اسلامی سوشلزم – حنیف رامے کے جریدے البیان سے فتح محمد ملک کا مضمون


محمد حنیف رامے کی ارادت میں شائع ہونے والے نصرت رسالے کے اسلامی سوشلزم نمبر کے دوسرے ایڈیشن کے اجرا کے موقع پر مدیر نصرت فتح محمد ملک کا پیش لفظ یہ مجلہ ایک ایسے زمانے میں منظر عام پر آدھا ہے جب اسلامی سوشلزم کا تصور ایک مرتبہ پھر دھند لانے لگا ہے۔ ہماری فکری تاریخ میں بارہا یہ تصور نکھری ستھری صورت میں جلوہ گر ہوا اور بار ہا مخصوص مفادات کی چاکری میں مصروف اہل فکر کی کج بحثی نے اسے تنازعہ فیہ بنا دیا۔

روس میں اشتراکی انقلاب کے رونما ہوتے ہی مسلمان دانشوروں نے اسلام کے اقتصادی نظریات کو ملوکیت کی صدیوں میں جمنے والی گرد جھاڑ کر صاف کرنا شروع کر دیا۔ اسلام کی اصل پاکیزگی کی بازیافت کے اس مبارک عمل میں جہاں اقبال جیسے انقلاب پسند منہمک ہوئے وہاں دارالعلوم دیوبند کے تربیت یافتہ مولانا حفظ الرحمن سیوہاری جیسے روایت پسند بھی شریک ہوئے۔ نتیجہ یہ کہ تھوڑے ہی دنوں میں اسلامی سوشلزم کا تصور بحث و تمحیص کی منزل سے گزار کر ایمان اور عمل کی سرحدوں میں داخل ہو گیا اور قوی تاریخ کے ایک فیصلہ کن موڑ پر قائد اعظم نے صاف صاف اعلان فرمایا :

”جب یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان سماجی انصاف اور اسلامی سوشلزم کی مضبوط بنیادوں پر قائم ہو گا تو نہ صرف میرے بلکہ کروڑوں مسلمانوں کے جذبات و احساسات کی ترجمانی کی جاتی ہے۔“

قائد اعظم کے رخصت ہو جانے کے بعد یہ حقیقت رفتہ رفتہ خرافات میں کھو گئی۔ ایوب خان کے دور آخر میں جب پاکستان کی ساری دولت بائیس خاندانوں میں گردش کرنے لگی اور اقتصادی استحصال سکہ رائج الوقت بن گیا تو اسلام کے اقتصادی مساوات اور معاشرتی انصاف کے تصورات حساس ذہنوں کو بے چین کرنے لگے، ایسے میں 24 جون 1966 کو اسمبلی کے ایوان میں، بائیس خاندانوں کے ایک نمائندہ عبد الکریم سومار نے اسلامی سوشلزم کے تصور کو اسلام کے ساتھ ایک فراڈ قرار دیا۔

اس پر محمد حنیف رامے نے ”نوائے وقت“ میں عبداللہ حر کے قلمی نام سے ایک مضمون میں اس غلط فکری کو چیلنج کیا۔ سومار نے بھی ایک مضبوط مضمون کے ذریعے اپنے موقف کی وکالت کی اور یوں یہ بحث گرما گرمی اختیار کر گئی۔ پروفیسر محمد عثمان سے لے کر غوث بخش بز بخو تک بہت سے اہل فکر اور اہل سیاست بحث کے میدان میں اتر آئے اور محمد حنیف رامے کا جریدہ ”نصرت“ اسلامی سوشلزم کا نقیب بن گیا۔

محمد حنیف رامے نے کہ تہذیب و فن کے مختلف میدانوں کی سیاحت کے بعد برسوں تو قرآن حکیم میں غوطہ زن رہ چکے تھے، اسلامی سوشلزم کے آتشیں تصور کی جدید علمی اصطلاحات میں اس شان سے تفسیر و تعبیر کی کہ دیکھتے ہی دیکھتے ان کے گرد ارباب فکر و نظر کا ایک حلقہ بن گیا۔ نصرت کے دفتر میں گویا ایک نیا دبستان کھل گیا۔ سوشلزم کے طلوع سے پہلے کی انسانی تاریخ میں تاریخ اسلام میں سوشلسٹ تصورات کہاں کہاں اور کس کسی عنوان سے نمودار ہوتے رہے؟

