وہ جسے جانا ہی تھا (افسانہ)


ہالہ سوچ کے گہرے سمندر میں ڈوب گئی تھی۔ وہ لمس بھول نہیں پا سکی تھی۔ اس لمس کی خوشبو سے سارا ارد گرد کا ماحول معطر ہو گیا تھا۔ بظاہر خاموش تھی لیکن جیسے اس کے احساسات بول رہے تھے۔ وہ لمحات کبھی فراموش نہیں ہو سکتے۔ کاش وہ لمحے دائمی ہوتے! ایسا لگتا تھا جیسے جنت کی حسیں وادیاں میرا مسکن ہوں۔ پہاڑوں کی سر سبز چوٹیوں نے زمرد لباس زیب تن کیا ہوا تھا۔ پھر وہ شفیق اور معصوم ساتھ جس کے ایک لمس نے میری اداسیوں کو کہیں دور پھینک دیا ہو۔ پہاڑ کی بلندی پر چڑھنے کے لیے اس فرشتہ صفت نے میرا ہاتھ کیا تھاما کہ لگا صدیوں سے یہ سہارا میرے لیے ہی تھا۔ ہالہ انھی خیالوں میں گم تھی۔ وہ سوچتے سوچتے بہت دور جیسے جنت میں شہد کی بہتی نہر کے کنارے جا پہنچی تھی۔ وہ بڑبڑاتی ہے!

کیا فرق پڑتا ہے عمر کے اس فرق سے؟ کیا ہوا وہ شادی شدہ ہے تو؟ کیا ہوا وہ جسمانی طور پر ایک کمزور شخص ہے۔ کوئی شرط نہیں ہوتی محبت کے لیے۔ مجھے اس سے کچھ نہیں چاہیے۔ لوگ تو پتھر کے دیوتا کو پوجتے ہیں۔ ان سے انھیں جواب میں کچھ نہیں ملتا۔ وہ تو پھر ایک جیتا جاگتا انسان ہے۔ جس کی دھیمی اور سحر انگیز آواز میرے کانوں میں آج بھی رس گھول رہی ہے۔ میں یہ بھول نہیں سکتی۔ ہاں نہیں بھول سکتی!

”معاشرہ کیا کہے گا؟ مجھے پرواہ نہیں۔ دل کی بات سننی چاہیے۔“ ہالہ کے ذہن کے قرطاس پر اٹھتے ہر سوال کے خود ہی جواب دے رہی تھی۔ گھنٹوں انھی تصورات کی گتھیاں سلجھانے میں لگی تھی۔ جب ذرا حال میں آتی تو سوچ کی جتنی گتھیاں سلجھاتی اس سے کہیں زیادہ ریشم کے دھاگے کی طرح الجھ جاتی تھیں۔ وہ اسی ادھیڑ بن میں تھی کہ اس کی والدہ نے اسے کتنی ہی آوازیں دیں لیکن وہ پتھر کا بت بنے فضا کو گھور رہی تھی۔ والدہ بھی خاموش ہو کر کاموں میں مصروف ہو گئی تھی۔

کاش! میں ان پنچھیوں کی طرح پر رکھتی اور اسی دیس میں پہنچ جاتی جہاں میرا وہ دیوتا بستا ہے۔ کبھی میں اس کا دیدار بھی کر سکوں گی؟ کیا پتہ وہ لمحے میرے مقدر میں ہوں یا نہ ہوں۔ ہالہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس لمس کے لمحات کو مزید یاد کرتی رہتی اور وہ حسرت بن کر اشکوں میں ڈھل جاتے تھے۔ اس کو چپ سی لگ گئی تھی۔ اس کا واسطہ ماضی کے اوراق سے ایسا جڑا کہ گھنٹوں اسے حال کا پتہ ہی نہ چلتا تھا۔ والدہ بیٹی کی یہ حالت دیکھ کر پریشان رہنے لگی تھی۔ اس نے کئی پیروں فقیروں کو دکھا ڈالا تھا۔

”ہالہ بیٹا! تیری خالہ نے مجھے ایک بزرگ کے بارے میں بتایا ہے وہ بہت پہنچا ہوا ہے۔ وہ دم کرتا ہے تو سایہ، جن، بھوت سب بھاگ جاتے ہیں۔“

