تیقّن بھری تشکیک اور ادبی روایت


ٹی۔ ایس ۔ ایلیٹ کہتے ہیں کہ کوئی شاعر یا فن پارہ  کسی بھی  طرح  خود مکتفی نہیں ہوتا۔اس کی شناخت اوراہمیت  گزشتہ فن کاروں اور شعرا سے تعلق میں مضمر ہے ،اس کی الگ اکائی کے طور پر اہمیت متعین نہیں کی جا سکتی،  گذشتہ شعرا اور فن کاروں کے ساتھ تقابل و تفاوت  کے بعد ہی اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کوئی شاعر ادبی  روایت میں کیا مقام رکھتا ہے۔ ایک  شاعر کےلیے سب سے ضروری چیز روایت کا شعور ہے۔ روایت کے معنی سمجھنے میں ہم  اکثر اوقات ٹھوکر کھا جاتے ہیں۔ اگر روایت گزشتہ نسلوں کے متعین راستوں  اور کامیابیوں پر  آنکھیں بند کر کے چلنا ہے تو یقیناً یہ ایک نا پسند عمل ہے۔ اس بات کی فہم  بہت ضروری ہے کہ روایت ہمیں میراث میں نہیں ملتی بلکہ اس کے حصول میں سخت ریاضت کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے   بنیادی چیز تاریخی شعور ہے کہ لکھتے وقت نہ صرف اپنی موجودہ نسل کو محسوس کرنا بلکہ ابتدا سے لے  کر موجودہ عہد تک تخلیق کیے گئے تمام ادب کے نظام کو اپنے سامنے محسوس کرنا، یہ بھی کہ ہم اسی ادبی روایت کے ساتھ مربوط ہیں۔

مندرجہ بالا بات سے میں اپنے نکتے کو بہت حد تک واضح کر چکا ہوں کہ ایک فن کار کےلیے سب سے اہم اور بنیادی بات تاریخ اور روایت کا شعور ہے۔  ادبی روایت بذات خود  ایک وجود کی طرح ہے جس میں ہر دور کے تخلیق کار اپنا اپنا حصہ ڈال کر اس کا حسن اور خوب صورتی بڑھاتے رہتے ہیں۔  کسی شاعر یا  فن پارے کی اصل  اہمیت اور مقام و مرتبہ اسی  بات پر منحصر ہے کہ وہ اس روایت میں کس حد تک اضافہ کر سکا ہے۔کوئی بھی نئی تخلیق اپنے وجود سے، اس  پہلے سے موجود  روایت کے نظام کو  تبدیل کرتی ہے، یہ تبدیلی کسی بھی سطح  کی ہو سکتی ہے۔ گویا موجودہ عہد میں  تخلیق ہونے والا  ادب اپنے گذشتہ سے کسی طور جدا نہیں ہوتا۔

دوسری سطح پر کسی بڑے فن پارے میں جو بنیادی خاصیت ہوتی ہے وہ  اس کے اندر عصری خیالات کی بہتی ہوئی رو کی موجودگی ہے۔ایک شاعر اپنے عہد میں موجود خیالات کو جس احسن ترتیب کے ساتھ پیش کرتا ہے، وہی اس کی انفرادیت ہے۔ اس لحاظ سے دیکھیں تو ایک فن کار پر دوہری ذمہ داری ہوتی ہے۔ ایک تو وہ روایت کے ساتھ  شعور  کی کامل سطح پر  منسلک ہوتا ہے؛ دوسراوہ عصری صورت حال اور غالب خیالات کو تلاش کر کے بہترین ترتیب میں پیش کرتا ہے۔ تخلیق کار اپنے ارد گرد پھیلی کائنات کا بغور مشاہدہ کرتا ہے اور کائنات کے ایک معمولی ذرے کو بھی فطرت کے اس بڑے وجود کا حصہ سمجھتا ہے، جس کا ایک ذرہ اس کی  اپنی ذات ہے۔

ڈاکٹر دانش عزیز کی موجودہ شعری تخلیق میں  ایسے اشعار کثرت سے موجود ہیں جن میں ان کا عصری شعور اور خیالات کی رو اپنی موجودگی کا مکمل احساس دلاتے ہیں۔ کیوں کہ صاحب کتاب کو نفسیات سے گہرا شغف ہے اس لیے وہ  اس کتاب میں  جگہ جگہ ایک ماہر سماجی  نباض کی صورت سامنے آتے ہیں اور  سماج میں موجود نا ہمواریوں، لوگوں کی  محرومیوں  اور  کبھی نہ مکمل ہونے والی خواہشات کو ٹٹولتے  ہوئے  اور ان پر مرہم رکھتے ہوئے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ شعر دیکھیے:

اتنے سادہ ہیں کہ سن کر مجھے پیار آتا ہے

گھر بدلنے کو بھی کہتے ہیں کہ ہجرت کی ہے

ہم کو معلوم ہیں لوگوں کے رویے دانشؔ

ہم نے اس شہر میں کچھ روز سکونت کی ہے

اب ان دو اشعار کو دیکھیں تو سہل ممتنع  میں بڑی سادگی کے ساتھ بیک وقت دو کیفیات کا ذکر ہے۔ پہلی سطح پر تو لوگوں کی سادہ لوحی  کا ذکر ہے کہ محض گھر کی تبدیلی کو ہجرت سمجھ رہے ہیں دوسری سطح پر شاعر کے اندر ہجرت کا کرب امڈتا ہوا نظر آتا ہے۔ اسی سبب سے لوگوں پر رحم بھرا پیار آ رہا ہے کہ یہ لوگ ابھی ہجرت کے دکھ سے واقف نہیں ہیں، ان کو کیا معلوم کہ ہجرت کرنے والے ان درختوں کی طرح ہوتے ہیں جن کی جڑیں کہیں ہوتی ہیں اور شاخیں کہیں ؛ تیسرا پہلو یہ بھی ہے کہ ان لوگوں کے پاس مال اسباب اور رشتے ناطے اتنے ہی ہیں کہ ان کو چھوڑنا اور کسی دوسری جگہ منتقل ہونا ہی ان کےلیے ارضی ہجرت ہے۔ دوسرے شعر میں بھی اسی عمیق نگاہی اور لوگوں کے سرد و گرم رویوں کی ہی بات کی گئی ہے۔

سماج میں اقتدار کی تقسیم سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔  اس کے حصول کےلیے ابتدائی انسانوں سے لے  کر اب تک کئی طریقے رائج ہوئے ہیں۔ اجتماعی انسانی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ  ہمیشہ ایک قلیل طبقہ  ایسا ہوا جس نے انسانوں کے انبوہ کثیر پر حکومت کی ہے۔ اگرچہ اس طبقے کو مذہبی اور کاروباری گروہ کی پشت پناہی حاصل رہتی ہے تاہم ان کا سب سے بڑا ہتھ کنڈا  تقدیر پرستی   کا فروغ اورنچلے طبقے کو یہ باور کروا دینا ہے  کہ صبح و شام کا کھانا پورا کرنا ہی زندگی ہے۔ ایک حقیقی تخلیق کار اس سبز جال کو بھانپ لیتا ہے اور اس کے خلاف آواز بلند کرتا ہے۔ یہ آواز کسی مخصوص گروہ یا خطے کی نہیں بلکہ اجتماعی انسانی نمائندگی ہوتی ہے۔ وطن عزیز  بھی پہلے دن سے لے کر آج تک  ایسے ہی ایک ” نازک موڑ ” سے گزر رہا ہے۔ اس لیے ہر ذی شعور تخلیق کار اس کے لیے کبھی کھلم کھلا تو کبھی ڈھکے چھپے انداز میں آواز بلند کرتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب بھی خفیف سے انداز میں  اس حقیقت کا پردا چاک کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

