یونیورسٹیاں واقعی شعور دیتی ہیں لیکن امریکہ میں


اس وقت دنیا میں بہت کچھ ہو رہا ہے جس کا علم ہمیں اس وجہ سے نہیں ہوتا کہ ہمارا میڈیا ہمیں عمران خان، شریف فیملی، زرداری فیملی، فضل الرحمن فیملی کی فضیلتوں، کرپشن، فیشن، ہوس، پروٹوکول اور خواہشات کے سوا کچھ اور نہیں دکھا رہا۔ سارا میڈیا اپنے اپنے مالک، ہیرو، لیڈر اور فنانسر کو حاجی بنانے اور دوسروں کو غدار ثابت کرنے کے مشن پر متعین ہے۔ ہماری ساری نوجوان نسل شخصیت پرستی کا شکار ہے۔ اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں ہے کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے اور مستقبل قریب میں جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے اس کا ان پر یا ان کے ملک پر کیا اثرات ہوں گے۔

نوجوان نسل کو شاید یہ بھی پتہ نہ ہو کہ امریکہ اس وقت ڈیٹ ٹریپ میں آ چکا ہے اور اس کا حاصل کیا گیا قرضہ سینتیس ٹریلین ڈالرز سے زیادہ ہو گیا ہے۔ جبکہ قرض حاصل کرنے کی آخری حد 31.4 کھرب ڈالر تھی جو امریکن کانگریس نے مقرر کی ہے۔ موجودہ قرضہ اس کی جی ڈی پی سے بھی ستر فیصد زیادہ ہے۔ امریکہ کے تمام معاشی اور صنعتی سیکٹروں پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ یہ تو خیر امریکہ کا اپنا مسئلہ ہے۔ مگر جس مسئلہ نے اس سے بھی زیادہ اس وقت امریکہ کے حکام اور پہلی مرتبہ امریکی فوج کے ناک میں دم کیا ہوا ہے۔ وہ ہے امریکہ کی بڑی یونیورسٹیوں میں غزہ کی صورتحال اور اسرائیل کے بھیانک جنگی جرائم اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف مسلسل احتجاج۔ اس احتجاج میں صرف طلبا شریک نہیں ہیں بلکہ ان یونیورسٹیوں کے اساتذہ بھی شریک ہیں۔ امریکہ کی پچاس ریاستوں میں ہزاروں کی تعداد میں یونیورسٹیاں ہیں جہاں امریکی شہریوں سمیت دنیا بھر سے طلبا پڑھنے اور تحقیق کرنے جاتے ہیں۔ ان یونیورسٹیوں کا امریکہ کی ترقی میں بنیادی اور کلیدی کردار ہے۔

ان امریکی یونیورسٹیوں نے ایسا نہیں ہے کہ پہلی مرتبہ کسی عالمی مسئلہ پر احتجاج کیا ہو اس سے پہلے بھی امریکن یونیورسٹیوں نے امریکہ کے فیصلہ سازوں کو اپنے فیصلے بدلنے پر کئی بار مجبور کیا ہے۔ جس کی سب سے بڑی مثال ویت نام جنگ کے خاتمے کی ہے۔ ویت نام جنگ کے خاتمے کے لیے امریکن یونیورسٹیوں نے اتنا شدید احتجاج کیا تھا کہ امریکہ میں پہلی بار فوج کو بہت ساری یونیورسٹیوں میں احتجاج روکنے کے لیے بلایا گیا تھا۔

ویت نام جنگ کے وقت کے احتجاج اور اس احتجاج میں ایک قدر مشترک یہ ہے کہ اس وقت بھی طلبا اور اساتذہ نے اپنے اداروں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ان کمپنیوں سے دستبردار ہو جائیں جو ان کے بقول ویت نام جنگ میں کسی نہ کسی حیثیت میں شریک ہیں اور یونیورسٹیاں ان کو سہولت مہیا کرتی ہیں اور اب بھی طلبا اور اساتذہ اپنی یونیورسٹیوں سے یہی مطالبہ دہرا رہے ہیں کہ وہ ان کمپنیوں کے ساتھ شراکت سے دستبردار ہوجائیں جو غزہ پر وحشیانہ جنگ کو فعال کر رہی ہیں۔

