کتابوں کی جلد سازی میں انسانی کھال بھی استعمال ہوتی رہی
کتابوں کے رَسیا افراد اور طالب علموں کو اپنی کتابیں پیاری ہوتی ہیں۔ کتابوں کو اصل حالت میں رکھنے اور انہیں محفوظ کرنے کے لئے مختلف طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔ اُن طریقوں میں جلد سازی بھی ایک فن ہے۔ منتشر اور پریشان اوراق کو یکجا اور ترتیب دے کر کتابی شکل میں دینے کے لئے ڈوری اور چپکانے کے لئے کوئی شے گوند وغیرہ استعمال کی جاتی ہے۔ کتابوں کی جلدیں بنانے والے کو جلد ساز کہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ جلد سازی کی ابتدا ہندوستان سے ہوئی تھی، جہاں مذہبی تحریروں کو پام کے پتوں پر تحریر کیا جاتا تھا۔
اُن پتوں کو دو برابر حصوں میں کاٹ کر انہیں خشک کرتے اور ان پر روشنائی پھیر دی جاتی تھی جس کے باعث الفاظ اُبھر آتے تھے۔ بعد ازاں اُن پتوں پر نمبر ڈال کر انہیں دھاگے سے ایک دوسرے سے منسلک کر دیا جاتا تھا۔ اُن اوراق کو لکڑی کے تختوں کے گرد لپیٹ دیتے تھے۔ پہلی صدی قبل از مسیح میں بدھ مت کے مذہبی لوگ یا ”جاگت“ (راہب) نے یہ تصور ایران اور افغانستان سے لیا تھا۔
پرانے زمانے میں کتابوں کی ضرورت نہ تھی۔ یونان میں تیس چالیس صفحات کو جو ہاتھوں میں سما سکتے تھے لپیٹ کر رکھ دیا جاتا تھا لیکن جو زیادہ ضخیم اور طویل تحریریں تھیں انہیں یا تو کبھی پڑھا ہی نہیں گیا اور اگر کبھی پڑھنا بھی پڑا تو اس طرح کہ کوئی ایک شخص اُسے لے کر کھڑا ہوجاتا اور دوسرا پڑھ لیتا تھا۔ عموماً اُن صفحات کو موم جامہ کر دیا جاتا تھا تاکہ اُن کی عمر بڑھ جائے اور جلدی پھٹ نہ سکیں۔
جلدسازی کے کم و بیش ایک درجن سے زائد مستند اور مروجہ طریقے ہیں۔ برصغیر میں مسلم دورِ حکمرانی میں کتابت کے لیے مخطوطات کی تیاری میں کاغذ کا استعمال کیا جانے لگا تھا اور کتابیں باقاعدہ طور پر مجلد کی جانے لگی تھیں۔ مسلمان حکمرانوں نے برصغیر میں دوسرے علوم و فنون کی ترقی کے علاوہ فن کتابت، جلد سازی، اس کی خوبصورتی اور خوشنمائی کی جانب بھی بھر پور توجہ دی۔ خطاطی کے ساتھ اُس دور میں جلد سازی اور اس پر نقش و نگا ر کو عروج حاصل ہوا۔ مغلیہ دور میں کتب سازی اور زیبائش کے اہل ہنر مند لوگوں کی سرپرستی کی جانے لگی تھی۔
کہتے ہیں فن جلدسازی ایتھوپیا حبشہ سے ہندوستان میں آیا کیونکہ مجلد کتاب مصحف کے معانی مستعمل ہیں وہ دراصل حبشہ کی زبان سے لئے گئے ہیں۔ عہد مغلیہ میں بادشاہوں اور نوابین نے ایرانی جلد سازوں کو یہاں ملازمتیں دیں کیونکہ وہ لوگ کاغذ اور چمڑے کی اشیا بنانے کا ہنر جانتے تھے۔ ایرانی ہنر مندوں کے باعث یہاں کے لوگوں نے بھی یہ ہنر سیکھا یہی وجہ تھی کہ مغلوں کے دور میں چمڑے کی مصنوعات کی تیاری بڑے پیمانے پر کی جانے لگی اور اس طرح اس کا استعمال جلد سازی کے لیے کافی حد تک بڑھتا گیا۔
