دبئی میں پاکستانی شہریوں کی جائیدادیں


ملک میں اس وقت مہنگائی اور بیروزگاری عروج پر ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر بڑی تعداد میں لوگ خط غربت سے نیچے سرک رہے ہیں۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ اخبارات میں فاقوں سے مجبور افراد کی خودکشی کی خبریں پڑھنے کو نہ ملیں۔ انہی دنوں لیکن ایک مرتبہ پھر دبئی میں پاکستانی شہریوں جن میں سیاستدان جرنیل بیوروکریٹ تاجر اور میڈیا مالکان سمیت اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے تمام طبقات شامل ہیں، کی قیمتی جائیدادوں کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

یہ تفصیلات دنیا بھر کے صحافیوں کی طرف سے چھ ماہ کی مسلسل تحقیقات کے بعد سامنے لائی گئی ہیں۔ عام تاثر یہی ہے کہ اس قسم کی بیرون ملک جائیدادیں یا آف شور کمپنیاں فراڈ رشوت اور منی لانڈرنگ کا پیسہ چھپانے اور ٹیکس بچانے کے لیے قائم کی جاتی ہیں۔ اس بات کو تقویت اس لیے بھی ملتی ہے کہ کیونکہ اس قسم کی جائیداد بنانے والے اکثر افراد کا تعلق تیسری دنیا کے ممالک سے ہوتا ہے اور یہ اپنی غیر قانونی دولت چھپانے کے لیے ان ممالک کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں جہاں ٹیکس قوانین نرم اور ذرائع آمدن کے متعلق زیادہ چھان بین نہ کی جاتی ہو۔

کہا جا رہا ہے کہ بیرون ملک جائیداد خریدنا بذات خود کسی بھی طرح غیر قانونی عمل نہیں۔ اس کے حق میں بہت سی توجیحات پیش کی جا رہی ہیں۔ یہ سوال پہلے بھی بارہا اٹھتا رہا اور اب بھی اٹھایا جا رہا کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جو ایک صاحب حیثیت فرد کو وطن عزیز سے باہر اپنے اثاثے منتقل کرنے پر اکساتے ہیں۔ یہ بات درست ہے اور اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بیرون ملک جائیداد حاصل کرنا بذات خود کوئی جرم یا غیر قانونی عمل نہیں اور ہمارے ہاں احتساب کے نام پر جو تماشا لگتا رہتا ہے وہ بھی لوگوں کو بیرون ملک اپنے اثاثے محفوظ بنانے پر اکساتا ہے۔

تاہم کون سی جائیداد جائز طریقے سے بنائی گئی اور کون سی نا جائز اس کا فیصلہ ہونا ضرور چاہیے۔ یہ فیصلہ تحقیق کے بعد ہی ہو سکتا ہے کہ بیرون ملک جائیداد بنانے کے لیے پاکستانی شہری کے پاس رقم کہاں سے آئی اور اس کی منتقلی کس طریقے سے ہوئی اور اس کے مالک نے ملکی قوانین کے مطابق اس رقم پر ٹیکس ادا کیا یا نہیں۔ بد قسمتی سے مگر ہماری تاریخ یہ ہے کہ اس قسم کے اسکینڈل کسی خاص مقصد کے تحت اچھالے جاتے ہیں اور جب وہ مقصد کماحقہ پورا ہو جائے تو تحقیقات کا ذکر تک بھلا دیا جاتا ہے۔

کچھ عرصہ قبل پانامہ پیپرز اور پنڈورا لیکس کے نام سے بھی اسی طرح کی تفصیلات سامنے آئی تھیں۔ اس وقت مگر ایک ایجنڈے کے تحت بہت ہنگامہ مچایا گیا اور مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ جن پاکستانی شہریوں کے نام ان پیپرز میں شامل ہیں ان کے خلاف تحقیقات کی جائیں اور ناجائز دولت اکٹھی کر کے بیرون ملک چھپانے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ اس دباؤ کا نتیجہ تھا یا کوئی اور مقصد بہرحال تمام ملکی ادارے پانامہ پیپرز میں چار سو سے زائد پاکستانیوں کے ناموں کو چھوڑ کر صرف نواز شریف کے خلاف کارروائی پر یکسو ہو گئے۔