یہ سوال بڑا اہم ہے کہ یونیورسٹیوں اگر ان اداروں کے ساتھ اشتراک ختم کرتی ہیں تو اس سے کیا ہو جائے گا۔ اس وقت امریکہ کی دو سو سے زیادہ کمپنیاں ایسی ہیں جو اسرائیل کو اس جنگ میں مختلف سہولیات اور معاونت فراہم کر رہی ہیں۔ یہ ساری کی ساری کمپنیاں کسی نہ کسی بڑی یونیورسٹی کے تحقیقی اور پیداواری اشتراک سے کام کر رہی ہیں۔ اگر ان کا معاہدہ یونیورسٹیوں کے ساتھ ختم ہوجاتا ہے تو ان کی حیثیت مکمل ختم ہو جائے گی۔

اور وہ اپنی خدمات، اسلحہ اور آئی ٹی سپورٹ دینے سے محروم ہوجائیں گی۔ یہ کمپنیاں اس وقت جس کاروبار سے وابستہ ہیں اس کی مالیت ٹریلین ڈالرز میں ہے۔ یہ اسلحہ سے لے کر اسرائیلی مصنوعات اور ٹیکنالوجی کو دنیا میں فروخت کرنے اور ان تمام کاروباروں کو چلانے میں بنیادی کام کر رہی ہیں۔ ویت نام کے جنگ کے خلاف پہلی آواز کولمبیا یونیورسٹی سے اٹھی تھی۔ جب اس کے ایک کیمپس میں پہلی مرتبہ سینکڑوں طلبا نے احتجاجی دھرنا دینا شروع کر دیا تھا۔

اس بار بھی کولمبیا یونیورسٹی سے احتجاج شروع ہوا اور تیزی کے ساتھ امریکہ کی دیگر بڑی یونیورسٹیوں ہارورڈ، ییل، ٹفٹس، نارتھ ویسٹرن، یونیورسٹی آف ٹیکساس، میساچوسٹس، ایموری، جارج واشنگٹن یونیورسٹی، ییل یونیورسٹی، یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا، جارجیا سٹیٹ اور دیگر یونیورسٹیوں اور کالجوں میں یہ احتجاج پھیل گیا ہے جس میں ہر روز شدت آ رہی ہے۔ اس احتجاج کو روکنے کے لیے امریکن انتظامیہ مسلسل طاقت کا مظاہرہ کر رہی ہے اور طلبا اور اساتذہ کو گرفتار کر رہی ہے اور تشدد پر اتر آئی ہے۔

یہ احتجاج اس وقت اتنا منظم اور شدید ہے کہ امریکن صدر کو بار بار ٹی وی پر آ کر اس پر بات کرنا پڑ رہا ہے۔ امریکہ جو اسرائیل کا سب سے بڑا حامی ہے اور سلامتی کونسل سے لے کر ہر فارم پر اس کا دفاع کر رہا ہے اور اسرائیل پر کسی بھی ملک کے حملے کو امریکہ پر حملہ قرار دیتا ہے۔ اس کے لیے مشکلات کسی اسلامی ملک نے پیدا نہیں کیے، ایران اور اسرائیل کے مابین ایک مصنوعی جنگی فضا گزشتہ پانچ دہائیوں سے بنائی جا رہی ہے مگر پروکسی وار سے زیادہ اس میں ایران نے بھی زیادہ دلچسپی نہیں لی۔

