آئین: اداروں میں تصادم سے لونڈیوں کی اجازت تک



خاکسار نے گزشتہ دو کالموں میں ملی مجلس شرعی کے کچھ مطالبات پر تبصرہ کیا تھا۔ اگر ان مطالبات کا دائرہ صرف کسی ایک مذہبی گروہ تک محدود ہوتا تو اس کے مختلف پہلوؤں پر تبصروں کی ضرورت نہ ہوتی لیکن اس آڑ میں وہ بیج بوئے گئے ہیں جن کی نشو نما کا نتیجہ صرف پاکستان میں اداروں میں مزید تصادم اور رہے سہے بنیادی حقوق کی پامالی کے نتیجہ میں ہی نکل سکتا ہے۔ اور چونکہ اب ان مطالبات کی بازگشت پاکستان کی سینٹ میں بھی سنائی دے رہی ہے۔ اس لیے مناسب ہو گا کہ یہ جائزہ لیا جائے کہ ان مطالبات کے کیا آئینی نتائج بر آمد ہو سکتے ہیں۔ گزشتہ کالموں میں یہ تفاصیل بیان کر دی گئی تھیں کہ سپریم کورٹ نے ضمانت کی ایک درخواست منظور کی اور اس کے رد عمل کے طور پر علما نے ملی مجلس شرعی کے پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو کر یہ مطالبات پیش کیے تھے۔

ہم سب جانتے ہیں کہ اس وقت پاکستان میں مختلف اداروں میں تصادم کی کیفیت موجود ہے۔ اور گزشتہ سالوں میں اس وجہ سے بار بار ملک میں عدم استحکام کی کیفیت پیدا ہوئی ہے۔ شاید اس وجہ سے 28 مارچ کو اسی مقدمہ کے ریویو کی سماعت کے دوران چیف جسٹس صاحب نے ایک سے زائد مرتبہ یہ وضاحت کی کہ ہم آئین میں تبدیلی نہیں کر سکتے یہ حق صرف پارلیمنٹ کا ہے۔ لیکن اس کے باوجود علما نے جو مطالبات پیش کیے ہیں اس میں سپریم کورٹ پر واضح الفاظ میں یہ دباؤ ڈالا گیا ہے کہ وہ حکومت کو آئین میں ترمیم کرنے کا مشورہ دے۔ جیسا کہ ان مطالبات میں نمبر 14 کا عنوان ہے ’آئین اور قانون میں تبدیلی کی ضرورت‘ ۔ اور اس کے تحت لکھا ہے :

’اس لیے ہم چیف جسٹس صاحب سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ حکومت کو آئین میں مذکورہ آئینی تبدیلی کے علاوہ 295 بی میں مندرجہ ذیل امور کو قانون میں شامل کرنے کی تجویز دیں۔ ‘ (ہفت روزہ ختم نبوت جلد 43 نمبر 14۔ 15 ص 23۔ 24 )

پس منظر یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے ایک ملزم کی ضمانت کی درخواست کو منظور کیا اور سرکار نے اس کی ریویو کی درخواست جمع کروا دی اور انجام اس پر ہوا کہ سپریم کورٹ پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ حکومت کو آئین میں ترمیم کا مشورہ دے۔ یہ کیا کم تھا کہ اسی فیصلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک سینیٹر عبد القادر صاحب نے سینٹ میں ایک تقریر کی اور اس تقریر میں کہا کہ اس قسم کے فیصلوں سے فساد برپا ہو سکتے ہیں اور یہ مطالبہ کیا

”اور یہ جو بھی فیصلہ ہے یہ کونسل آف اسلامک آئیڈیولوجی اور پارلیمنٹ کو بھیجیں اور ادھر جس کے پاس بھی اگر آرگومنٹ ہے وہ آرگومنٹ دے اور وہاں اس کا فیصلہ ہو۔“

سینیٹر صاحب کے الفاظ واضح ہیں۔ وہ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت جو فیصلہ کیا ہے وہ پارلیمنٹ میں بھجوایا جائے اور پھر سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بارے میں پارلیمنٹ میں دلائل دیے جائیں اور اس کے بعد پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بارے میں اپنا فیصلہ سنائے۔

خدا جانے یہ سینیٹر صاحب کس صدی میں جی رہے ہیں۔ دنیا بھر کا دستور ہے کہ اعلیٰ ترین عدالت کے فیصلوں کی نظر ثانی کی اپیل اس اعلیٰ ترین عدالت میں کی جاتی ہے اور اس کے بارے میں فیصلہ وہ عدالت کرتی ہے۔ سپریم کورٹ کے کسی فیصلہ کی نظر ثانی کا فیصلہ پارلیمنٹ میں نہیں ہوتا۔ نہ معلوم کس بنا پر سینیٹر صاحب نے یہ مطالبہ داغ دیا ہے کہ اس ضمانت کے مقدمہ کا آخری فیصلہ پارلیمنٹ کو کرنا چاہے۔

میری درخواست ہے کہ وہ ذرا تکلیف کر کے آئین کی تمہید پر نظر ڈالیں اس میں ایسی مملکت کا تصور پیش کیا گیا جس میں عدلیہ کی آزادی پوری طرح محفوظ ہو گی۔ اگر اس طرح پاکستان کی سپریم کورٹ کو پارلیمنٹ کے ماتحت کر دیا جائے تو کیا عدلیہ کی آزادی کا کوئی تصور باقی رہے گا؟ ان صاحب نے تو آئین کی بنیاد پر ہی کلہاڑا چلا دیا ہے۔

یہاں صرف یہ سوال نہیں کہ کسی خاص مذہبی گروہ کے بارے میں کیا مطالبات پیش کیے جا رہے ہیں؟ غور طلب بات یہ ہے کہ اس کی آڑ میں کس طرح اداروں کو آپس میں لڑانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں؟ اس کے کیا نتائج برآمد ہوں گے؟ یقینی طور پر اس کے نتیجہ میں ملک میں مزید افراتفری پیدا ہو گی۔

اب اس سوال کی طرف آتے ہیں کہ آخر ملی مجلس شرعی کا مطالبہ کیا ہے؟ آئین میں کس قسم کی تبدیلی کرنا چاہتے ہیں؟ آئین کے کس حصہ کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں انہی مطالبات کے چند فقرے پیش کیے جاتے ہیں :

”آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق مغربی ممالک اور اقوام متحدہ کے بنیادی حقوق سے لئے گئے ہیں اور ان میں سے کئی قرآن و سنت کے خلاف ہیں۔ “

اب بلی مکمل طور پر تھیلے سے باہر آ گئی ہے۔ آخر میں سارا نزلہ بنیادی حقوق پر گرے گا۔ اور مطالبہ یہ ہے کہ اب آئین میں ترمیم کر کے شہریوں کے رہے سہے بنیادی حقوق بھی سلب کر لو۔ ان علما کو تو یہ اعلان کرنا چاہیے تھا کہ ہماری تعلیمات تو انسانوں کو سب سے زیادہ حقوق دیتی ہیں۔ اقوام متحدہ نے جن حقوق کا اعلان کیا تھا وہ تو اس سے کمتر ہیں۔ لیکن وہ تو مذہب کا سہارا لے کر بنیادی انسانی حقوق کو سلب کرنے کے منصوبے بنا رہے ہیں۔

کیا یہ روش کسی ایک طبقہ تک محدود رہے گی یا آخر کار تمام پاکستانیوں کے بنیادی حقوق پامال کیے جائیں گے؟ اس کا فیصلہ پڑھنے والے خود کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ فیصلہ کرنے سے پہلے موجودہ آئین کی تشکیل کے وقت ہونے والی بحث کا یہ حصہ پڑھ لیں۔ جب 1973 میں پارلیمنٹ میں منظوری کے لئے آئین میں درج بنیادی حقوق پیش کیے گئے تو ظاہر ہے کہ اس میں یہ بھی درج تھا کہ پاکستان میں غلامی جائز نہیں ہو گی۔ تو اس پر ناراض ہو کر ایک ممبر اسمبلی مولوی نعمت اللہ صاحب نے 28 فروری 1973 کو جو تقریر کی اس کے چند فقرے ملاحظہ فرمائیں۔ ان کا اصرار تھا کہ آپ نے خواہ مخواہ یہ کہہ دیا کہ غلامی جائز نہیں بالکل جائز ہے۔ انہوں نے کہا

’اور کہتے ہیں کہ غلامی کو ہم کبھی جائز نہیں کریں گے۔ انسانوں کی خرید و فروخت جائز نہیں ہو گی۔ اور یہ لفظ تو انگریز کے دیے ہوئے ہیں۔ ‘

اس کے بعد انہوں نے غلامی کے فوائد ان الفاظ میں بیان فرمائے

”یہ آئین جو آپ کے سامنے ہے اس میں کہا ہے کہ اگر آپ غلامی کو جائز رکھیں تو آپ یہ کہتے ہیں کہ آپ دنیا میں شرمندہ ہو جائیں گے۔ میں خدا کی قسم آپ کے سامنے کہتا ہوں کہ آپ دنیا میں انتہائی درجہ تک سرخرو ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی مدد آپ کے شامل حال ہو گی۔ پیپلز پارٹی دنیا میں انتہائی درجہ تک سرخرو ہو جائے گی۔“

اس وقت اسمبلی میں کئی علما موجود تھے۔ آپ ریکارڈ ملاحظہ فرما لیں کہ مذہبی سیاسی جماعت کے کسی ممبر نے اس باغ و بہار تجویز کی مخالفت میں تقریر نہیں کی۔ ڈاکٹر مبشر حسن صاحب نے پریشان ہو کر کہا کہ جو کچھ یہ فرما رہے ہیں سمجھ میں نہیں آیا۔ تو اس پر سپیکر صاحب نے مولوی صاحب کے نظریات کا لب لباب ان الفاظ میں بیان فرمایا:

”وہ کہہ رہے ہیں کہ غلاموں کو رکھنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے اور اگر ایک آدمی ایک شادی کرتا ہے اور دوسری نہیں کر سکتا تو باندی کو ہی رکھ لے۔“

اس پر پیپلز پارٹی کے شیخ محمد رشید صاحب نے کہا کہ اگر یہ کارروائی شائع ہوئی تو ہم ملک بھر بلکہ پوری دنیا میں بدنام ہوجائیں گے۔ اس لیے اس کی اشاعت نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن خالی اشاعت روکنے سے کیا حاصل؟ اصل علاج تو یہ ہے کہ ان خیالات کا سد باب کیا جائے۔ اگر کسی بھی آڑ میں بنیادی حقوق پر دانت تیز کرنے کی اجازت دی جائے تو اس کا انجام ایسے اوٹ پٹانگ خیالات پر ہوتا ہے اور اس زد سے کوئی بھی نہیں بچ پاتا۔ فراز نے کیا خوب کہا تھا

میں آج زد پہ اگر ہوں تو خوش گمان نہ ہو
چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments