کیا ملک میں 35 سال سے بڑی ایک کروڑ خواتین شادی کی منتظر ہیں؟ ڈیٹا کیا کہتا ہے؟


جیو نیوز نے یہ ”خبر“ دی ہے کہ ”ملک میں 35 سال سے بڑی 1 کروڑ خواتین شادی کی منتظر ہیں : رپورٹ“

مضمون کی طوالت میں کچھ اضافہ تو ہو جائے گا مگر سیاق و سباق جاننے کے اس ”خبر“ کو تفصیل سے دیکھ لیتے ہیں۔ اس میں لکھا ہے کہ


"پاکستان کے حوالے سے اقوام متحدہ کی گزشتہ سال کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں 22 ملین (دو کروڑ بیس لاکھ) نوجوان لڑکے اور لڑکیاں رشتہ ازدواج سے منسلک ہونے کے انتظار میں ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مناسب رشتے نہ ہونے کی وجہ سے والدین اپنے بچوں کی شادی کزن سے کروا دیتے ہیں اور کزن کے رشتے نہ ہونے کی وجہ سے والدین اب ذات برادری سے باہر رشتے کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں لیکن اپنی ذات برادری سے باہر مناسب اور معتبر رشتے نہ ہونے کی وجہ سے ہچکچاتے بھی ہیں۔

دوسری جانب شادیوں کے حوالے سے مقبول ایپ ’دل کا رشتہ‘ اس مسئلے کو کافی حد تک حل کر رہی ہے۔

اس ایپلی کیشن کے ذریعے لاکھوں لوگ ایک دوسرے سے متعارف ہوچکے ہیں اور ہزاروں لوگ کامیاب شادی کے بندھن میں بندھ چکے ہیں۔

’دل کا رشتہ‘ ایپ اپنے بہترین فیچرز کی بدولت پاکستان کی سب سے بہترین رشتہ ایپ بن چکی ہے۔

یہ ایپ مصنوعی ذہانت کا استعمال کر کے، صارفین کی پسند اور نا پسند کو مد نظر رکھتے ہوئے تجاویز پیش کرتی ہے اور اس طرح شادی کے عمل کو آسان بناتی ہے۔

’دل کا رشتہ‘ ایپ کی مدد سے آپ مکمل رازداری اور اعتماد کے ساتھ بہترین شریک حیات ڈھونڈ سکتے ہیں۔”


آئیں اب اس ”خبر“ کو مستند ڈیٹا کی روشنی میں جانچتے ہیں۔

ہمیں یو این ڈیٹا کی شادی کے اعداد و شمار کی ایک رپورٹ ملی ہے جس کی بنیاد پاکستان کی 2017 کی مردم شماری ہے اور اسے 2021 میں فائنل کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق 35 سال سے زیادہ عمر کی کل ساڑھے چھے لاکھ ( 654,252 ) ایسی خواتین ہیں جن کی کبھی شادی نہیں ہوئی۔

اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں موجود ڈیٹا کی بنیاد پاکستان کی 2017 کی مردم شماری ہے تو چلیں پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے اوریجنل سورس سے رجوع کرتے ہیں۔

سنہ 2017 کی مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 35 سال سے زیادہ عمر کے کل 53,552,737 مرد و زن ہیں۔ ان میں سے 1,648,395 ایسے مرد و زن ہیں جن کی کبھی بھی شادی نہیں ہوئی۔ 5,538,957 کا شریک حیات انتقال کر چکا ہے۔ 303,358 طلاق یافتہ ہیں۔

پہلے صرف خواتین کے ڈیٹا پر نظر ڈالتے ہیں۔

پینتیس سال سے زیادہ عمر کی ایسی 654,252 ایسی خواتین ہیں جن کی کبھی شادی نہیں ہوئی۔ نوٹ کریں کہ یہی فگر اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں یہاں سے ہی دی ہے۔ 4,145,431 ایسی خواتین ہیں جو بیوہ ہو چکی ہیں اور ان کی دوبارہ شادی نہیں ہوئی۔ 197,830 کو طلاق ہو چکی ہے۔

اگر ہم یہ سوچیں کہ 2017 کا ڈیٹا زیادہ پرانا ہے تو ہم اس میں 25 سال سے زیادہ عمر کی تمام خواتین بھی شامل کر لیتے ہیں اور فرض کرتے ہیں کہ سنہ 2017 کے بعد کسی خاتون کی شادی ہی نہیں ہوئی۔ تو پھر کیا نمبر ملتے ہیں؟