عرب ممالک نے بھی حالیہ اسرائیل، حماس جنگ میں خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ اس وقت جس بڑے پیمانے پر اس سلسلے میں احتجاج ہو رہا ہے وہ صرف امریکہ میں نظر آ رہا ہے۔ ماہرین کا یہ خیال بھی ہے کہ یہ احتجاج برطانوی یونیورسٹیوں میں شروع ہو جائے گا مگر چونکہ برطانیہ کی یونیورسٹیوں کا اسرائیل کے ساتھ اور اسرائیل کے لیے کام کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ کوئی بڑا اشتراک نہیں ہے اس لیے ان کے احتجاج اور امریکہ کے ان بڑی یونیورسٹیوں کے احتجاج میں بہت زیادہ فرق ہے۔

اگر یہ احتجاج ویت نام جنگ کے خلاف احتجاج کی طرح طول پکڑتا ہے اور یہ ایک سے دوسرے کیمپس اور کالجوں میں پھیلتا چلا جاتا ہے تو اس سے امریکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ اس لیے کہ امریکہ کے معاشی تسلسل اور پیداواری صلاحیت میں ان یونیورسٹیوں کا بہت بڑا حصہ ہے۔ امریکی معیشت قرضے پر چلتی ہے اور قرضوں کے مسلسل ادائیگی کے لیے معیشت، صنعت اور ڈالروں کی گردش لازمی ہے ورنہ ایک دو ماہ میں بیشتر صنعتیں اور کمپنیاں سود کی ادائیگی اور قرضوں کو ری شیڈول کرنے میں بہت زیادہ نقصان اٹھاتی ہیں۔

جس کے لیے امریکن حکومت کو ان کو ٹریلین ڈالرز کا بیل آؤٹ پیکج دینا ہو گا۔ جس کی سکت اس وقت امریکی حکومت کی نہیں ہے اس لیے کہ اس کے حاصل کردہ قرضے اس کی ممکنہ آمدن اور وسائل سے زیادہ ہو گئے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب امریکہ یوکرین جنگ میں بہت زیادہ وسائل ضائع کرچکا ہے اور اب اسرائیل حماس جنگ میں اس کے بے پناہ وسائل خرچ ہو رہے ہیں۔ یہ یونیورسٹیوں کے کیمپسوں اور کالجوں کا احتجاج عظیم امریکہ کو جلد ہی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردے گا۔

اس وقت امریکہ کے دو بڑی سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا میں مصروف ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل میڈیا کی توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ ٹرمپ بھی اسرائیل نواز ہے بلکہ شاید بائیڈن سے زیادہ اسرائیل نواز ہے۔ مگر یونیورسٹیوں اور کالجوں میں ہونے والے احتجاج نے ان دونوں پارٹیوں کے مہم کو صفر کر دیا ہے۔ امریکی اور عالمی میڈیا اس وقت اس احتجاج کو کھلے عام نشر کر رہا ہے اور اس پر تجزیہ بھی دے رہا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا ہے۔ چونتیس ہزار سے زیادہ فلسطینوں کا قتل عام اور لاکھوں فلسطینوں پر مسلسل حملے اور انسانی آبادی کو مسلسل نشانے بنانے کے باوجود اسلامی دنیا میں کوئی موثر ردعمل دیکھنے کو نہیں ملتا۔ ماضی میں جب اس طرح کے حالات ہوتے تھے تو جسے ہم عرف عام میں عالم اسلام یا اسلامی ممالک کہتے ہیں وہاں احتجاج بھی ہوتے تھے اور وہاں کے جہادی تنظیمیں ایک پریشر گروپ بنا کر اپنے مسلمان بھائی بہنوں کی مدد کو پہنچنے کی کوشش بھی کرتے تھے۔

