دولت مند کولیگز : رحمت یا زحمت


مجھے ایک سرکاری ادارے میں جاب کرتے ہوئے کافی سال ہو چکے ہیں۔ اچھا برا وقت سب دیکھا اور سہ بھی لیا لیکن ایک بات نہیں سہی جاتی وہ ہے اپنی ہم سکیل کولیگز کا غرور، تکبر اور شو آف کرنے کی عادت۔

ایسی اکثریت ان کی ہوتی ہے جو فرماتی ہیں کہ ہم بڑے امیر کبیر فیملی بیک گراؤنڈ کی ہیں، لاکھوں کروڑوں ہمارے گھر کی آمدنی ہے، بڑے بڑے کاروبار ہمارے ہیں، بے تحاشا زمینیں ہماری ہیں، گھر پر درجنوں ملازم ہمارے ہیں اور ہم شوقیہ جاب کرنے آتی ہیں۔ اپنے رویے سے یہ دوسروں کو یہ باور کرواتی ہیں کہ جیسے تم سب ہمارے آگے کچھ بھی نہیں صرف کیڑا مکوڑا ہو۔ یہ ایسے ظاہر کرتی ہیں جیسے ملازمت پر آ کر ہم پر احسان عظیم فرما رہی ہیں۔

موقع ملتے ہی راجہ اندر کی طرح مجمع لگا کر بیٹھ جاتی ہیں اور شروع ہو جاتی ہیں اپنی خاندانی عظمت اور بڑائی کا پرچار کرنے۔ رائی کا پہاڑ بنانا ان کی عادت ہوتی ہے۔ مہنگے کپڑے، میک اپ اور جیولری پہن کر یہ اپنے امیر کبیر خاندانی بیک گراؤنڈ اور رشتہ داروں کی کہانیاں سنا سنا کر دماغ کا دہی بنا دیتی ہیں۔ جس پر سادہ لوح کولیگز کی اکثریت متاثر ہو کر ان کے آگے پیچھے بھی پھرنے لگتی ہے اور انہیں ایسے خصوصی پروٹوکول دیتی ہے جیسے یہ اپنی قصے کہانیوں والی فرضی جائیداد یا بینک بیلنس کا کچھ حصہ واقعی ان کے نام ہی کر دیں گی۔ مجھے تو ایسے نمونے نرا زہر لگتے ہیں۔ امپریس تو میں خود کے علاوہ کبھی کسی سے نہیں ہوئی۔ ایسے نمونے مجھے پرائیویٹ اور سرکاری جاب ہر جگہ مل چکے ہیں اور انہیں میں اب بھی بھگت رہی ہوں۔

ایسے لوگ ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں میں یہی کہنا چاہتی ہوں کہ بھئی اگر آپ اتنا ہی سونے کا چمچ منہ میں لے کر پیدا ہوئے ہیں اتنا ہی آپ کا خاندان امیر کبیر، با اختیار اور با اثر ہے جیسا آپ گپ شپ میں بتاتے ہیں تو آپ کو چھوٹے سے سکیل کی نوکری کر کے کھپنے کی کیا ضرورت ہے وہ بھی تھوڑی سی سیلری کے لیے۔ آپ کو تو کسی محل میں عیش و عشرت سے رہنا چاہیے۔

ہم جیسوں کی تو مجبوری ہے کہ ہمیں جاب کرنی پڑتی ہے کہ سیلری سے خود اور گھر کے خرچے پورے کرنے ہوتے ہیں لیکن اگر آپ ہمارے ساتھ معمولی سکیل پر معمولی جاب کر رہے ہیں تو تنخواہ لینے کے لیے ہی کر رہے ہیں ناں۔ اگر اتنے ہی امیر ہیں اور پیسے کے لیے جاب نہیں کر رہے تو پھر یا تو سیلری نہ لیا کریں یا سیلری کسی ضرورت مند کو دان کر دیا کریں۔ لیکن نہیں آپ تو اپنی سیلری لے رہے ہیں تو جاب کا ایک مقصد پھر پیسا کمانا بھی تو ہوا ناں آپ کا تو پھر آپ میں اور ہم میں کیا فرق ہوا؟

جاب تو دونوں پھر سیلری کے لیے ہی کر رہے ہیں۔ ہم آپ کی فضول کی امیری کبیری کی گپ شپ اور قصے کہانیوں یا دکھاوے سے بالکل متاثر ہونے والے نہیں اور جو متاثر ہوتے ہیں ان کے لیے بھی دعا ہے اللہ ان کو عقل دے۔ آپ کو حق نہیں کہ ہماری سادگی پر ہمارا مذاق اڑائیں۔ ایسے لوگ زحمت ہی ثابت ہوتے ہیں۔ مانا کہ سب ایسے نہیں ہوتے مگر اکثریت ان کی ایسی ہی ہوتی ہے۔

آخر پر یہی کہوں گی کہ کوئی کام چھوٹا بڑا نہیں ہوتا لیکن ایک جگہ جب بہت سے لوگ ایک سکیل پر سیلری کے لیے ایک جیسا کام کرتے ہیں تو سب ادھر برابر ہوتے ہیں۔ کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہوتا۔ کسی انسان کا اخلاق و کردار ہی اسے چھوٹا یا بڑا بناتا ہے۔ دنیا تو عارضی ٹھکانہ ہے۔ موت سب کو برابر کر دیتی ہے۔

 

Facebook Comments HS