سنہ 2017 کی مردم شماری کے مطابق 25 سال سے زیادہ کی عمر کی کل ایسی خواتین جن کی کبھی شادی نہیں ہوئی، تقریباً اٹھائیس لاکھ ( 2,727,031 ) ہیں۔ تقریباً بیالیس لاکھ ( 4,283,576 ) بیوہ اور تقریباً تین لاکھ ( 303,506 ) طلاق یافتہ ہیں۔ یعنی یہ فرض کرنے کے باوجود کہ سنہ 2017 کے بعد سے کوئی شادی ہی نہیں ہوئی، 25 سال سے زیادہ عمر کی کنواری خواتین کی کل تعداد تقریباً 28 لاکھ ہے۔

اب مردوں کا ڈیٹا دیکھتے ہیں۔

پینتیس برس سے زیادہ عمر کے ایسے تقریباً دس لاکھ ( 983,427 ) مرد ہیں جن کی کبھی شادی نہیں ہوئی۔ تقریباً چودہ لاکھ ( 1,393,526 ) ایسے ہیں جن کی شریک حیات کا انتقال ہو چکا ہے۔ اور تقریباً ایک لاکھ ( 105,528 ) کو طلاق ہو چکی ہے۔

اب مردوں اور عورتوں کے ڈیٹا کا تقابل کریں۔ 2017 کی مردم شماری کے مطابق 35 سال سے زیادہ عمر کے تقریباً دس لاکھ (983,427 ) مرد کنوارے ہیں اور تقریباً ساڑھے چھے لاکھ (654,252 ) خواتین کنواری ہیں۔

تقریباً پچیس لاکھ (2,482,481 ) ایسے مرد اور تقریباً پچاس لاکھ (4,997,513 ) ایسی خواتین ہیں جو تنہا زندگی گزار رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ کی شادی نہیں ہوئی، کچھ کی طلاق ہو گئی اور کچھ کے شریک حیات انتقال کر گئے۔ ایسے 105,528 مرد اور 197,830 خواتین ہیں جو طلاق یافتہ ہیں۔ نوٹ کریں کہ خواتین کی تعداد مردوں سے تقریباً دگنی ہے۔ جبکہ تقریباً چودہ لاکھ ( 1,393,526 ) مرد اور تقریباً اکتالیس لاکھ (4,145,431 ) خواتین ایسے ہیں جن کے شریک حیات انتقال کر گئے اور وہ اب اکیلے ہیں۔ نوٹ کریں کہ خواتین کی تعداد تین گنا ہے۔ ان نمبروں سے پتہ چلتا ہے کہ شریک حیات طلاق یا وفات کی وجہ سے کھو دینے کے بعد مردوں کے لیے شادی کرنا آسان جبکہ خواتین کے لیے مشکل ہے۔

اب ان اعداد و شمار کو دیکھنے کے بعد آپ مضمون کے شروع میں دی گئی جیو کی خبر دوبارہ دیکھیں۔ 35 سال سے زیادہ عمر کی ایسی خواتین جن کی کبھی شادی نہیں ہوئی، ایک کروڑ نہیں ہیں بلکہ ان کی تعداد صرف ساڑھے چھے لاکھ کے قریب ہے۔ اور ایسی خواتین جو شریک حیات کے بغیر زندگی گزار رہی ہیں، ان کی تعداد تقریباً پچاس لاکھ ہے جن میں سے تقریباً اکتالیس لاکھ ایسی ہیں جن کے شوہر انتقال کر چکے ہیں اور انہوں نے دوبارہ شادی نہیں کی۔

جیو کی خبر پڑھ کر اور اس میں موجود ویڈیو دیکھ کر میرے ذہن میں تو یہ تاثر ابھرتا ہے کہ یہ خبر نہیں بلکہ رشتے کی ایپلیکیشن کا سنسنی خیز اشتہار ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ دل کا رشتہ نامی ایپ بنانے والی کمپنی انٹرلنک ملٹی میڈیا ہے جو جنگ گروپ کا حصہ ہے۔ اس کی بنائی دوسری ایپلیکیشنز میں جیو نیوز آفیشل اور جنگ گروپ کے دیگر چینلز کی ایپس بھی شامل ہیں۔

ختم شد۔

جیو کی خبر کا لنک: https://urdu.geo.tv/latest/363245-
اقوام متحدہ کی رپورٹ کا لنک: https://data.un.org/Data.aspx?d=POP&f=tableCode%3A23
پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کی رپورٹس کا لنک https://www.pbs.gov.pk/content/final-results-census-2017-0

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Comments are closed.