکرہ کیا ہے۔ پاروتی کی دل ربائی اس کے نہ ہونے کے باوجود اس کے ہونے کے سبب سے ہے۔ اس کتاب کا کم وبیش ہر کردار یہی رمزیت اور ما بعدالطبعیات رکھتا ہے۔ چاہے وہ کردار مصنف کو مانچسٹر سے ہزاروں میل دور بہاول پور کے معروف محل میں ایستادہ آئینے میں پل بھر کو دکھائی دے جائے یا ان کھلی کھڑکی کی دوسری سمت آباد تخیل کے جہان سے وہ کردار مصنف کی طرف جھانک رہا ہو، اس کتاب کے کردار یہی رمز رکھتے ہیں۔ مصنف نے ایک منظر، ایک کردار، ایک شہر اپنی یادوں میں بسایا ہے اور ہم کو وہ اس آباد شہر میں لے گئے ہیں، وہاں کے رہنے والوں سے، وہاں کے مناظر سے ہمیں ملوایا ہے۔ ہمارا ان سے تعارف کروایا ہے اور کہیں یہ نہیں کہا کہ یہ صرف میری دنیا ہے۔ ہمیں محسوس ہوا ہے کہ یہ ہماری دنیا بھی ہے۔
”یہ کتاب مختلف شہروں کے گلی کوچوں اور وہاں کے بسنے والے دل ربا کرداروں کا احوال ہے جن سے میں اپنی زندگی کے مختلف ادوار میں آشنا ہوا اور جن کی خوشبو غیر محسوس طریقے سے میرے ہمراہ ہو گئی۔ کہتے ہیں وقت ایک دریا ہے جو ازل سے رواں ہے اور ابد تک بہتا رہے گا۔ اس کا بہاؤ کچھ منظروں کو مٹاتا اور کئی نئے مناظر تخلیق کرتا ہے۔ یہ کہانیاں ان نقوش کو یکجا کرنے کی تمنا ہے وہ وقت کے دریا کے گزر جانے کے بعد خوش رنگ سیپیوں کی صورت باقی رہ گئے ہیں۔ انھیں خوش رنگ سیپیوں کے درمیان بیٹھا میں ان دنوں کی محبت اور رسان سے یاد کرتا ہوں جو مجھ سے بچھڑ گئے لیکن جن کی نرم شیتل چاندنی میرے اندر ٹھہر گئی ہے۔“ جہاں کہیں انھیں محسوس ہوا کہ یہ اب وہ جہان نہیں ہے تو وہاں وہاں ہم بھی مصنف کے ساتھ خاموش ہو کر بیٹھ گئے ہیں اور خالی نظروں سے اس نرم شیتل چاندنی کو دیکھ رہے ہیں۔



