علامہ اقبال اور ہائیڈل برگ میں شبنم اور ستاروں کا ایک مکالمہ

کبھی کبھی یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم نے بہ طور اقبال شناس اور بہ طور قوم اس عالی دماغ کے پیغام کو تو رسمی طور پر بہت غیر معمولی طور پر اہمیت دی لیکن بہ طور فن کار ہم نے کبھی انھیں جاننے کی زیادہ کوشش نہیں کی۔ اس رویے کا نتیجہ یہ نکلا کہ اقبال بہ طور مفکر تو بہت بلند ہوتے چلے گئے لیکن بہ طور تخلیقی فن کار ہم ان سے زیادہ آشنا نہ ہو سکے۔

Read more

گستاخ منٹو کی پذیرائی

”معتوب منٹو، رجعت پسند منٹو، فحش نگار منٹو، غیر ترقی پسند منٹو، لاشوں کی جیبوں سے افسانے نکالنے والا منٹو، بے رحم اور سفاک منٹو، نرگسیت پسند منٹو، ذہنی عدم توازن کا شکار منٹو، سماج پر بوجھ منٹو، لطیفہ باز، یاوہ گو، سنکی، فحش نویس، دہشت پسند۔“ نہ جانے اس طرح کے کتنے من چاہے اور من پسند تمغے اپنی زخمی روح پر سجائے منٹو یہ کہتا ہوا اس جہان سے رخصت ہوا کہ اب یہ ذلت ختم ہونی چاہیے۔

Read more

علامہ اقبال، ہائیڈل برگ اور ‘ایک شام’

‘بانگِ درا’کے حصہ دوم میں شامل نظموں اور غزلوں کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا قدرے دشوار سا ہے کہ ان میں سے کون کون سی نظم یا غزل جرمنی میں قیام کے دوران لکھی گئی ہو گی، ان کی نظم ‘ایک شام’میں چونکہ ذیلی عنوان میں دریائے نیکر کی صراحت موجود ہے، اس لیے ہر کوئی جانتا ہے کہ انھوں نے یہ نظم ہائیڈل برگ میں اپنے زمانہ قیام کے دوران کہی. جرمنی اور اقبال کے باہمی روابط اور

Read more

مرزا ابن حنیف: مرد افگن عشق

یہ کیسا ستم ہے جو مجھے اب بھی محسوس ہوتا ہے کہ جب میں ملتان جاؤں گا تو بیکن بکس کے سامنے یا کہیں آس پاس ابن حنیف مجھے نظر آ جائیں گے۔ سیاہ رنگ کا چھوٹا سا پرانا بیگ دائیں بغل میں دابے، سفید کرتا اور شلوار پہنے، سڑک سے کچھ ہٹ کر سر جھکائے ہوئے، ارد گرد سے بالکل بے خبر اور بے نیاز ہو کر پیدل چلتے ہوئے مل جائیں گے۔ میں ایک دم ان کے سامنے

Read more

شاہد صدیقی صاحب کا طلسم

شاہد صدیقی صاحب کو پڑھتے ہوئے مجھے اپنے آنگن میں اترتی ہوئی وہ شامیں یاد آئیں کہ جب ٹیلی ویژن سیٹ چلانے کے لیے ہم بچہ پارٹی مل کر گھر والوں کے ساتھ اہتمام کیا کرتے تھے۔ کچی مٹی کے صحن میں چھڑکاؤ کرنے کے لیے نلکے سے بالٹی بھر بھر لانی، چھڑکاؤ کرنے کے بعد گیلی مٹی سے اٹھتی ہوئی مہک سارے گھر میں پھیل جاتی تھی، ٹی وی کے ارد گرد چارپائیاں بچھا دینی، چارپائیاں پر کھیس اور

Read more

زاہد ڈار کی لاجونتی: ”وہ بس گئی، پر اجڑ گئی“

پاک ٹی ہاؤس اور زاہد ڈار کے بارے میں اب سوچتا ہوں تو ایسے ہی کبھی کبھار یہ خیال آتا ہے کہ محض عورتیں ہی اغوا نہیں ہوتیں، جگہیں اور مقامات بھی اغوا ہو جایا کرتے ہیں۔ فقط مغویہ عورتیں ہی بازیاب نہیں ہوا کرتیں، کچھ مغویہ عمارتیں، خیالات اور احساسات بھی بازیاب ہو جایا کرتے ہیں اور اس بازیابی کی کہانی بہت درد ناک اور الم انگیز ہوا کرتی ہے۔ بیٹھے بٹھائے آپ کو معلوم ہو کہ جہاں آپ

Read more

منیر نیازی: شہر کی فصیلوں میں جڑا ہوا ایک پراسرار داخلی دروازہ

ان دنوں منیر نیازی صاحب کالج کے کسی طالب علم سے ملنے پر آمادہ نہیں تھے، چاہے وہ طالب علم گورنمنٹ کالج، لاہور کا ہی کیوں نہ ہو۔ بہ طور مدیر ’راوی‘ مجھے ان سے ملنا تھا اور ان کی کوئی غزل یا نظم لے کر چھاپنی تھی۔ میں انھیں نیو ہاسٹل کے مرکزی دروازے پر رکھے کالے رنگ کے پرانے، گھما گھما کر نمبر ڈائل کرنے والے سیٹ سے فون کرتا تو وہ ہر بار طرح دے جاتے ”میری

Read more

طارق فارانی: بانسری آپ کے ہجر میں روئے گی

کیا کبھی آپ نے کسی ایسے شخص کو دیکھا ہے کہ جس کو دیکھ کر یہ احساس ہو کہ زندگی اپنے تمام تر پس منظر کے ساتھ قدم اٹھا رہی ہے، روایت کی طاقت اس کے قدموں کی نرم خوئی میں رواں ہے، فن کے اعلیٰ مدارج کو چھو لینے کے بعد از خود پیدا ہونے والی بے نیازی اس کی نگاہ ناز میں بے پروا انداز میں خرام کر رہی ہے، بھولی بسری باتیں اس کو دیکھ کر یاد

Read more