مصر شام اور عراق جیسے مالک میں قدامت پرستی اور سوشلسٹ انقلاب کی گرما گرم بحث کے پیچھے کون سے عوامل کار فرما ہیں؟ اسلام اور پاکستان کا نظام معیشت کیا ہے اور کیا ہونا چاہیے؟ یہ اور ایسے بہت سے سوالات پر پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ جرات کے ساتھ بات ہونے لگی۔ ستمبر، اکتوبر 1966 میں شائع ہونے والا، نصرت کا اسلامی سوشلزم نمبر اس نئے علمی دبستان کا فکری منشور ہے۔ ذو الفقار علی بھٹو ایوب شاہی کے ایوانوں سے باہر آئے تو ”چند احباب نے انھیں یہ نمبر پیش کیا اور پھر جب یکم دسمبر 1967 کو پاکستان پیپلز پارٹی وجود میں آئی تو“ اسلام ہمارا دین ہے کے ساتھ ساتھ ”سوشلزم ہماری معیشت ہے“ اس کا زریں اصول ٹھہرا۔

اسلامی سوشلزم کے تصورات کو پاکستان میں نافذ کرنے کا عزم لے کر مدیر نصرت سیاسی میدان عمل میں اترے اور نصرت پارٹی کے ہاتھ میں ایک تیغ جگر دار بن کر چمکنے لگا۔ اسی نصرت کی کوکھ سے روز نامہ مساوات نے جنم لیا۔ ایک محمد حنیف رامے کے ایمان اور عمل نے سینکڑوں رجعت پسند اہل فکر کے پیدا کردہ فکری انتشار کو یوں دور کیا کہ فتویٰ فروشوں کی سیاست سے لے کر سیاست دانوں کی ملائیت تک ہر جادو چشم زدن میں ٹوٹا۔ پاکستان کے ناخواندہ اور نیم خواندہ عوام نے اسلامی سوشلزم کے نظریے سے بدل کی بجائے اسے ذوالفقار علی سمجھ کر اپنایا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان پیپلز پارٹی عہد حاضر کی انقلابی قوتوں کی نمائندہ بن کر اقتدار کے ایوانوں میں پہنچی۔

ایوان اقتدار کی فضا بھی کیا پر فریب فضا ہے کہ یہاں پہنچتے ہی داماند گئی شوق خوبصورت پناہ گاہیں تعمیر کرنے میں مصروف ہو گئی، جس فکر اور جس عمل نے یہاں تک پہنچایا تھا اسے معرض شک اور طلسم التوار میں ڈالا جانے لگا اور رفتہ رفتہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ پیپلز پارٹی کے اندر بھی سرد اور کبھی گرم جنگ میں مصروف انتہا پسندوں نے طے شدہ مسائل کو پھر سے متنازعہ فیہ بنانے کی جد و جہد کا آغاز کیا۔ سوشلزم، سائنٹیفک سوشلزم اور اسلام کی اصطلاحات اور تصورات ازسرنو بحث چھڑی۔

پارٹی کے اندر کے متحارب گروہوں نے بیرونی امداد کے لیے ہاتھ پھیلائے تو علی محمد راشدی جیسے لوگ پیپلز پارٹی کے نظریہ ساز بن بیٹھے۔ پارٹی دشمن اس پارٹی کا فکر رہنما بن کر تطہیر و تنظیم کے تقاضوں پر روشنی ڈالنے لگا۔ وہ جنہیں پارٹی کے بنیادی اصولوں سے ہمیشہ عناد رہا تھا وہ پارٹی کو نئی نظریاتی منزل متعین کرنے کا مشورہ دینے لگے۔ وہ جنھیں جمہوریت کا لفظ اسلامی نظر آتا ہے، سوشلزم کے لفظ سے پھر خوف کھانے لگے۔ اسی طرح وہ جنھوں نے اسلام کو سوشل ازم کے اقتصادی تصور کا منبع مانا تھا وہ بھی اسلامی سوشلزم کی بجائے سائنٹیفک سوشلزم پر اصرار کرنے لگے۔

بے معنی لفظی تاویلات کے پیدا کردہ فکری اندھیروں میں محمد حنیف رامے نے ایک مرتبہ پھر اسلامی سوشلزم کی قندیل روشن کی ہے۔ زیر نظر مجموعہ مقالات میں ”نصرت“ کے اسلامی سوشلزم نمبر کے تمام مندرجات کے علاوہ متعدد متعدد ایسے مقالات بھی شامل ہیں جو بحث کے موجودہ سیاق و سباق اور پاکستان اور عالم اسلام کے حال اور مستقبل کے معاشی نظام کی نسبت سے بے حد اہم ہیں۔ اس کتاب کے مطالعے سے حقیقت روشن تر ہو جائے گی کہ اسلامی سوشلزم نہ تو دنیائے اسلام کے لیے کوئی خطرناک یا اجنبی تصور ہے اور پاکستان کے حالات میں اسلامی سوشلزم سے بڑھ کر کسی سائنٹیفک سوشلزم کا تصور کیا جا سکتا ہے۔
فتح محمد ملک 1975

 

Facebook Comments HS