ایک نانبائی اور ایک سپاہی کی الف لیلوی کہانی


آج یہ منشی ایک وکیل صاحب کے پاس بیٹھا تھا تو ایک دلچسپ قصہ سنا۔ راوی کہتا ہے کہ دور بہت دور ملک نیمروز کی خوبرو عوام دوست ملکہ نے فرمان جاری کیا کہ اس کی سلطنت میں روٹی کی قیمت سولہ روپے اور سادہ نان کی قیمت بیس روپے وصول کی جاوے۔ جو نانبائی حکم عدولی کرے اسے عبرت کا نشان بنا دیا جاوے۔

دروغ بہ گردن راوی، ہوا یوں کہ کوتوالی کا ایک سفید پوش سپاہی ایک نانبائی کے پاس پہنچا اور اسے ایک عدد روغنی نان لگانے کا حکم دیا۔ نانبائی نے حکم کی تعمیل کی اور ایک عدد روغنی نان لگا دیا قیمت جس کی تیس روپے تھی۔ سپاہی نے اسے کہا کہ رسید بنا دو، مگر ایسا کرو کہ رسید پر روغنی نان مت لکھنا کہ میرے صاحب خفا ہوں گے کہ میں عیاشی کرتا پھر رہا ہوں، گھی میں چوپڑی روٹی کھاتا ہوں اور ٹھنڈا میٹھا شربت پیتا ہوں، رسید پر سادہ نان لکھنا کہ غریبوں کی یہی غذا ہے۔

نانبائی نے، کہ گاہکوں کی فرمائش پوری کرنے کا عادی تھا، حکم کی تعمیل کی اور جھٹ پرچی کاٹ دی کہ یک عدد سادہ نان گاہک کو دیا گیا اور اس کے عیوض تیس روپلی سکہ رائج الوقت وصول پایا کہ نصف جن کے پندرہ روپلی ہوتے ہیں۔

سفید پوش سپاہی نے ایک ہاتھ میں نان پکڑا اور دوسرے میں رسید۔ پھر اس نے بہت ذوق و شوق سے گرما گرم لذیذ نان کھانے کے بعد اپنی جیب سے رومال نکالا، خوب احتیاط سے ہاتھ یوں پونچھے کہ ان پر سے چکنائی ایسے غائب ہوئی کہ جلد پر خشکی کے آثار نمودار ہوئے۔ پھر اس نے نانبائی سے وصول کردہ پرچی ہوا میں لہراتے ہوئے ایک پرچہ کاٹ دیا کہ یہ نابکار نانبائی ریاست سے بغاوت پر آمادہ ہے، بیس روپے کی بجائے تیس روپے کا نان بیچتا ہے، دیکھو یہ اس کے اپنے ہاتھ کی لکھی رسید جس پر رقم ہے کہ ایک سادہ نان اس نے تیس روپے کا مجھ غریب کو بیچا ہے۔

راوی کہتا ہے کہ نانبائی کے خیر خواہ اب وکیلوں کے دفتروں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ نانبائی حوالات میں بند چکی پیس رہا ہے۔ اور سپاہی اپنے افسران سے شاباش پا رہا ہے کہ اس کی فرض شناسی کے سبب بھوکے ننگے عوام کو سستی روٹی مل رہی ہے۔

ہمارا تمہارا خدا ہی جانتا ہے کہ قصہ سچا ہے یا جھوٹا، لیکن الف لیلہ میں تو ایسے ہی قصے ہوتے ہیں جن پر یقین بھی آتا ہے اور بے یقینی بھی ہوتی ہے۔ راوی بھلا کب ہمیشہ سچ بولتے ہیں۔ لیکن کبھی کبھی بول بھی دیتے ہیں۔ اب ملک نیم روز میں روٹی پر سختی آئے گی تو جھوٹے سچے قصے تو بنیں گے۔ قصہ دلچسپ ہو تو بندہ ویسا ہی لطف پاتا ہے جیسا گرما گرم روغنی نان کھا کر، خواہ قصہ حقیقی ہو یا من گھڑت۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar