بڑھاپے میں جنسی قوت، پراسٹیٹ اور دل کے امراض کا باہمی تعلق


پراسٹیٹ گلینڈ انسان کی جنسی قوتوں کا اہم محرک ہے، بڑھاپا میں جس طرح دیگر اعضا کے افعال متاثر ہوتے ہیں پراسٹیٹ کے افعال بھی متاثر ہوتے ہیں۔ عموماً پچپن سے ساٹھ سال کی عمر میں پراسٹیٹ غدود میں سوزش پیدا ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ پراسٹیٹ کا سائز بڑھ جاتا ہے جس وجہ سے پیشاب کی نالی تنگ ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ بعض مریضوں میں پراسٹیٹ کا سائز زیادہ نہیں بڑھتا مگر سوزش کی وجہ سے پراسٹیٹ زخم یا ٹیومر کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ دس میں سے آٹھ مردوں کو پراسٹیٹ کا مسئلہ ہوتا ہے۔ پراسٹیٹ کی بیماری کی علامات درج ذیل ہو سکتی ہیں۔

رات کو پیشاب کے لیے تین دفعہ یا اس سے زیادہ دفعہ اٹھنا۔
دن میں پیشاب بار بار آنا
پیشاب کرنے کے بعد محسوس کرنا کہ سارا پیشاب خارج نہیں ہوا کچھ پیشاب ابھی بلیڈر میں باقی ہے۔
دن یا رات کے وقت جاگتے یا سوتے تحریک کے بغیر مادہ خارج ہونا۔
پراسٹیٹ میں درد ہونا
پیشاب کی دھار باریک ہونا
پیشاب کرتے وقت درد، جلن، چبھن ہونا۔

بعض مردوں کو طویل العمری کے باوجود پراسٹیٹ کا مسئلہ نہیں ہوتا لیکن عموماً مردوں کو یہ عارضہ لاحق ہوتا ہے۔ اس کے متعدد اسباب ہیں۔

مرغن اور مغلظ غذاؤں کا کثرت سے استعمال
مغلظ، مسکن اور مقوی ادویات کا استعمال
بڑھاپا
ازدواجی تعلقات میں کمی

پراسٹیٹ کے امراض سے بچاؤ کے لیے احتیاط تحریر کے آخری حصہ میں ملاحظہ کریں۔

بڑھاپا میں انسان کا اعصابی نظام کمزور ہوجاتا ہے، عام جسمانی کمزوری کے ساتھ جنسی کمزوری بھی ظاہر ہوتی ہے مگر اصل چیلنج یہ ہے کہ ایک طرف جنسی قوت کی ضرورت ہوتی ہے تو دوسری طرف پراسٹیٹ اور دل کے امراض کا مسئلہ۔ ایک چیز کا علاج دوسرے کو متاثر کرتا ہے۔ بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور خون پتلا کرنے والی دوائیں ٹیسٹوسٹیرون میں کمی، سختی میں کمی اور اعصابی نظام کو کمزور کرتی ہیں جبکہ مردانہ قوت کی دوائیں اور غذائیں پراسٹیٹ کا مرض پیدا کرتی ہیں اگر پراسٹیٹ پہلے سے خراب ہو تو اس خرابی میں مزید اضافہ کرتی ہیں۔ اسی طرح خون کو گاڑھا کر کے فالج اور دل کے حملہ کا بھی خطرہ پیدا کرتی ہیں۔

بڑھاپے میں مردمی قوت کا محتاط تحفظ

آپ دل کے امراض میں مبتلا ہیں یا نہیں آپ اپنے معالج کی ہدایت کے مطابق مردمی قوت کے لیے دوائیں استعمال کر سکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں اپنے معالج سے رجوع کریں اور کسی بیماری کو نہ چھپائیں۔ علاج کے دوران بوسٹر ڈوز نہ لیں جیسا کہ ایک عام مریض کو اگر دن میں دو دفعہ دوا کھانی ہے تو آپ ایک وقت دوا کھائیں۔ بڑھاپے میں ایسے مریض مجرب اور آزمودہ نسخہ ”لبوبِ کبیر“ معالج کی ہدایت کے مطابق استعمال کریں۔ دوا ہمیشہ دن کے وقت استعمال کریں۔

بڑھاپا میں مغلظ اشیا کا استعمال کم کریں۔ اگر آپ لبوب کبیر استعمال کر رہے ہیں تو اضافی خوراک نہ لیں۔ انڈے کی زردی، بیف، مٹن، اوجھڑی، کلیجی، سرے، پائے، مغز، مٹھائیاں، دیسی بھی، مکھن، بناسپتی گھی، خشک میوہ جات بالخصوص اخروٹ سے پرہیز کریں۔

بڑھاپا میں صالح رطوبت استعمال کریں۔ اگر آپ دوا استعمال نہیں کر رہے تو زیتون کا تیل روزانہ ایک چمچ استعمال کر سکتے ہیں۔

جن کا پراسٹیٹ غدود بڑھا ہوا ہے، یا وہ TURP کروا چکے ہیں ان کے لیے مشورہ ہے کہ وہ مردمی قوت قوت کے لیے کوئی دوا استعمال نہ کریں۔ اگر وہ دوا استعمال کریں گے توان کے مرض میں یقینی اضافہ ہو گا اور پیشاب بند ہونے اور دوبارہ سہ بارہ TURP کی ضرورت پڑے گی۔ البتہ ایسے مریض جو روزانہ کی بنیاد پر Temsulin استعمال کر رہے ہیں، ان کے پراسٹیٹ کا سائز کم ہوا ہے، پیشاب کی دھار ٹھیک ہے وہ کسی حد تک مرغن و مسکن غذائیں دیسی مرغ، چکن، زیتون کا تیل، کھجور اور کبھی کبھار مٹن لے سکتے ہیں۔

 

Facebook Comments HS