مگر حیرت یہ ہے اس وقت ماسوائے ایران کے کسی بھی اسلامی ملک میں ایسا کچھ بھی نہیں ہو رہا۔ اسلامی ممالک کا میڈیا بھی اس اہم مسئلہ کو اس طرح اجاگر نہیں کر رہا۔ افغانستان جہاں طالبان کی حکومت ہے، جہاں بقول ان کے خلافت قائم کردی گئی ہے۔ وہاں بھی اس سلسلے میں کوئی آواز نہیں اٹھی، طالبان رہنما جو اپنے آپ کو اسلامی ریاست کا خلیفہ قرار دیتے ہیں ان کا اب تک کوئی ایک بھی مذمتی بیان سامنے نہیں آیا۔ عراق، سوڈان، مصر اور کئی دیگر اسلامی ملکوں کے وہ جہادی تنظیمیں جو افغانستان اور شام میں لڑنے اور مرنے کے لیے ہر وقت کمربستہ رہتے تھے۔ ایسے چپ ہیں اور غائب ہیں جیسے ان کا کہیں وجود ہی نہیں تھا۔ ایسے میں ان تمام جہادیوں کو بنانے والے امریکہ کے اپنے یونیورسٹیوں میں جن کو یہ جہادی کفر کی فیکٹریاں قرار دیتے تھے وہ ان نہتے فلسطینوں کو اسرائیل اور امریکہ کی ظلم اور بربریت سے بچانے کے لیے گزشتہ کئی ہفتوں سے مسلسل وہاں پولیس اور فوجی دستوں سے مار کھار رہے ہیں اور گرفتار ہو رہے ہیں۔ یہ احتجاج کرنے والے ہر مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا سب کا مذہب انسانیت ہے۔

اور یہ شعور ان کو ان امریکی یونیورسٹیوں نے دیا ہے۔ یہ شعور یافتہ طبقہ مسلسل اپنے چین اور سکون کو تج کر پولیس کی تشدد اور نظر بندیاں برداشت کر رہا ہے اور انسانیت کی بقا کے لیے ان کی تعداد اور قوت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اور مسلمان ملکوں میں اسرائیلی کمپنیوں کا کاروبار مسلسل ترقی کر رہا ہے۔ اس وقت سترہ ہزار اشیا ایسی ہیں جو پوری اسلامی دنیا میں ان اسرائیلی کمپنیوں کی ہیں جو فروخت ہو رہی ہیں۔ گزشتہ چھ ماہ میں ان کی فرنچائزز کی تعداد میں ہزاروں کا اضافہ ہو گیا ہے۔

اسرائیل کی اصل قوت اس کی حربی صلاحیت نہیں ہے بلکہ اس کی اکانومی ہے جو مسلمان ملکوں اور دیگر ممالک کی مدد سے اسے ناقابل تسخیر بنا رہا ہے۔ مسلمان ملکوں کی یونیورسٹیوں نے احتجاج کرنا تو دور کی بات اپنے ملکوں کے لوگوں کو یہ شعور دینا بھی ضروری نہیں سمجھا کہ اسرائیل اور اس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کر کے اسے مجبور کر سکتے ہیں کہ وہ یہ قتل عام ترک کردے۔ کئی ایک غیر مسلم ممالک نے کھل کر اسرائیل کی بربریت کے خلاف بات کی ہے۔

اور کھل کر فلسطینی ریاست کو قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مگر ہم اور ہمارے جیسے نام کے مسلمان اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ اگر ہم نے زبان کھولی تو ہمارا آقا امریکہ ناراض ہو جائے گا۔ اور ہماری حکومتیں جو یونی پولیریٹی کا شکار ہیں۔ کبھی بھی ملٹی پولریٹی کی طرف نہیں جائیں گی۔ یہ ہے ہمارا نظام تعلیم اور شعوری اساس جو ہمیں اس دور میں بھی ذہنی غلام رکھتا ہے۔ جبکہ ہم جن کی ذہنی غلامی کر رہے ہیں ان کے تعلیمی ادارے ان کے ظلم کا راستہ روک رہے ہیں۔

مستقبل قریب میں جب امریکہ اور اسرائیل اس جنگ کے نتیجے میں شدید مالی بحرانوں کا شکار ہوں گے اس وقت عرب ممالک کے شدت پسند عربوں کے موجودہ حکمرانوں کا جو حال کریں گے وہ دیکھنے لائق ہو گا۔ اس تحریر کو محفوظ کر لیں۔ ان کی خاموشی میں ہی ان کی موت پوشیدہ ہے۔ اس لیے کہ جب آپ ایک بدمعاش پر ہی تکیہ کیے رہتے ہیں اور اس بدمعاش کی کمر ٹوٹ جائے تو علاقہ کے سارے بدمعاش آپ کو نوچنے پہنچ جاتے ہیں۔ لیکن اس وقت پھر وہ جہاد ہو گا، اور ہمارے جہادی مدد کو پہنچ جائیں گے۔ اس لیے کہ دونوں طرف مسلمان ہوں گے۔ اب چونکہ ایک طرف یہودی ہیں اس لیے امریکن فلسفہ جہاد انہیں اس کی اجازت نہیں دیتا۔

جہاز اک دن سمے کے دوسرے ساحل سے پہنچیں گے
ہمارے حال تک کچھ لوگ مستقبل سے پہنچیں گے

Facebook Comments HS

2 thoughts on “یونیورسٹیاں واقعی شعور دیتی ہیں لیکن امریکہ میں”

  • 30/04/2024 at 3:08 صبح
    Permalink

    ڈاکٹر صاحب ،غزہ میں جو ہورہا ہے غلط ہے انسانی حقوق کے نام لیواؤں کے منہ پر کالک ہے لیکن جو مومنین اسائلم لیکر رہ رہے ہیں یورپی اور امریکی ملکوں میں،وہ غزہ کے نام پر واردات کررہے ہیں کیا وہ درست ہیں؟ گزشتہ دنوں برطانیہ میں ایک عمر رسیدہ سابقہ فوجی کو مراکش سے تعلق رکھنے والے شخص نے مار دی وجہ غزہ کا بدلہ لینا بتایا جا رہا ہے۔ایسے اور بھی کئی واقعات رونما ہو چکے ہیں ۔ امریکہ میں احتجاج کے دوران داعش کے جھنڈے اور کچھ اینٹی امریکن پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے ۔امریکی یونیورسٹیوں میں احتجاج کرنے والوں کی اکثریت بھی کچھ باوثوق ذرائع مسلم اور یہودی طالب علم بتا رہے ہیں یعنی امریکی اس احتجاج میں شریک ہی نہیں۔ امریکی انتخابات قریب ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ صاحب کی جیت بھی یقینی نظر آرہی ہے وہ پہلے سے ہی بائڈن کی امیگریشن پالیسوں کے سخت ناقد ہیں۔ایک نجی پروگرام میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ماس ڈیپورٹیشن کی بھی بات کر چکے ہیں۔تو کیا آنے والے وقتوں میں امریکی جامعات میں پڑھنے اور احتجاج کرنے والے مسلمان طالب علموں کو بخش دی جائیگی؟

    • 01/05/2024 at 2:21 شام
      Permalink

      تارکین وطن کا یہ المیہ وقت کے ساتھ بڑھتا جائے گا۔ یونیورسٹیوں میں جو احتجاج ہورہا ہے ۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہاں یونیورسٹیوں میں سوچنے اور اختلاف کرنے کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔ ہمارے ہاں تو یہ سلسلہ کب کا ختم ہوچکا ہے ۔ رہی بات مسلمان طالب علموں کی تو امریکہ میں تعلیم حاصل کرنا امریکی معیشت کا حصہ ہے ۔وہ ہماری طرح جذباتی نہیں ہیں کہ جذبات میں آ کر کاروبار تباہ کردیں ۔ اس لیے مسلمان طالب علم پیسے خرچ کرکے مستقبل میں امریکہ جاسکیں گے۔

Comments are closed.