بھوک تہذیب یافتہ لوگوں کو بھی تہذیب بھُلا سکتی ہے

بروز ہفتہ گیارہ بجے ایڈیشنل سیکریٹری ایجوکیشن اور ڈپٹی سیکریٹری کی طرف سے ایک میٹنگ کا شیڈول جاری ہوتا ہے جس میں ضلع سیالکوٹ کے منجھے ہوۓ ایجوکیشنسٹ بشمول سی ای او، ڈی ای اوز، ڈپٹی ڈی اوز زنانہ و مردانہ ، اے ای اوز زنانہ و مردانہ ، پرنسپل صاحبان زنانہ و مردانہ سکول، لیکچرار، اور کچھ پرائیویٹ تنظیموں کے افراد کو مدعو کیا گیا جس کا ایجنڈا تعلیمی ایمرجنسی، تعلیمی فلاح اور تعلیم سے متعلق دیگر امور اور اس کے فروغ پر بحث و مباحثہ تھا۔ یہ میٹنگ سیالکوٹ چیمبر آف کامرس نے اپنے میٹنگ ہال میں منعقد کروائی۔
میٹنگ کے ایجنڈا پر دو ڈھائی گھنٹہ کے بحث و مباحثہ کے بعد تعلیمی فروغ کے حوالہ سے چند گزارشات کی گئیں جس کو ایڈیشنل سیکریٹری ایجوکیشن صاحب نے نوٹ کر کے وزیر تعلیم تک پہنچانے کا وعدہ کیا۔ اس کے فوراً بعد ہی سب آفیسران اور دیگر میٹنگ ہال میں موجود ممبران کو کھانے کے لیے ساتھ والے ڈائننگ روم میں مدعو کیا گیا۔
سب لوگ کھانے کی غرض سے اس روم کی طرف جانا شروع ہو گئے۔ مجھے ایک ضروری کال آ گئی جس کی وجہ سے میں اس میٹنگ ہال سے باہر جا کر کال سننے میں مصروف ہو گیا ۔ کوئی پانچ دس منٹ تک جب میں بھی اس ہال کی طرف گیا تو ابھی میں اس ڈرائنگ ہال کے مرکزی دروازہ کے اندر داخل ہوا ہی تھا تو ایک عجیب منظر دیکھنے کو ملا اور میں اس کو دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا کہ یہ تو ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی پڑھی لکھی ،تعلیم یافتہ اور تہذیب یافتہ لوگوں کی ایک ٹیم ہے جس نے اس ملک کے بچوں کو اور ان کے اساتذہ کو سکھانا ہے۔
وہ ایسامنظر تھا جس میں لوگوں کا ہجوم تو تھا لیکن تہذیب نام کی کوئی چیز دور دور تک نظر نہیں آ رہی تھی۔ میزبانوں نے اتنے اچھے انداز سے کھانا رکھا ہوا تھاکہ اگر سب لوگ تہذیب کے دائرے میں رہ کر اس کو استعمال کرتے تو یہ سارا سماں تہذیب کے اصولوں پر چل سکتا تھا۔ لیکن بے سود سب مرد حضرات ایسے کھانے پر لپکے ہوۓ ہیں کہ جیسے یہ زندگی کا آخری کھانا ہو۔ اور دوسری سائیڈ پہ جب نظر پڑی تو ہماری فی میل کولیگز،ڈپٹی ڈی ای اوز زنانہ اور پرنسپل صاحباں زنانہ ایک سائیڈ پر بیٹھی اس لمحہ کا انتظار کر رہی تھیں کہ یہ لوگ ہمیں بھی کہیں کہ آپ لوگ بھی کھانا لے لیں یا ان کے لیے وہاں کوئی جگہ ہی چھوڑ دیں لیکن ان کی یہ سوچ اور انتظار رائیگاں رہا کیوں کہ مرد حضرات نے ان ٹیبلز کو تب تک چھوڑا ہی نہیں جب تک وہاں سے کھانا ختم نہیں ہو گیا۔ اور مرد حضرات نے پلیٹوں میں کھانے کے پہاڑ بنا کر رکھے ہوۓ تھے۔
میں اس کمرے کے مرکزی دروازے پر کھڑا یہ سب دیکھ کر اتنا شرمندہ ہو رہا تھا اور مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ پڑھے لکھے، تہذیب یافتہ لوگ ہیں۔ میں اس منظر کو دیکھ کر وہیں کا وہیں کھڑا رہا اور کھانا کھانے کو دل ہی نہیں کیا۔ جب کچھ فی میل کو کھانے کے خالی ٹیبلز پر کھانا آنے کے انتظار میں ایسے کھڑا پایا تو ان کو جا کر کہا کہ یہاں ناں کھڑے ہوں آپ لوگ اپنی کرسیوں پر بیٹھ جائیں۔ میزبان ٹیم کے ایک بندے سے بات کی تو انہوں نے اتنی منفی تاثرات کا اظہار کیا کہ ہم تو سمجھے تھے کہ یہ پڑھے لکھے لوگ ہیں تو یہ بہت احسن انداز سے کھانا کھائیں گے ۔ ہم نے جتنے بھی لنچ یا ڈنر ارینج کیے آج تک اتنا غیرمہذبانہ کھانا کھانے کا انداز نہیں دیکھا۔ اور مجھے اس کے الفاظ سُن کر اتنی شرمندگی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ان سب مرد لوگوں کو جانے دیں ہم ان کے لیے الگ سے کھانا لا کر دیں گے۔ آپ بس ان کے جانے کا انتظار کر لیں۔ کیونکہ ہم بالکل بھی ان لوگوں پر یقین نہیں کہ اگر دوبارہ کھانا آیا تو یہ لوگ دوبارہ ہی ناں شروع ہو جائیں ۔باہر بھی ایک دو ایسے لوگوں سے ملاقات ہوئی جو کہ کھانے کی غرض سے ہال میں آۓ تھے لیکن اس غیر مہذبانہ انداز میں کھانے سے نا کھانا بہتر سمجھا۔ میرا خود بھی دل نہیں کیا وہاں سے کھانے کا۔اتنی شرمندگی آج تک نہیں ہوئی تھی جتنی اس دن ہوئی کہ بھوک تو تہذیب یافتہ لوگوں کو بھی تہذیب بھُلا دیتی ہے۔

