لاپتہ لیڈیز – ایک اجمالی جائزہ


مجھے فلمیں دیکھنے کا زیادہ کریز نہیں۔ البتہ جب کسی فلم کی بہت زیادہ تعریف سنوں تو ضرور دیکھتا ہوں۔ دو دنوں سے دوستوں کی زبانی نیٹ فلِکس پر تازہ آمد، ”لاپتہ لیڈیز“ کی بہت تعریف سن رہا تھا۔ اور بالآخر آج شب فلم دیکھ ہی لی۔ فلم کیا ہے گویا معاشرے کو ایسا آئینہ دکھلایا گیا ہے جس میں عورت دشمنی کی تصویر الٹرا ہائی ریزولوشن میں نظر آتی ہے۔

کرن راؤ کی ہدایت کاری میں بنائی جانے والی فلم لاپتہ لیڈیز، بھارت میں خواتین سے وہاں کے معاشرے کی رکھی جانے والی توقعات اور ان خواتین کی بطورِ انسان اپنی علیحدہ شناخت، پسند اور انتخاب کے درمیان موجود تنازع پر ایک بہترین فیچر فلم ہے۔

یہ فلم دو دلہنوں پھول کماری، اور جیا دیوی کی کہانی ہے، جو شادی کے بعد اپنے سسرال جاتے ہوئے ٹرین میں غلطی سے اپنے شوہروں سے بچھڑ جاتی ہیں۔ بہترین کہانی، اعلی ہدایت کاری، متاثر کن اور حقیقت سے قریب تر اداکاری، کمال کی سینیماٹوگرافی، اور ذہن کے بند کواڑ کھول دینے والے ڈائیلاگز، سب مل کر اس فلم کو ایک بہت معیاری پروڈکشن بناتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے جملوں میں عورتوں کے حوالے سے معاشرے کی غلط سوچ پر ایسی گہری چوٹیں کی گئی ہیں۔ کہ دل عش عش کر اٹھتا ہے۔ فلم کو دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ کیسے پدرسری سماج میں غیر محسوس طریقے سے عورتوں کی انفرادیت، پسند، ناپسند، فیصلہ سازی کا حق، اور سب سے بڑھ کر ان سے ان کے خواب چھین لئے جاتے ہیں۔ بالکل اس شعر کی طرح:

دامن پہ کوئِ داغ نہ خنجر پہ کوئی چھینٹ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

فلم میں معاشرے کی اس مکاری کو بھی واضح کیا گیا کہ کیسے لڑکیوں کو اچھے گھر کی اچھی بہو بننے کے چکر میں پھنسا کر ان کی اپنی انفرادیت اور شخصیت کو کو تباہ کر دیا جاتا ہے۔ فلم میں منجو مائی اسے بجا طور پر لڑکیوں کے ساتھ فراڈ قرار دیتی ہے۔ فلم یہ بھی بتلاتی ہے کہ عورت کا کام فقط گھر گرہستی ہی نہیں بلکہ وہ معاشرے کے لئے نہ صرف ایک مفید آرٹسٹ اور ایک تعلیم یافتہ کسان ہو سکتی ہے، بلکہ ٹھیلے پر سموسے بیچنے والی معاشی طور پر خود مختار ایسی خاتون (منجو مائی) بھی جس نے اپنے نکھٹو خاوند سے مار کھانے کی بجائے اس کو گھر سے مار بھگایا ہو۔ فلم کا اختتام بھی ایک پازیٹیو نوٹ پر ہوتا ہے یعنی جیا کو اپنے خواب کی تکمیل کرنے کا کا موقع مل جاتا ہے اور پھول کماری کو اس کا شوہر بہت عزت اور مان سے اپنے گھر لے جاتا ہے۔

فلم کا مجموعی پیغام یہی ہے عورتوں کی بہ حیثیت انسان عزت، ان کی مرضی، اور انتخاب کا احترام ہی ایک ایسے صحت مند معاشرے کی بنیاد ہیں جہاں خواتین اپنی صلاحیتیوں کے بل بوتے پر معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکتی ہیں۔

یوں تو یہ فلم ہندوستان کے معاشرتی پسِ منظر میں بنی ہے۔ مگر سچ بات تو یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ بھی ان قباحتوں سے عاری نہیں جو اس فلم میں دکھلائی گئی ہیں۔ وہاں تو پھر سماجی موضوعات پر فیچر فلمیں، شارٹ فلمیں، اور ڈرامے بنتے رہتے ہیں جب کہ ہمارے یہاں چند مستثنیات کو چھوڑ کر انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کا اس طرف بالکل فوکس نہیں۔ ان مستثنیات میں کچھ عرصہ پہلے ہم ٹی پر چلنے والا ڈرامہ ”دوبارہ“ ، ایک بہت اچھی پیش کش تھا جس میں بڑی عمر کے مرد کی چھوٹی عمر کی لڑکی سے شادی کی قباحتوں کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ بڑی عمر کی بیوہ کی خود سے عمر میں کم لڑکے سے شادی کے حوالے سے معاشرے کی عدم قبولیت کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

اسی طرح ہم ٹی ہی کا پیش کردہ ایک اور ڈرامہ ”رہو گی تم ویسی ہی“ ، جسے محترمہ سائرہ غلام نبی نے لکھا تھا، دیکھنے کو ملا تھا۔ اس ڈرامے میں مرد کا طریقہِ واردات دکھلایا گیا تھا کہ کیسے وہ اپنے رویے سے عورت کو اس حد تک لاچار کر دیتا ہے کہ عورت کچھ سوچنے سمجھنے کے قابل نہیں رہتی اور ایسے میں جب اس سے کوئی غلطی سرزد ہوتی ہے تو وہ یہ جملہ دہرا کر ایک سائیڈ پر ہو جاتا ہے کہ ”رہو گی تم ویسی ہی“ ۔

اسی طرح کے ایک اور موضوع پہ ہم ٹی وی نے 2022 میں ”بختاور“ نامی سیریل پیش کیا تھا تھا۔ جس میں ایک لڑکی کو بوجوہ اپنی شناخت چھپا کر گھر سے کام کرنے کے لئے نکلنے کی وجہ سے کئی سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس ڈرامے کا تانا بانا ایک سچی کہانی کے گرد بنا گیا تھا۔

نکتے کی بات یہ ہے کہ معاشرے میں عورتوں کے خلاف متعصبانہ اندازِ فکر کر تبدیل کرنے کی از حد ضرورت ہے تاکہ دنیا خواتین کے لئے بھی جائے امن بن سکے۔ بلاشبہ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری اس سلسلے میں ایک بھرپور کردار ادا کر سکتی ہے، اور اسے کرتے رہنا چاہیے۔

 

Facebook Comments HS

مظفر حسین بخاری

ایم ایچ بخاری ڈیویلپمنٹ پروفیشنل ہیں اور ایک ملٹی لیٹرل ترقیاتی ادارے سے منسلک ہیں۔ کوہ نوردی اور تصویر کشی ان کا جنون ہے۔ مظہر کے تخلص سے شعر کہتے ہیں۔

muzzafar-hussain-bukhari has 32 posts and counting.See all posts by muzzafar-hussain-bukhari