مٹن کڑاہی، شہروں کا پھیلاؤ اور پیر سائیں
عمران خان کا رنگ چونکہ سرخ ہے اور وہ باتیں بھی ایسی کرتا ہے جو چُھبتی ہیں تو ایک مٹن کڑاہی میں سرخ مرچوں کا ستعمال کیا جائے۔ میاں نواز شریف بھی سرخ رنگت رکھتا ہے ساتھ کہتا ہے کہ وہ معیشت کی رگوں میں خون دوڑا سکتا ہے اور ٹماٹر بھی خون پیدا کرتا ہے تو ایک مٹن کڑاہی میں ٹماٹروں کا استعمال زیادہ کیا جائے۔ جہانگیر ترین کا رنگ سفید ہے تو سفید مرچوں والی وائٹ کڑاہی بھی بنائی جائے۔
ہوا یوں کہ پاکستان کے عام انتخابات 2024کا سیزن چل رہا تھا۔ دوستوں نے شرطیں باندھ لیں۔ ایک نے کہا عمران خان کی پارٹی جیتے گی۔ دوسرے نے کہا میاں نواز شریف وزیر اعظم بنے گا۔ تیسرے نے دعوٰی کیا کہ مقتدرہ قوتوں نے جہانگیر ترین کو پنجاب کا وزیر اعلٰی بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے لہذا وہ الیکشن جیت جائے گا۔ انھوں نے طے کیا کہ ہارنے والا باقی دوستوں کو مٹن کڑاہی کھلائے گا۔اتفاق سے سب کسی نہ کسی صورت میں اپنی شرط ہار گئے۔ راقم کو ثالثی بنایا گیا تھا۔ بہت کہا چھوڑو شرط ورط لیکن سب ہاری ہوئی شرطیں ایک دوسرے کو معاف کرنے کو تیار نہ تھے تو فارمولہ دے دیا کہ مٹن کڑاہیوں کا نسخہ کیسا ہو۔ خیر۔
"تاں ہُن وَل کیہڑے کیفے تے چلوں” (تو اب کس کیفے پہ چلیں) ملک نے سوال اُٹھایا۔ چوہدری کو اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے طلباء کے لیے بنایا گیا ایک کیفے بہت پسند تھا، کہنے لگا "اُوتھے باورچی کراچیوں آیا اے، کڑاہی ودھیا بناندا اے” (وہاں باورچی کراچی سے آیا ہوا ہے کڑاہی گوشت بہت بڑھیا بناتا ہے)۔خیر۔
جب سے اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور نے سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخواہ، گلگت۔بلتستان اور کشمیر کے طلباء وطالبات پہ اپنے دروازے کھولے ہیں، کسی کی فیس مکمل معاف اور کسی کی آدھی اور کسی کی قسطوں میں تبدیل تو ہزاروں کی تعداد میں وہاں کے طلباء بہاول پور آکر آباد ہو گئے ہیں۔
بہاول پور شہر کے علاقوں ماڈل ٹاؤن بی اور سی اور سیٹلائٹ ٹاؤن جہاں کبھی سات مرلہ کا گھر پندر سے بیس ہزار روپے ماہانہ کرایہ پہ مل جاتا تھا وہی پرانا گھر اب ان طلباء کی فیملیوں کی آ مد سے مارکیٹ ڈیمانڈ بڑھ جانے سے پچاس سے اسّی ہزار روپے ماہانہ کرایہ پہ چلا گیا ہے۔ اس وقت بہاول پور میں آپ کو پاکستان میں بولی جانے والی تمام علاقائی زبانیں بشمول کھوار، شینا، گلگتی، بلتی،چترالی، پشتو، سندھی، بلوچی،گوجری، ہندکو، کشمیری،پوٹھوہاری، براہوی، ہزارگی اور فارسی سننے کو ملیں گی۔ سرائیکی، پنجابی اور اردو تو بہاول پور کی مقامی زبانیں ہیں۔ملک کی تمام ثقافتیں اس شہرمیں جمع ہو چکی ہیں۔
ان طلباء اور ان کے خاندانوں کے یہاں شفٹ ہو جانے سے مقامی معیشت کو بہت توانائی مل رہی ہے تاہم وہ بھی اپنے علاقوں سے سامان لا کر مقامی مارکیٹ کو سپلائی دے رہے ہیں۔ مثلاً بہاول پور کی عوام کی اکثریت کو پتہ بھی نہیں تھا کہ بلوچی چپل، مری کٹ چپل وغیرہ کس ڈیزائن کی ہوتی ہیں لیکن اب آپ لائبریری چوک سے تھوڑا اندر کلاسک ناول "چاکیواڑہ میں وصال” کے مصنف کے خاندان کے ایک بزرگ کی زیرِ نگرانی تعمیر ہونے والی تاریخی اور خوبصورت مسجد "مولوی اختر والی مسجد” کی طرف بڑھیں تو وہاں بلوچی، مری، بگتی، پشاوری اور دیگر تمام کٹ کے شوز آپ کو مل جائیں گے۔ گلگتی مومو کیا ہوتا ہے؟ بہاول پور میں اس کا تصور تک نہ تھا اور اب آپ کو شہر میں گلگتی مومو کے اسٹالز مل جائیں گے۔
