پشاور میڈیکل کالج کانوکیشن 2024 کاانعقاد
رفاہ انٹر نیشنل یونیورسٹی اسلام آباد سے ملحقہ پرائم فاؤنڈیشن کی زیرنگرانی چلنے والے پشاور میڈیکل کالج، پشاور ڈینٹل کالج اور رفیدہ نرسنگ کالج کے کانووکیشن 2024 میں 253 گریجویٹس کو ان کی شاندار تعلیمی کارکردگی پر ڈگریوں اور گولڈ میڈلز سے نوازا گیا۔ تقریب میں معزز مہمانوں، فیکلٹی ممبران، والدین اور کامیاب گریجویٹس نے شرکت کی۔ پشاور میں منعقد ہونے والی تقریب تقسیم اسناد کے مہمان خصوصی رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور معروف ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد تھے۔ پرائم فاونڈیشن کے مشیر اور بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہر امراض معدہ، آنت و جگر پروفیسر ڈاکٹر نجیب الحق، چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر سید افتخار حسین، پشاور میڈیکل کالج کے ڈین اور الخدمت فاؤنڈیشن کے صدر و ماہر امراض چشم پروفیسر ڈاکٹر حفیظ الرحمن، ایگزیکٹیو ڈائریکٹر و پبلک ہیلتھ ایکسپرٹ پروفیسر ڈاکٹر سعید انور، پی ایم سی کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر محمد امان خان اور پشاور ڈینٹل کالج کی پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر شمیم اختر نے تقریب میں شرکت کی۔ مہمان خصوصی نے اسناد کی تصدیق اور فارغ ہونے والے گریجویٹس سے حلف لیا۔ اپنے خطاب میں پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد نے فارغ ہونے والے گریجویٹس کو دکھی انسانیت کی خدمت اور بہترین پیشہ ورانہ رویہ اپنانے کی تلقین کی۔ کانووکیش 2024 کا انعقاد تعلیمی میدان میں بہترین کارکردگی کے حامل گریجویٹس کی حوصلہ افزائی کے لئے کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد لگن، استقامت اور علم کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔
واضح رہے کہ پشاور میڈیکل کالج، پشاور ڈینٹل کالج اور رفیدہ نرسنگ کالج کا شمار خیبر پختونخوا کے نمایاں طبی تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے جہاں نہ صرف بہترین تدریسی اور کلینیکل تربیت فراہم کی جاتی ہے بلکہ ان اداروں میں مستقبل کے نوجوان میڈیکل پریکٹیشنرز کی اخلاقی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ یہاں اس امر کی نشاندہی بھی اہمیت کی حامل ہے کہ پی ایم سی صوبے کا نجی شعبے کا واحد میڈیکل کالج ہے جہاں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے سالانہ بنیادوں پر 150 طلبا و طالبات کو داخلوں کی اجازت دی ہے۔ اسی طرح اس کالج کے ساتھ کویت ٹیچنگ ہسپتال، مرسی ہسپتال، پرائم ہسپتال اور الخدمت ہسپتال جیسے مایہ ناز ہسپتالوں کے زیر اہتمام طبی خدمات فراہم کرنے کی سہولیات بھی دستیاب ہیں۔ پی ایم سی کی ایک اور خاص بات یہاں ہر سال باقاعدگی سے ملک بھر کے میڈیکل گریجویٹس کے لیے منعقد ہونے والی انڈر گریڈ میڈیکل ریسرچ کانفرنسز کا انعقاد ہے جس میں ملک کے طول و عرض سے طلبا اپنی تحقیقی کاوشیں پیپرز، چارٹس اور ماڈلز کی شکل میں پیش کرتے ہیں جنہیں بعد ازاں نقد انعامات کے علاوہ توصیفی اسناد سے بھی نوازا جاتا ہے۔
پی ایم سی، پی ڈی سی اور رفیدہ نرسنگ کالج نے مختصر عرصے میں نہ صرف اندرون ملک بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنے معیار اور بہترین طبی خدمات کا لوہا منوایا ہے۔ پی ایم سی کے گریجویٹس کی ایک اور خاص بات ان کا ستر فیصد سے بھی زائد شرح کے ساتھ پہلی کوشش میں ایف سی ایس پارٹ ون کے امتحان میں کامیابی ہے جو نجی شعبے کے کسی بھی دوسرے کالج کی نسبت سے بہت بڑی شرح ہے۔ اس وقت پی ایم سی کے گریجویٹس پاکستان کے طول و عرض کے علاوہ امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، مشرق وسطیٰ اور خلیجی ریاستوں میں طبی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ پی ایم سی میں پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ نوجوان ڈاکٹروں کو طبی اخلاقیات کی بھی خصوصی تربیت دے جاتی ہے جس کو باقاعدہ کورس کا حصہ بنایا گیا ہے جب کہ میڈیکل اتھیکس کے عنوان سے پی ایم ڈی سی کی سرپرستی اور رفاہ یونیورسٹی کے تعاون سے ایک موثر اور جامع پروگرام تشکیل دیا گیا ہے جو کسی ایک مخصوص سال تک محدود ہونے کی بجائے پانچ سال کے دورانیے پر مشتمل ہے اس مسلسل عمل کے ذریعے طلباء اور طالبات کو خصوصی طبی اخلاقی معیارات سے گزارا جاتا ہے جب کہ نصاب کو کورس کا باقاعدہ حصہ بنانے کی وجہ سے طلباء اس مضمون کو اضافی بوجھ سمجھنے کی بجائے اسے کورس کا لازمی جز سمجھ کر پڑھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
پی ایم سی، پی ڈی سی اور دیگر ملحقہ ادارے نجی شعبے میں کام کرنے والے ملک کے منفرد میڈیکل، ڈینٹل اور نرسنگ کے ادارے ہیں جن کی آمدن کسی فرد یا افراد کی تجوریوں میں جانے کی بجائے شفاف انداز میں ایک رفاہی اور فلاحی ادارے پرائم فاؤنڈیشن کے زیر استعمال رہتی ہے۔ پرائم فاؤنڈیشن ایک خود مختار اور پیشہ ورانہ بورڈ کی زیر نگرانی کام کرتا ہے جس میں طبی شعبے کے ساتھ ساتھ زندگی کے دوسرے اہم شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین کو بھی نمائندگی دی گئی ہے۔ پرائم فاؤنڈیشن کی آمدن اگر ایک طرف پی ایم سی، پی ڈی سی اور دیگر ملحقہ طبی تعلیمی اداروں کی وسعت اور ترقی پر خرچ کی جاتی ہے تو دوسری جانب اس آمدن کا ایک کثیر حصہ غریب اور نادار مریضوں کو تمام اہم طبی شعبوں میں بہترین اور معیاری طبی سہولیات کی شکل میں فراہم کیا جاتا ہے۔ پی ایم کے ساتھ منسلک تدریسی ہسپتالوں میں بین الاقوامی معیار کے مطابق انتہائی سبسیڈائزڈ ریٹس پر ان ڈور اور آؤٹ ڈور خدمات فراہم کی جاتی ہیں، ان میں سے بعض سروسز کا معیار تو بین الاقوامی سٹینڈرڈ کے مطابق ہے البتہ ان کا ریٹ سرکاری ہسپتالوں سے بھی کم ہے جب کہ نجی شعبے کے روایتی ہسپتالوں اور پی ایم سی کے ساتھ منسلک ہسپتالوں کے نیٹ ورک کے ریٹس کا تو سرے سے کوئی موازنہ ہی نہیں ہے۔ ان ہسپتالوں میں شامل مرسی ہسپتال میں داخلے اور آپریشنز تو ایک طرف او پی ڈی کی پرچی تک فری ہے۔
پرائم فاؤنڈیشن سے منسلک طبی تعلیمی اداروں کی ایک اور خاص اور نمایاں بات نجی تعلیمی ادارے ہونے کے باوجود یہاں میرٹ پر داخل ہونے والے ذہین اور قابل بچوں کو ان کی قابلیت اور ذہانت نیز ان کے والدین کی مالی حالت کے مطابق خصوصی تعلیمی وظائف بھی دیے جاتے ہیں جن کی بدولت یہاں سے بعض یتیم اور نادار مگر ذہین بچے اپنی تعلیم مکمل کرچکے ہیں۔ پرائم فاؤنڈیشن پی ایم سی اور پی ڈی سی کی سرپرستی میں یتیم بچوں کے لیے مختص پشاور کے مضافات میں تاریخی جی ٹی روڈ پر واقع صوبے کے سب سے بڑے اقامتی تعلیمی ادارے مرسی ایجوکیشنل کمپلیکس کا انتظام بھی چلا رہا ہے جس میں ملک اور بیرون ملک سے مخیر خواتین و حضرات بھی اپنے مالی تعاون کے ذریعے ہر ممکن تعاون فراہم کر رہے ہیں۔ پرائم فاؤنڈیشن کے زیر نگرانی چلنے والے ان تمام ذیلی اداروں کا ایک اور مثبت پہلو یہاں اپنے پیشوں اور شعبوں کی نامی گرامی بڑی بڑی شخصیات (ڈاکٹرز اور اعلیٰ ماہرین) سے لے کر مالی، چوکیدار، نائب قاصد، وارڈ اردلی، ڈرائیورز، کلرکس، اسسٹنٹس، لیب سٹاف اور انتظامی افسران کا ایک بہترین ٹیم ورک کے ساتھ ملی اور قومی جذبے سے سرشار ہو کر اپنے اپنے شعبوں میں بے لوث اور بے غرض خدمات انجام دینا ہے جس کا محرک وہ مشن اور مقاصد ہیں جن کے تحت یہ ادارے قائم کیے گئے ہیں۔ دراصل خالص پرائیویٹ اور سرکاری شعبے کے درمیان معیار، پیشہ ورانہ اہلیت، قومی خدمت، ایمانداری اور ملی جوش و جذبے کے حوالے سے خدمات کی فراہمی کے سلسلے میں جو گیپ اور تفاوت نظر آتا ہے پرائم فاؤنڈیشن کے زیر انتظام کام کرنے والے تمام ذیلی ادارے اس ضمن میں ایک بہترین ماڈل کا نقشہ پیش کر رہے ہیں جس کی جتنی بھی حوصلہ افزائی کی جائے وہ کم ہوگی، امید ہے کہ نجی اور سرکاری ہر دو شعبے اس بہترین فنکشنل ماڈل کی پذیرائی اور اس کی تقلید میں کسی بخل سے کام نہیں لیں گے۔