ان تحقیقات میں لیکن نواز شریف کے خلاف کوئی ثبوت نہیں نکلا اس کے باوجود اقامہ کو بنیاد بنا کر انہیں وزارت عظمی سے فارغ کر دیا گیا۔ کہا گیا کہ نواز شریف چونکہ وزیراعظم ہیں لہذا احتساب ان کی ذات سے شروع ہو گا لیکن انہیں سزا سنانے کے بعد باقی ناموں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے پانامہ پیپرز کو ہی بھلا دیا گیا۔ اب اس کے سوا کیا سمجھا جائے کہ اس سارے ہنگامے کا مقصد صرف نواز شریف کو وزارت عظمی سے فارغ کرنا تھا ورنہ پانامہ پیپرز میں سامنے آنے والے ان چار سو چھیالیس ناموں میں سے کسی اور شخص کو بھی سزا ملتی۔

اس کے بعد سامنے آنے والی پنڈورا لیکس میں پانامہ لیکس کے مقابلے میں زیادہ پاکستانی شہریوں کے نام تھے۔ اس وقت وزیراعظم کی کرسی پر بھی پانامہ لیکس کے وقت سب سے زیادہ شور مچانے والے عمران خان براجمان تھے۔ یہ عمران خان ہی تھے جو آف شور کمپنیوں کو کرپشن چھپانے کا ذریعہ قرار دے کر سپریم کورٹ تک گئے تھے۔ عمران خان نے اپنے ٹویٹ میں بظاہر پنڈورا لیکس کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا بھی تھا کہ اس میں سامنے آنے والے تمام ناموں کے خلاف بلا امتیاز تحقیقات ہوں گی۔

لہذا عمران خان کا فرض بنتا تھا کہ پانامہ طرز کی جے آئی ٹی تشکیل دیتے اور ان کی جماعت کے جن لوگوں کے نام پر آف شور کمپنیاں سامنے آئیں تھی انہیں عہدوں سے ہٹا کر تحقیقات کا آغاز کرتے۔ لیکن ہوا اس کے برعکس جن لوگوں کا نام اس اسکینڈل میں سامنے آیا وہ آخر وقت تک عمران خان اور اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ قیادت کی گڈ بک میں شامل رہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وطن عزیز میں جس کو رگڑا لگانا ہو احتساب یا کرپشن کے خلاف تحقیقات کا علم اٹھا کر اس کی پگڑی اچھالنے کا آغاز کر دیا جاتا ہے۔ ورنہ پانامہ پیپرز کا نام لے کر ایک پاؤں پر اچھلنے والے عمران خان اور اس وقت کی مقتدر قیادت کے دور میں شوگر اسکینڈل، گندم چینی اسکینڈل، ادویات اسکینڈل تیل اور ایل این جی اسکینڈل کسی منطقی انجام تک ضرور پہنچ جاتے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اس وقت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ آئی ایم ایف سے طے ہونے والے معاہدوں کے نتیجے میں ان مصنوعات کی قیمتوں میں دور دور تک کسی بڑی کمی کا امکان نظر نہیں آ رہا۔ بجلی کے یونٹ اور گیس کی قیمتیں بھی مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ یہ تمام بنیادی ضرورت کی اشیاء ہیں اور جب ان کی قیمت بڑھتی ہے تو خودبخود ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے۔ پٹرول، بجلی اور گیس کی قیمت میں اضافے کا جواز حکومت کے پاس یہ ہے کہ مطلوبہ مقدار میں براہ راست ٹیکس اکٹھا نہیں ہوتا جس کے بعد یہ طریقہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔

یوں عام آدمی دہرے عذاب سے گزرتا ہے یعنی ایک طرف اسے مہنگائی مارتی ہے تو دوسری جانب اشرافیہ کی ٹیکس چوری بھی اسے بھرنا پڑتی ہے۔ اس بات میں وزن ہے کہ وائٹ کالر کرائم پکڑنا نہایت مشکل کام ہے لیکن کم از کم جن افراد کی بھاری بھرکم جائیدادوں کا سراغ ملا ہے ان سے درست ٹیکس وصولی کرلی جائے تو مہنگائی میں بڑی حد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔

Facebook Comments HS