لاہور، کراچی، دہلی، کلکتہ، بمبئی، ملتان، فیصل آباد اور دیگر کچھ بڑے شہروں کی طرح بہاول پور شہر بھی اب پھیلنے لگ گیا ہے۔ وجہ یہ کہ دیہاتوں اور چھوٹے شہروں سے لوگ مسلسل بہاول پور شہر کی طرف مستقل بنیادوں پہ منتقل ہو رہے ہیں۔ راقم کا خیال ہے کہ انڈیا، پاکستان، سری لنکا، بنگلہ دیش اور بھوٹان وغیرہ کی معیشت کی اصل بنیاد زراعت ہے۔ جب آپ زراعت اور ایگرو انڈسٹری کو نظر انداز کر یں گے اور کسان کو حقیر سمجھیں گے تو پھر امریکہ یورپ سے بھی بھاری مشاہروں پہ ماہرین بلواکر معیشت کا قبلہ درست نہیں کر سکتے۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ ہم دوست ممالک سے سرمایہ لا کر یہاں انڈسٹریالائیزیشن کر دیں گے تو بھی شہروں کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کی وجہ سے سِوک اشوز اور نہ کنٹرول ہونے والے جرائم جیسے جو مسائل پیدا ہو رہے ہیں ان کو تو آپ حل نہیں کر سکتے۔
لوگ نیا مکان بنانے کے لیے اپنا ساٹھ سترسال پرانا مکان گراتے ہیں تو ملبہ کباڑیوں کو بیچتے ہیں۔ کباڑی پرانے مکانوں کی لنٹر چھتوں سے لوہے کا سریا نکال کر لاتے ہیں۔ کرپشن کی تو حالت یہ ہے کہ کچھ کباڑیوں اور سرکاری پراجیکٹس کے کچھ ٹھیکیداروں کی ملی بھگت سے اس زنگ آلود اور انتہائی خستہ حالت والے پرانے سریا کو کالا رنگ کیا جاتا ہے اور وہ کسی نئے سرکاری اسکول یا نئے سرکاری ہسپتال کی لنٹر چھت کی تعمیر میں استعمال ہو جاتا ہے۔ بعد میں پتہ چلتا ہے کہ نئے تعمیر ہونے والے سرکاری اسکول یا سرکاری ہسپتال کے کسی وارڈ کی چھت گر گئی، الزام بارش اور زلزلہ کے ہلکے پھلکے جھٹکے کو دے دیا جاتا ہے۔ شہروں کا پھیلاؤ تو اس طرح کی کرپشن پہ بھی پردہ ڈال دیتا ہے۔
کیسا سایہ ہے ارواحِ خبیثہ کا دیس پہ اکبر میاں
رات پھیلی ہے صدیوں پہ سویرا کیوں نہیں آتا
یاد رکھیں اگر آپ جنوبی ایشیا کی معیشت کو مزید تباہی سے بچانا چاہتے ہیں تو امریکہ یورپ سے آنے والے ماہرین آپ کو اس تباہی سے نہیں بچا سکتے جب تک کہ آپ دیہات سے شہر کی طرف ہجرت کو نہیں روک پاتے۔ اس ہجرت کو روکنے کے لیے اکبر شیخ اکبر اپنے گذشتہ بلاگز میں بھی کافی تجاویز دے چکا ہے۔ اس وقت کراچی اور بمبئی کا کیا حال ہو چکا ہے۔ سو کلومیٹرز کی لمبائی اور تین کروڑ کی آبادی سے بھی تجاوز کر جانے والے ان شہروں میں پولیس سے جرائم ہی کنٹرول نہیں ہو پا رہے۔ لوگ پینے کے صاف پانی کے لیے ترس رہے ہیں۔
دیکھیں، دیہات سے شہر کی طرف ہجرت کو روکنے کے لیے آپ دیہاتوں میں کاٹیج اور ایگرو انڈسٹری کے قیام کو فروغ دیں۔ پالیسی بنا دیں کہ بڑے شہروں کے اندر اور قریب کاٹیج اور ایگرو انڈسٹری کے قیام پہ مستقل پابندی عائد رہے گی اور اس طرح کی انڈسٹری صرف دیہاتی علاقوں میں لگائی جا سکے گی۔ قانون بنا دیں کہ کوئی بھی فرد پچاس ایکڑ سے زیادہ نہری زرعی رقبہ اپنی ملکیت میں نہیں رکھ سکتا۔ خودبخود زرعی اصلاحات ہو جائیں گی۔ تیسرا دیہاتوں کے درمیان گزرنے والی ہائی ویز کے کناروں پہ یونیورسٹیز، کالجز اور اسٹینڈرڈ اسکولوں کے کیمپس بنا دیں اور تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتالوں اور رورل ہیلتھ سینٹرز کے اندر ویڈیو کانفرنس سسٹم انسٹال کر دیں تاکہ اگر اسپیشلسٹ کنسلٹنٹ ڈاکٹرز وہاں اپنی پوسٹنگ نہیں بھی چاہتے یا تبادلہ کروا کر بڑے شہروں کے سول ہسپتالوں میں واپس چلے جاتے ہیں تو وہ کم ازکم اس ویڈیو کانفرنس سسٹم کے ذریعہ دیہاتوں اور قصبوں کے مریضوں کا معائنہ کر کے دوا تجویز کر دیں۔ لوگ اپنے بچوں کو بڑے شہروں کے معیاری تعلیمی اداروں میں پڑھانے اور اپنے پیاروں کا بڑے شہروں کے سول ہسپتالوں میں علاج کروانے کے لیے بھی دیہات سے شہروں کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں۔
ہاں تو جب ہم نے کھانا کھا لیا تو ملک نے ایک واقعہ سنایا۔ واضح رہے کہ اس قصّے کو جنوبی ایشیا کے کسی بھی ملک کے سیاسی حالات کے ساتھ نہ جوڑا جائے۔ کہنے لگا، بہاول پور شہر کے علاقہ اندرون فرید گیٹ میں رہائش پذیر پیر صاحب نے حکم دیا کہ اپنی جیپ لاؤ، چولستان روہی مریدوں کے پاس "اُگاڑی” (نذرانہ وصولی) کرنے جانا ہے۔
پہلے مرید کے گھر گئے اس نے کھانے پینے کی خدمت خوب کی اور کہا شاہ صاحب جو دودھ دینے والا جانور آپ کو پسند ہے بہاول پور شہر آپ کے گھر پہنچا دیا جائے گا۔ گندم کی بوریاں بھی پہنچ جائیں گی۔ دوسرے مرید کے گھر گئے تو دودھ دینے والی ایک ہی گائے کھڑی تھی۔ پیر صاحب کو پسند آگئی۔ حکم دیا کہ میر ے گھر پہ پہنچا دو۔ اس نے عرض کی "پیر صاحب! ابھی میرے بچے اس کا دودھ پی رہے ہیں۔ یہ بچہ دے گی وہ آپ کے گھر دے آؤں گا”۔ پیر صاحب غصّہ میں آگئے اور اس مرید کو بد دُعا دے کر آ گئے۔
تیسرے مرید کے گھر گئے وہ بہت غریب تھا، پریشان ہو گیا کہ اب پیر صاحب کی خدمت کیسے کرے۔ پیر صاحب نے کہروڑ پکا سے سونے اور چاندی کی تاروں کے کام والا ایک کُھسّہ اپنے کسی جاگیردار مرید سے فرمائش کر کے بنوایا تھا۔ مرید نے عرض کی "سرکار! تُساں دی مبارک جُتی میلی نہ تھی ونجے” (سرکار! آپ کا جوتا مبارک کہیں میلا نہ ہو جائے) اور اسے کپڑے میں لپیٹ کر دوسرے کمرے میں اونچی جگہ پہ رکھ دیا اور پیر صاحب کے سامنے ایک ہوائی چپل رکھ دی۔ پیر صاحب مطمئن کہ جاتے ہوئے پہن لیں گے۔
مرید ناشتہ میں بٹیر کا سالن پکواتا تو دوپہر کو تیتر کا قورمہ تیار ہوتا۔ رات کو بکرے کی سجی ہوتی۔ پیر صاحب ہر بار کھانا تناول فرما کر تعریف کرتے تو مرید فوراً عرض کرتا "پیر سائیں! "اے تُساں دی جُتی مبارک دے صدقے” (پیر سائیں! یہ سب کچھ آپ کی جوتی مبارک کے صدقے ہے)۔
روانگی کے وقت پیر سائیں نے اپنا کُھسّہ واپس مانگا تو مرید نے عرض کیا کہ وہ تو اُسے ڈیرہ نواب شہر بیس ہزار روپے کا بیچ آیا تھا۔ پیر صاحب کو "سنوار” (چکر) آگئے اور غم وغصّہ سے چیختی ہوئی آواز میں بولے "ناہنجار تجھے پتہ ہے کُھسہ کتنے کا آیا تھا۔ پورے پانچ لاکھ روپے کا”۔
مرید نے لرزتے کانپتے ہاتھ جوڑ کر کہا "سائیں! پھر میں کیا کرتا۔ آپ کو رنگ برنگے پکوان بھی تو کِھلانے تھے”۔ پیر صاحب غش کھا کر چارپائی پہ گر پڑے۔
"اکبر بھائی! وَل پیر صاحب میکوں نہ آکھا جیپ گِھن آ،روہی چلوں” (پھر پیر صاحب نے مجھے کبھی نہ کہا جیپ لاؤ روہی چلیں) ملک نے مسکراتے ہوئے اپنی بات مکمل کی۔