مغلوں کی سرپرستی کی وجہ سے مرصع جلد سازی، فن خطاطی اور مصورانہ کتابوں کے فن نے حیرت انگیز ترقی کی۔ برصغیر پر مسلم دور حکومت میں جلد سازی کو ایک فن کی حیثیت حاصل تھی اور محکمہ جلد سازی لائبریری کا ایک لازمی جزو تھا۔ تقریباً ہر بڑی لائبریری میں دوسرے سینئر عملے کے ساتھ حاشیے بنانے والے اور جلد ساز مقرر تھے اور جلد ساز بڑے بڑے تنخواہ دار افسر ہوتے تھے۔ بابر سے شاہجہاں تک کتابوں پر فن مصوری کی بھی اِسی طرح حوصلہ افزائی کی جس طرح مخطوطات کو جلدوں کی آرائش و زیبائش اور نقش و نگار سے آراستہ کرنے کے لیے کی گئی۔
بابر نے ہندوستان کو فتح کیا تو یہاں فن مصوری اور باتصویر مخطوطات کے فن کو بھی اپنی سرپرستی عطا کی۔ بابر نے اپنے مشہور زمانہ کتاب تزکِ بابری میں کتابوں سے بے پناہ لگاؤ کا ذکر کیا ہے۔ مغلیہ دور کے مصور، جن میں بہزاد اور شاہ مظفر کے نام شامل ہیں، اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ مغل فرمانرواؤں کو علم و حکمت اور صنعت و حرفت کے ساتھ ساتھ فنون لطیفہ سے بھی بے حد شغف تھا۔
ہمایوں اپنی جلاوطنی کے دوران ایران کے شاہ طہماسپ کے دربار کے مصوروں سے بہت متاثر تھا۔ چنانچہ واپسی پر بہت سے ہنر مندوں کو اپنے ساتھ لایا تو ان میں ماہر خطاط، جلد ساز اور مخطوطات پر خوبصورت مصوری کرنے والے اہل فن بھی شامل تھے جن کی اُس نے اپنے دربار میں عزت افزائی کی۔ داستان امیر حمزہ کا مصوری مخطوطہ جو بارہ جلدوں پر مشتمل تھا، اُس کی ہر جلد میں سو اوراق ہیں اور ہر ورق پر ایک تصویر ہے۔ کہتے ہیں کہ داستان امیر حمزہ کو باتصویر کرنے کے لیے پچاس مصور مقرر کیے گئے تھے۔
اکبر بادشاہ نے عبداللہ کی شاگردی میں فن مصوری کا مطالعہ کیا۔ مصوری اور کتابی تصویر سازی سے اکبر کو غیر معمولی دلچسپی تھی۔ اس کے دربار سے تقریباً سو مصور وابستہ تھے جو فتح پور سیکری میں شان دار عمارات میں فن مصوری کے نادر نمونے تخلیق کرتے رہتے تھے۔ جہانگیر نے بھی مخطوطات کو مصوری اور نقش و نگار سے سجانے کی سرپرستی کی۔ وہ خود بھی فن مصوری کا بڑا دلدادہ تھا۔ اُس کی طرح شاہجہاں بھی مصوری کا بڑا شائق تھا مگر مصوری اور فن کتابت کو اتنی سرپرستی حاصل نہ ہوئی جو کہ ان کے اجداد سے حاصل ہوئی تھی۔
اورنگ زیب مصوری اور فن موسیقی سے کوئی دلچسپی نہ رکھتا تھا۔ فن مصوری مخطوطات پر ہو یا الگ کینوس پر، وہ اسلامی احکامات اور اقدار کی وجہ سے ان کو پسند نہ کرتا تھا۔ کتابت اور عمدہ خطاطی کی قدر کرتا تھا۔ مخطوطات اور کتابوں کی جلدوں کی خوبصورتی بیل بوٹوں اور دیدہ زیب جیومیٹریکل ڈیزائن سے تیار کیے ہوئے نسخوں کو بہت پسند کرتا تھا۔ خود بھی اعلیٰ پائے کا خطاط تھا اور قرآن مجید کی خطاطی کر کے قلمی نسخوں کو خانہ کعبہ اور علمی مراکز کو روانہ کرتا تھا۔
