وردیوں، کلغیوں اور مرضیوں کے تصادم


تہذیبوں کے تصادم قصہ پارینہ ہوئے۔ آج ہم تہذیبوں کے اندر سے ہزاروں تصادم دریافت کر رہے ہیں۔ ویسے تو ہر قوم اپنے وقت پر اپنی اوقات اور آپے سے باہر نکلی مگر ہمیں تو کچھ زیادہ ہی ثبات حاصل رہا ہے۔ مسلمان کے پیدا ہوتے ہی اس کی گھٹی میں ممکنہ دشمنوں کی تلاش کی صلاحیت ودیعت ہو جاتی ہے۔ سو اس کی پوری زندگی دشمنوں کی کھوج میں کھپتی ہے۔ دشمن نہ ملیں تو خود تراش کر دشمنی کا حق بجا لاتے ہیں۔ پھر بھی کسر باقی رہے تو آپس میں جہاد کا بیڑہ اٹھانا نہیں بھولتے۔

پڑھا تھا کہ اسلام، سلامتی، مساوات اور اخوت کا علمبردار ہے اور ذات پات کو نہیں مانتا۔ مگر دیکھا تو ہر مسلمان دوسرے مسلمان کے ہاں مشرک، کافر، گستاخ یا ملحد پایا۔ سنا تھا اسلام ایک ہے مگر سینکڑوں دینی اصول دیکھے اور بھگت لیے۔ ایک قرآن سے سینکڑوں تاویلات، ایک نبیﷺ سے ہزاروں تعلیمات اور ایک خدا سے درجنوں ایمانیات لے کر چل رہے ہیں۔ اسی لیے صدیوں سے تصادم ہی تصادم نظر آ رہے ہیں۔ امن، اخلاق اور انسانیت صرف کتابوں تک محدود ہیں۔

تاریخ اور سچ کا دور تک علاقہ نہیں۔ جو لکھی گئی، اپنے جذبات، عقائد اور اکثریتی رجحانات کی بنیاد پر لکھی گئی۔ پھر بزور زبان اور بزور شمشیر اپنی تاریخ کا تحفظ یقینی بنایا گیا۔ کبھی مسلمان ایک رہے، نہ ایک دین کی پیروی کی۔ جس کا نتیجہ ایمانوں، عقیدوں، اناؤں، مرضیوں، کلغیوں اور وردیوں کے تصادم کی صورت میں ہی نکلا۔ جب قوم کا ہر طبقہ دست و گریباں ہو تو اس قوم کے مقتدر اداروں کی سوچ کیسے مثبت ہو سکتی ہے؟ وردیوں کے حالیہ تصادم نے اداروں کی نہیں بلکہ مجموعی قومی تربیت کا بھانڈا پھوڑا ہے۔

جہاں ایک طرف، عروج آدم خاکی، کے دبدبے کو دوام ملا وہاں پہلی بار، کالی وردی، نے بغیر پیسے لیے صلح کرلی۔ اس قوم کا کوئی بندہ جہاں ہو گا ایسا ہی ہو گا۔ کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ پولیس اور فوج کی وردیوں کے علاوہ مذہبی، مسلکی اور سماجی وردیاں اور کلغیاں بھی ایسے گل کھلانے میں کسی سے پیچھے نہیں۔ مذہب نے مخصوص لباس اور شباہت کا تعین کیا تو مسالک نے پگڑیاں اور شلواریں متعین کیں اور قبائل نے بھی الگ سے شناختیں گھڑ لیں۔

سب کا حق سہی مگر اس بنا پر دوسروں کو حقیر، اچھوت اور کافر سمجھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ ؟ جواب بڑا سادہ ہے، جہالت۔ کیونکہ جہالت منفی سوچ کا منبع ہے اور منفی سوچ دنیا کا سب سے بڑا شر ہے۔ اس کا نتیجہ غربت اور فساد کے سوا کچھ اور ہو نہیں سکتا۔ مساجد میں غیر مسالک کا داخلہ ممنوع ہے۔ چاند کے چڑھنے چڑھانے پہ جھگڑا ہے۔ سیاست، الیکشن، شادی و مرگ اور آئین سازی ہر جگہ تصادم ہی تصادم ہیں۔ امن اور سلامتی کا دین ہونے کی وجہ سے ہماری مذہبی رسومات و عبادات کے لیے قوم کی سیکیورٹی کے پچاس فیصد وسائل سرف ہو جاتے ہیں۔

اللہ اور اللہ والوں کے گھروں کے لیے غریبوں کے پیسے اور ان کی حفاظت کے لیے بے بس مخلوق درکار ہوتی ہے۔ ان حالات کی ذمہ داری اکثر ارباب اختیار پر ڈال دی جاتی ہے۔ درست سہی، مگر اپنے عقائد پر تو نظر ڈالیں۔ ایک طرف ہم کہتے ہیں کہ اللہ کی مرضی کے بغیر پتہ بھی نہیں ہلتا اور اللہ کے لاکھوں ولی دنیا کا نظام چلا رہے ہیں اور وہی حکومتیں بھی تشکیل دیتے ہیں۔ اور دوسری طرف انھیں محتاج دنیا داروں اور سائنس سے اپنے مسائل کے حل کا مطالبہ کرتے ہیں۔

کوئی ایک اللہ کا بندہ ایسا نہیں جو فیضان نظر سے ملک تو کیا اپنے عقیدت مندوں کے مسائل ہی حل کردے۔ سچی تاریخ گواہ ہے کہ کبھی کسی مولوی یا پیر نے کسی اسلام دشمن ملک کو نقصان نہیں پہنچایا۔ مسلمانوں نے فتوحات کیں تو زور بازو اور وسائل کے بل بوتے پر کیں۔ اگر ایسا ہے تو آج اسرائیل اور انڈیا کو ہماری بددعائیں نہیں لگتیں بلکہ مسلمان خود کسمپرسی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ پرانے قصے آج میڈیا کی وجہ سے چل نہیں پاتے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس تباہی کی بنیاد جہالت اور جہالت پسند عوام ہیں۔ جب جہالت کے موجب عام آدمی کو کچھ سوجھتا نہیں تو وہ ہر کس و ناکس کو اپنا مرشد، راہبر، داتا اور خدا تسلیم کر بیٹھتا ہے۔ اگر لوگ شعور کا دامن تھام لیں اور ان ورغلانے والے احمقوں، ظالموں اور پاکھنڈ بازوں کی شعلہ بیانیوں میں نہ آئیں تو ان کے سارے پاکھنڈ آپ ہی جاتے رہیں۔ مگر کیوں؟ ہم ایسا کیوں کریں۔ شاید خالق کی سکیم ہی ایسی ہے کہ اس نے ہر بڑے کے حصے کے ان گنت بے وقوف پیدا کر رکھے ہیں۔ لہٰذا مذہبی، مسلکی، سیاسی اور سماجی نفرتوں سے بچا جا سکتا ہے نہ ہی اپنی اپنی مرضیوں، کلغیوں اور وردیوں کے تصادموں کاسد باب ممکن ہے۔

Not at all ,Absolutely not ,

Facebook Comments HS