اساتذہ، امتحان، نقل اور شاگرد


پاکستان بالخصوص ان دنوں پنجاب کے سرکاری سکولوں میں امتحانات میں نقل وہ بھی اساتذہ کی نگرانی میں ایک حیران کن اور افسوسناک بات ہے۔ حیران کن اور افسوسناک اس وجہ سے کے شاگرد خود کریں تو اور بات ہوتی ہے مگر ایک استاد جب خود سہولت دے تو ایسے شاگرد سے مستقبل میں آپ کیسے ”کرپشن فری پاکستانی شہری“ ہونے کی امید رکھ سکتے ہیں۔

کچھ دن پہلے میٹرک کے امتحانات ہوئے تو پنجاب لیول پر سکولوں میں ہونے والی نقل پر ایکشن بھی لیا گیا مگر کیا کریں کہ ہم بطور پاکستانی جگاڑ لگانے کو فخر سمجھتے ہیں، جیسے بچپن میں بچے کامیابی سے نقل لگا کر امتحان پاس کر لیں اور خوشی محسوس کریں، ایسے ہی اساتذہ بھی کوئی حل نکال ہی لیتے ہیں، جیسے کوئی معرکہ سر کر لیا ہو۔

اب وجہ کیا ہے اساتذہ کیوں نقل لگواتے ہیں تو معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ رزلٹ برا آئے تو متعلقہ اساتذہ کی سالانہ کار کردگی خراب ہوتی ہے۔ مگر میں نے یہی سوال آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے کیا جس پر مختلف جوابات میں سے یہ تھا کہ نامناسب تعلیمی نظام، اور معیاری تعلیم کی کمی جیسے عوامل اساتذہ کو نقل لگوانے پر مجبور کرتے ہیں۔ اگر سٹوڈنٹ خود سے نقل لگائیں تو اس کا ذمہ دار بھی ناقص تعلیمی نظام کے ساتھ ساتھ سماجی دباؤ اور معاشرتی اخلاقی انحطاط کو بتایا گیا جو کے وقت کے ساتھ ساتھ روایت بن جاتی ہے۔

حقائق کو مزید جاننے کے لیے قریبی سکولوں امتحانات دینے والے میٹرک اور کچھ انٹرمیڈیٹ کے طلباء سے دوستانہ انٹر ویو لیا کہ واقعہ ہی نقل کا ماحول ہے تو بڑی خوشی و انبساط سے بتانے لگے کہ شکر ہے دو گھنٹے نقل کے لیے دیے گئے ورنہ ناکامی مقدر بن جاتی۔

درج بالا تحریر حقائق پر مبنی ہے اور لوکل گاڑی میں سفر کرتے ہیں خواتین اساتذہ جو کہ ہائر سیکنڈری لیول پر خدمات سرانجام دے رہیں تھیں کی گفتگو سے اخذ کی گئی ہے۔ جبکہ زیادہ تشویش ان خاتون اساتذہ کو یہ تھی کہ پنجاب حکومت اب کیمرے لگوا کر مانیٹرنگ کو بند و بست کر رہی تو اب اس کا جگاڑ کیسے لگایا جائے۔

مسئلہ ہے یہ نہیں کہ نقل لگی یا نہیں مگر قابل فکر بات یہ کہ اساتذہ کے مکمل تعاون سے نقل لگوائی گئی۔ ذرا تصور کریں مستقبل میں یہ طلباء ایمانداری کے کون سے پیمانے پر پورا اتریں گے اور پاکستانی اداروں یا معاشرے میں کیا مثبت قرار ادا کریں گے یہ آپ بہتر قیاس آرائی کر سکتے ہیں۔

نوٹ : جیسے سب انسان ایک جیسے نہیں ویسے سب اساتذہ بھی ایک جیسے نہیں۔ میں ذاتی طور پر ایسے اساتذہ کو جانتا ہوں جو بچوں کو ایمانداری سے سال بھر پڑھاتے ہیں اور کمرہ امتحان میں اپنے زور بازو کو استعمال کرنے کا کہتے ہیں

Facebook Comments HS