مسلمان جلد سازوں نے چمڑے سے مزین کرنے کا ایک نیا طریقہ شروع کیا تھا۔ پہلے وہ جلد کے چمڑے کو چھاپتے تھے اور چھپے ہوئے ڈیزائن کے نشیبی حصوں پر سنہرا رنگ لگاتے تھے، اس کے بعد ایک اور نیا طریقہ شروع کیا تھا۔ جب رنگ کو مستقل شکل دی گئی تو چھاپے کو گرم کر کے سنہرے ورق کی مدد سے چھاپے یا حروف دوبارہ لگایا جانے لگا۔ روایتی جلد سازی میں آج بھی پیتل کے ڈھلے حروف یا ڈیزائنز چاندی یا سونے کے ورق کو درمیان میں رکھ کر اُبھارے جاتے ہیں۔
کتابیں پڑھنے کے شوقین افراد جانتے ہیں کہ اچھی جلدوں سے کتابوں کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ کتابوں پر جلدیں چڑھانے کا فن وقت کے ساتھ خوبصورت ہوتا گیا اور اس فن میں جدت بھی آئی۔ جدید دور کی جلدسازی میں کتابوں کے تحفظ کے لئے جدید اور قدیم طریقے دونوں ہی استعمال کیے جاتے ہیں۔ کتابوں کی جلدسازی کی صدیوں قدیم روایات ہیں وقت کے ساتھ تبدیلیاں آئیں اور آج ہم کتابوں کی خوبصورت جلدیں دیکھتے ہیں اس میں صدیوں کے تجربات ’کوششیں اور تخلیقی عمل شامل ہے۔
”جوہانس گوٹن برگ“ نے 1440 میں پرنٹنگ پریس ایجاد کیا۔ وہ صنعتی انقلاب کا دور تھا، اسی دور میں ٹیکسٹائل انڈسٹری نے بھی فروغ پایا لیکن لوگ ہاتھوں سے سلے ہوئے کپڑے ہی پہنتے تھے۔ 1830 میں سلائی مشین ایجاد ہوئی اور پھر 1868 میں ”ڈیوڈ میکوکونل سمتھ“ نے ایسی مشین کا پیٹنٹ رجسٹر کیا جس سے کتابوں کی بائنڈنگ ہو سکتی تھی۔ مشین کے ذریعے سلائی سے کتابوں کے کاغذ مضبوطی سے اکٹھے کیے جا سکتے تھے۔ یہ طریقہ آج بھی ”بک بائنڈنگ“ کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اسے ”سمتھ سیونگ“ کہتے ہیں۔
سمتھ نے بک بائنڈنگ انڈسٹری کے لئے ”گلوئنگ“ ”کیس میکنگ“ سمیت کئی مشینیں ایجاد کی تھیں۔ 1810۔ 1820 کے دوران برطانوی پبلشرز نے مختلف طرح کے کپڑوں کو ”بائنڈنگ میٹریل“ کے طور پر استعمال کیا۔ ’‘ پرفیکٹ بائنڈنگ ”کا طریقہ 1895 میں ایجاد ہوا تھا لیکن 1931 تک اِسے نہ اپنایا گیا، اُس برس جرمنی کے پبلشر“ البسٹروس بکس ”نے پہلی بار پرفیکٹ بائنڈنگ شروع کی۔ 1935 میں برطانیہ کی“ پینگوئن بکس ”نے بھی یہی طریقہ استعمال کیا۔ پاکٹ بکس کا رجحان 1939 میں امریکہ سے شروع ہوا۔ پہلے پہل“ گولڈ گلو ”استعمال کی جاتی تھی جو سوکھ کر سخت ہوتے ہی کتابوں کی جلد خراب ہونے لگتی تھی تب 1940 میں“ ڈوپونٹ ”کمپنی نے“ ہاٹ میلٹ ”ایجاد کی جس سے بک بائنڈگ کی صنعت میں بہتری آئی۔
ابتدا میں جلدوں پر آرائشی نقوش دھات کے اوزار سے بنائے جاتے تھے لیکن ان میں کوئی رنگ استعمال نہیں کیا جاتا تھا۔ پندرہویں صدی عیسوی سے سونے کے اوراق سے تزئین کا کام شروع ہوا اور اٹلی میں وینس شہر کے جلد سازوں نے اِس میں خاصی مہارت حاصل کی۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ اٹلی میں جلد سازی سپین سے آئی۔