ہالہ ماں کی آواز سن کر محض ماں کی طرف پلٹ کر دیکھا اور پھر انھی لمس کے حسین خیالوں میں گم ہو گئی تھی۔ کوئی جواب دیے بنا ہی اٹھی اور ٹیرس پر جا کر فضا کو گھورنے لگی۔ والدہ نے اسے بہت پیار سے پالا تھا۔ وہ اس کے لیے رات دن فکر مند رہتی تھی۔ وہ بے بس ہر کسی کے بتائے ہوئے ڈاکٹر اور پیر فقیر کو دکھا کر ہزاروں روپے برباد کر چکی تھی۔

کہاں سے اور کس ڈاکٹر سے علاج کروائیں تیرا؟ کس پیر فقیر سے دعا اور دھاگا لوں؟ ماں نے پیچھے سے آ کر کہا تو ہالہ پلٹ کر بولی، ”اماں! میرا علاج ان ڈاکٹروں اور پیروں کے پاس نہیں ہے، میں ٹھیک ہوں۔ میں ٹھیک ہو جاؤں گی۔ آپ پریشان نہ ہوں“ ہالہ نے یہ اپنی ماں کی پریشانی دیکھتے ہوئے کہا تھا۔

”اللہ کرے تو ٹھیک ہو جائے“ والدہ دعا کرتے کرتے اشک بار ہو گئی تھی۔

سہ پہر کا وقت ہو چلا تھا۔ گھر میں سناٹا چھا گیا تھا۔ یہ وہی آنگن تھا جہاں ہالہ کے قہقہے کی گونج ہر طرف سنائی دیتی تھی۔ اب جیسے گھر کی فضا کو کسی آسیب نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہو۔

”ہالہ، ہالہ چلو بیٹی اس بزرگ کے پاس چلتے ہیں جو تیری خالہ نے بتایا تھا۔“ والدہ نے پر امید لہجے میں کہا تھا۔

”اماں مجھے کچھ نہیں ہوا، میں نے کہا ہے ناں کہ میں ٹھیک ہوں“ ہالہ نے جواب میں کہا۔

”ہاں میری بچی میں جانتی ہوں، تم ٹھیک ہو۔ تمھیں نظر لگ جاتی ہے۔ میری تسلی کے لیے چل دم کروا کر واپس آ جائیں گے۔

”نہیں اماں! میں ٹھیک تو ہوں۔“
” نہیں ہو ٹھیک! چل میرے ساتھ“ ماں نے اصرار کیا تو ہالہ بولی،

”ضد مت کیا کرو اماں! جس پیر کے پاس میرا علاج ہے وہ بہت دور ہے“ یہ بات جیسے بے ساختہ ہالہ کے منھ سے نکل گئی تھی۔ ماں نے چونک کر کہا، ”دور ہے؟ کہاں ہے؟ کتنا دور ہے؟ اس ملک میں نہیں؟ ماں کے سوالات ہالہ پر جیسے اولے برسانے لگے ہوں۔ ٹالتے ہوئے بولی،“ اماں! میں نے یوں ہی مذاق میں کہا ”ہالہ یہ کہتے ہوئے جانے لگی تھی اور ماں دیکھتی رہ گئی تھی۔ مگر ہالہ کا دل بیٹھ گیا تھا۔ اسے یاد آیا تھا وہ مسیحا شخص جس سے گھنٹوں فون پر بات کیا کرتی تھی۔

اور پھر اسے مارگلہ پہاڑیوں پر سیر کے بہانے ملا تھا اور اس نے محض اسے چھوا تھا۔ چھونے سے ہالہ کی رگ رگ میں مٹھاس پھیل گئی تھی۔ اس کے چھونے اور اس کا وہ لمس اتنا سحر انگیز تھا کہ ہالہ کی دھڑکنوں میں سرور کی ندیاں بہہ چلیں تھیں۔ وہ جسے جانا ہی تھا واپس چلا گیا تھا مگر لمس کا احساس چھوڑ کر گیا تھا۔ اس کے جانے کے بعد اس کے لمس کے پرسکون احساسات میں ہالہ کی زندگی جیسے کالے جادو کے حصار میں پھنس گئی تھی۔ آس لگائے بیٹھی تھی کہ وہ دوبارہ ضرور ملے گا۔

Facebook Comments HS