سردار بدلتے رہتے ہیں، دربار بدلتے رہتے ہیں

رہتی ہے کہانی اک جیسی، کردار بدلتے رہتے ہیں

دستورِ صحیفہ جان لیا، جو جس نے کہا وہ مان لیا

جمہور کی خواہش میں ہم سب، سرکار بدلتے رہتے ہیں

یہ کسی  شاعر کا کمال  ہوتا ہے کہ وہ کسی استعارے کو اس طرح استعمال کرتا ہے  کہ وہ ایک نئے معنی قائم کرنے لگ جاتا ہے۔ کربلا کا استعارہ اردو ادب میں کثرت  سے استعمال ہونے والا استعارہ ہے۔ زیادہ تر شعرا کے ہاں اس کا استعمال براہ راست اسی واقعے کے تناظر میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ اس کو عصری معنویت دینے کےلیے اپنے موجود کے ساتھ ریلیٹ کیا جاتا ہے۔ڈاکٹر صاحب کا یہ  خاصا ہے کہ ان کے ہاں  کربلا کا استعارہ نہ صرف بغاوت کی ایک للکار بن کر ابھرتا ہے بلکہ اس میں عصری شعور اپنی پختگی کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔ موجودہ انسان کے،  معاشی مسائل  اورریاستی جبریت کے ہاتھوں ہونے والےاستحصال کی وجہ  سے عجیب در  بدری کی کیفیت ہے لیکن ایک انا پرست اور خوددار انسان ان مصائب و مشکلات کو خاطر میں نہیں لاتا اور ٹھوکر مار کر اپنے دم پر جیتا ہے۔  چاہے اسے جتنے دشوار گزار راستے کا سامنا  ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ دانش صاحب کا یہ شعر اسی بات کی عکاسی کرتا ہے۔

میں کر نہ سکتا تھا اس کی بیعت، سو کی بغاوت میں آ گیا ہوں

وہ شہر سارا تھا اس کی جانب، سو کر کے ہجرت میں آ گیا ہوں

اردو شاعری میں مومن خاں مومنؔ کے بارے میں مشہور  ہے کہ  وہ اپنے نام کو  کئی پرتوں اور معنوں کے ساتھ  برتنے میں ملکہ رکھتے تھے۔ ان کے بعد  کم سے کم میں نے یہ ملکہ کسی اور شاعر میں اس حد تک نہیں دیکھا جس قدر یہ دانش عزیز  صاحب  کی شاعری میں موجود ہے۔ ا ن کی اس کتاب اور دیگر کتب  کے مطالعہ سے  میں نے یہ دیکھا ہے کہ ان کا نام  غزل کے مقطعوں میں سات مختلف معنوں  کے ساتھ استعمال ہوا ہے۔ کہیں پر وہ دانش کے لغوی معنی برآمد کرتے ہیں تو کہیں پر وضعی اور اصطلاحی معنی نکھر کر سامنے آتے ہیں۔ چند ایک مثالیں دیکھیں:

میں عام بندہ، فقیر بندہ، ان اہلِ دانش سے کب تھا ملتا

تم آ رہے ہو، سنا ہے میں نے تمھاری بابت، میں آ گیا ہوں

۔۔

ابھی بھی وقت ہے دانش سے کام لو ورنہ

یہ عاشقی ہے، یہ مٹی پلید کر دے گی

۔۔

رقصِ دانش، فکر کے دربار میں

اے جنوں کے ٹھیکے دارو! الوداع

۔۔۔

مرے عزیز! اے دانش عزیز! بات سمجھ

جنھیں ہو زعم انھیں آزمایا کرتے ہیں

صرف اتنا ہی نہیں، ڈاکٹر صاحب اپنے احساسات کو بے ساختہ انداز میں کہنے پر بھی دسترس رکھتے ہیں۔  جتنا میں نے ان کو نجی محفلوں میں  دیکھا ہےوہ بالکل سیدھی اور دوٹوک بات کہنے کے عادی ہیں۔  کسی کو اچھا سمجھتے ہیں، کوئی انھیں پیارا لگتا ہے تو اس کا کھلم کھلا اعلان کرتے ہیں اور اگر کوئی برا رویہ  اپناتا ہے تو اس کا اظہار بھی بغیر لگی لپٹے رکھے، کر دیتے ہیں۔ ان کی شخصیت کا یہ پرتو ان کی شاعری میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کہیں عشق میں مبتلا ایک لڑکا بن کر  محبوب کے انگ انگ کو حیرت سے دیکھتے ہیں تو کبھی ہجر کے پڑاؤ پر لٹا پٹا قافلہ لیے بیٹھے نظر آتے ہیں۔ کہیں پر بزرگانہ نصیحت کرتے ہیں تو کہیں  پر یاروں کی بے مہری اور منافقت کو ہر چیز کی منافقت قرار دیتے  ہوئے کہتےہیں۔

ہو جائیں کسی کے جو کبھی یار منافق

سمجو کہ ہوئے ہیں در و دیوار منافق

اس بات کا فیصلہ وقت پر چھوڑتے ہیں  کہ  اس مجموعے نے ادبی روایت  اور شعری نظام کے ساتھ کس حد تک مطابقت پیدا کی ہے؛ تاہم میں یہ ضرور کہوں گا اس مجموعے کی آمد نے ادبی  منظر نامے کی سطح پر ایک ارتعاش ضرور پیدا کیا ہے۔

 

Facebook Comments HS