1530 تک اطالوی طلائی جلدیں یورپ میں سب سے اعلیٰ تھیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ فرانس کے جلد ساز اطالوی جلد سازوں سے متاثر تھے اور انہی کی تقلید کرتے تھے۔ سولہویں صدی عیسوی کی اعلیٰ شاہی کتب کی جلدیں جو برطانوی شہنشاہوں اور امرا کے پاس ملتی ہیں فرانس کے جلد سازوں کی بنی ہوئی ہیں۔ برطانوی جلد سازوں نے ان نمونوں سے متاثر ہو کر اس فن کو برطانیہ میں رواج دیا۔ مختلف دھات سے بنے ہوئے اوزار ایجاد کیے جو جلد کی آرائش میں استعمال ہوئے۔
جلد سازی میں لیس یعنی کپڑے کی پٹی کا استعمال شروع کیا۔ برطانوی جلد سازوں نے جلد کی آرائش کے لیے دھاتی ٹھپوں اور پٹیوں کو بہت خوبصورتی سے استعمال کیا۔ جلد کی پشت (سپائن) کو نہایت محنت کے ساتھ تیار کیا جاتا تھا۔ اٹھارہویں صدی عیسوی کے آغاز میں موزایق جلد سازی کا رواج ہوا۔ جلدوں کی آرائش میں کتاب کے کناروں کو طلائی رنگ (Gilt Edge) دینے کا رواج ہوا۔ کتابوں کی آرائش میں ایک اور تجربہ یہ کیا گیا کہ کتابوں کے صفحات کے کناروں پر خوبصورت نقوش یا مناظر چھاپے گئے۔
کتاب کے صفحات کو تھوڑا سا موڑنے یا کھولنے پر یہ نظر آتے لیکن جب کتاب کی جلد کو بند کر دیا جاتا تو یہ مناظر کناروں کے طلائی رنگ میں چھپ جاتے۔ اسی طرح جلد کی اندرونی سطحوں کو بھی خوبصورت ڈیزائن اور کاغذ سے مزین کرنے کا رواج ہوا۔ جلد کے کناروں اور کونوں کی آرائش پر خاص توجہ دی جاتی۔ یہ تمام کام ہاتھ سے انجام دیے جاتے تھے۔
کئی سو سال قبل کی خستہ حال کتابوں اور نسخوں کو کس طرح بحال کر کے دوبارہ پڑھنے کے قابل بنایا جاسکتا ہے؟ فلپائن کی یو ایس ٹی ہیریٹج لائبریری قدیم مخطوطات کو نئے جیسا بنانے کے حوالے سے نہایت مقبول ہے، جہاں پانچ سو سال یا اس سے بھی قدیم کتابوں کی بحالی و درستگی پر کام کیا جاتا ہے۔ نہایت بوسیدہ اور دگرگوں حالت میں کتابوں کو درست حالت میں لانے کے لیے سب سے پہلے اس کے صفحات کو ترتیب دی جاتی ہے۔ پیوریفائیڈ پانی اور کیمیکلز کے ذریعے ہر صفحہ کو دھو کر اس میں سے تیزابی عناصر ختم کیے جاتے ہیں۔
اس کے بعد کاغذ کو بہتر کرنے کے ایک عمل ”لیف کاسٹنگ“ کے ذریعے کاغذ پر موجود سوراخوں اور دھبوں وغیرہ کو ختم کیا جاتا ہے۔ لیف کاسٹنگ کے عمل میں بوسیدہ کاغذ کو خصوصی طور پر تیار کردہ کاغذ کے ساتھ ملا کر کیمیائی اجزا کے پانی سے گزارا جاتا ہے۔ اس عمل سے بوسیدہ کاغذ میں موجود سوراخوں میں دوسرا کاغذ بیٹھ جاتا ہے۔ بعد ازاں اضافی کاغذ کو کاٹ کر نکال دیا جاتا ہے۔ ہر بار دھونے کے بعد ایک ایک صفحے کو خشک کیا جاتا ہے جس کے بعد ان صفحات کو ٹشو پیپر سے لپیٹ دیا جاتا ہے۔ اِس طرح صفحے بہترین حالت میں آ جاتے ہیں جس کے بعد انہیں نئی جلد سازی کر کے نیا بنا دیا جاتا ہے۔
انسانی کھال سے کتابوں کی جلدیں
امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک لائبریری میں ”ڈیس ڈیسٹنیز ڈی لا مے“
( Des Destinees de l ’Ame )
یا ”روح کی تقدیریں“
(Destinies of the Soul)
