الیکشن اور مذہب

وہ ایسے کہ ہندوستان پر برس مسلمانوں کی حکومت رہی تھی اور انہوں نے اپنی عبادت گاہوں کو بھی بنایا تھا لیکن اب بھارت میں اکثریت ہندوؤں کی آبادی کی ہے اور مودی اب مسلمانوں کے پرانے قصے اور کہانیاں سنا کر ووٹ لینا چاہتے ہیں کہ کس طرح مسلمانوں نے ہندوؤں کے ساتھ غلط کیا تھا۔ مودی سرکار نے ہمیشہ کانگریس کو مسلمانوں کا سپورٹر کہا ہے اور کانگریس کے خلاف عوام میں نفرت بھری جس طرح یہاں پاکستان میں عمران خان مذہب کا استعمال کر کے سیاست کرتا تھا اور کرتا آ رہا ہے لیکن کبھی بھی مذہب پر مکمل عمل نہیں کیا کیوں کہ یہ لوگ صرف اور صرف ووٹ لینے کے لئے کرتے ہیں جس میں نقصان صرف صرف غریب عوام کا ہوتا ہے ایک دوسرے کے اندر نفرت بھر دیتے ہیں۔
مجھے نہیں لگتا کہ مودی اور عمران خان میں کوئی فرق ہے کیوں کہ دونوں کے پاس عوام کو بتانے کے لئے کچھ نہیں اس لئے مذہب کو سیاست میں لے آتے ہیں۔ دوسری مزے کی بات یہ ہے مودی سرکار نے راستے میں کانٹا بننے والے مخالفین کو یا تو جیل میں ڈالا یا پھر پر دباوٴ دے کر اپنی پارٹی میں شامل کیا ہے جس طرح عمران خان نے حکومت میں آ کر اپنے مخالفین کے ساتھ کیا تھا۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے دہلی کے پرائم منسٹر ارویند کیجروال کو کرپشن کے کیس میں جیل ڈال دیا کیوں کہ مودی سرکار ان سے خوف زدہ تھی جس طرح وہ دلی میں کام کر رہے تھے اور 2202 میں پنجاب میں ویدان سبھا کے چناؤ ہوئے تھے اس میں عام آدمی پارٹی حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی تھی اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے مودی سرکار کو عام آدمی پارٹی چناؤ میں ٹکر دے سکتی ہیں۔ اس لئے اب مودی سرکار کے پاس صرف مذہب کارڈ رہ گیا ہے اور وہ اس کا استعمال کر رہی ہے۔