نامی ایک کتاب ہے جس کے بارے میں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس کی جلد سازی میں انسانی کھال استعمال کی گئی تھی۔ یہ کتاب 1880 کے وسط میں لکھی گئی تھی اور یہ ہیوٹن لائبریری میں 1930 سے موجود ہے۔ یہ کتاب مصنف ”آرسن ہاؤ سے“ نے 1880 کے وسط میں اپنے دوست ”ڈاکٹر لدووک باؤلینڈ“ کو دی تھی۔ ”ہاؤسے“ فرانسیسی شاعر اور ناول نگار تھے۔ ”ڈاکٹر باؤلینڈ“ ہی نے اِس کتاب کی جلد سازی کے لیے انسانی کھال استعمال کی اور یہ کھال ایک ایسی ذہنی مریضہ کی تھی جو انتقال کر گئی تھی، جس کی لاش کو لاوارث قرار دے دیا گیا تھا۔ ہیوٹن لائبریری میں ہارورڈ ماس سپیکٹرومیٹری اینڈ پروٹومکس ریسورس لیبارٹری
( hayward mass spectrometry and proteomics resource laboratory)
کے بلاگ میں کے مطابق، اس کتاب کے ماخذ اور دستیاب تجزیاتی مواد سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ جلد میں استعمال کیا جانے والا چمڑا انسانی کھال سے بنا تھا اور جلد انسانی کھال ہی کی ہے۔ کتابوں کی جلد سازی کے فن میں انسانی کھال کے استعمال کی روایت سولہویں صدی کے اوائل تک جاتی دکھائی دیتی ہے۔ انیسویں صدی میں ایسے حوالے ملتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ پھانسی پانے والے لوگوں کے جسم طبی تجزیوں کے لیے دے دیے جاتے تھے اور بعد میں ان کے جسموں کی کھال جلد سازی کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔
انسانی کھالوں سے بنی کتابی جلدوں کی ایک مثال ”برسٹل ریکارڈ آفس“ برطانیہ سے بھی ملتی ہے کہ 1821 میں ایک نوجوان ”جان ہاروڈ“ کو ایک عورت ”ایلزا بلسم“ کو قتل کرنے پر پھانسی دی گئی تھی، اُسکے جسم کے طبی معائنے کے بعد اُسکی کھال جرائم کی کہانیوں کی کتاب کی جلد سازی میں استعمال ہوئی۔ ”روح کی تقدیر یں“ نامی اس کتاب کے اندر ڈاکٹر باؤلینڈ کا لکھا ہوا ایک نوٹ بھی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس کتاب کی زیبائش کو بڑھانے کے لیے اسے کسی بھی مہر کے سے آراستہ کرنے کی ضرورت نہیں۔
نوٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ”میں نے انسانی جلد کا یہ ٹکڑا ایک عورت کی پیٹھ سے لیا تھا“ ۔ ان کا کہنا ہے کہ ’انسانی روح کے بارے میں لکھی جانے والی یہ کتاب اس بات کی مستحق ہے کہ اس کی جلد بھی انسانی کھال سے ہی بنائی جائے۔ اس کتاب میں روح اور حیات بعد از مرگ کے مسائل کو موضوع بنایا گیا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ ہاروڈ میں یہ واحد کتاب ہے جس کی جلد سازی کے لیے انسانی کھال استعمال کی گئی ہے۔ اس بات کی تصدیق کے لیے کہ یونیورسٹی میں قانون اور میڈیکل سکولوں کی لائبریریوں میں موجود تمام کتابوں کی جلدوں کا تجزیہ کیا گیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کوئی اور کتاب تو ایسی نہیں جس کی جلد میں انسانی کھال کا استعمال کیا گیا ہو۔ ان تجزیوں سے یہ ثابت ہوا کہ تمام ایسی کتابیں جن کی جلد چمڑے سے کی گئی تھی ان کے لیے بھیڑ کی کھال استعمال کی جاتی تھی۔


