ایف بی آر میں اکھاڑ پچھاڑ


میری پچھلی تحریر فیض آباد کمیشن رپورٹ کے حوالے سے تھی اور کلیدی نکتے کی وضاحت کے لئے ماضی کے ایک واقعے کا تفصیلی تذکرہ کرنا پڑا تھا۔ ارادہ تھا کہ پچھلی زندگی یعنی نوکر شاہی والے دور سے وابستہ کہانیاں کسی اور موقع پر بیان کروں گا کہ سردست کچھ اہم موضوعات بہت چاہ سے بغلگیر ہونے کو بیتاب ہیں۔ لیکن جب ایک دوست نے ایف بی آر میں اکھاڑ پچھاڑ کی فہرست بذریعہ واٹس ایپ ارسال کی تو کچھ پرانے ساتھیوں کے نام دیکھ کر ماضی کے دھندلکوں میں یکسر گم ہو گیا۔

فہرست میں پہلا نام میرے ساتھی بیچ میٹ کا تھا۔ جب 1991 میں سی ایس ایس کا حتمی نتیجہ نکلا تھا تو مجھ سمیت صرف چار امیدواران کسٹم سروس کے لئے منتخب ہوئے تھے۔ ان چار میں سے ایک اکاؤنٹس سروس سے آیا تھا اس لیے ہم صرف تین لاہور اکیڈمی کی کامن ٹریننگ میں شامل ہوئے۔ ہم میں ایک ڈاکٹر تھا جو امریکہ کا ڈاکٹری امتحان دینے کے چکروں میں تھا اس لیے لاہور اکیڈمی میں کسٹم سروس سے وابستہ عملاً صرف میں اور میرا یہ ساتھی ہوا کرتے تھے۔

پھر بعد میں ہم دونوں کراچی ٹریننگ میں بھی ساتھ تھے۔ میں افراد کی صلاحیتوں اور خوبیوں کا ذکر کرتے وقت تعصب یا مبالغہ آرائی کا شکار نہیں ہوا کرتا۔ اپنے کولیگ کی کچھ خاصیتیں بہت نمایاں تھیں۔ وہ بی اے کرتے ہی براہ راست امتحان پاس کر کے کامیاب ہوا تھا اس لیے نہ صرف یہ کہ ذہنی طور پر انتہائی چابکدست تھا بلکہ زیر تربیت افسروں میں کم عمر ترین تھا۔ کم عمری کے باوجود وہ بول چال کا ماہر، کتب بینی کا شوقین اور محفل آرا قسم کی شخصیت کا مالک تھا۔

جب ہماری ٹریننگ ختم ہو گئی تو مختلف جگہوں پر پوسٹنگ ہونے کے باعث ہمارا مستقل رابطہ ختم ہو گیا۔ کچھ سالوں بعد اتنا پتہ چلا کہ اس نے قائد اعظم یونیورسٹی سے آئی ٹی میں ایم ایس سی کر لی ہے اور وہ بھی ٹاپ پوزیشن لے کر۔ اور پھر اسی مضمون میں اس نے کچھ تدریسی مصروفیت بھی اپنا لی ہے۔ میں تب اپنی پی ایچ ڈی کے لئے برطانیہ آ گیا تو دفتری حالات و واقعات سے لا تعلقی اختیار کر لی۔ کچھ سال قبل اپنے ایک انکم ٹیکس بیچ میٹ کو بطور چئیر مین ایف بی آر دیکھ کر خوشی ہوئی۔

پھر اپنے اس کسٹم کولیگ کو کوئی سال پہلے ممبر کسٹم کے طور پر دیکھ کر مزید خوشی ہوئی۔ اب جب اکھاڑ پچھاڑ کی لسٹ دیکھی تو جن درجن بھر افسران کو او ایس ڈی بنایا گیا تھا ان میں سر فہرست میرے اسی دیرینہ ساتھی کا نام تھا۔ دو تین اور شناسا نام بھی تھے لیکن چونکہ ان سے ذاتی مراسم نہیں رہے اس لیے ان کی بابت کچھ کہنا مشکل ہے۔

تمام حقائق تک میری رسائی موجود نہیں ہے لیکن ان خبروں کو پڑھتے وقت میں ایک بار پھر پرویز مشرف کے اسی دور میں واپس پہنچ گیا جس کا تذکرہ میں نے پچھلی تحریر میں کیا تھا۔ مشرف صاحب نے چونکہ احتساب کا نعرہ لگا کر اقتدار پر بزور بازو قبضہ کیا تھا اس لیے اب ٹوپی میں سے اچانک خرگوش برآمد کرنا ضروری تھا۔ ایک دن تقریر میں اچانک ایف بی آر سے ہزار افسران کے نکالے جانے کا اعلان کر دیا۔ کئی سال پہلے ایک مزاحیہ فلم دیکھی تھی جس میں ایک بندہ فلم کے ہیرو کو مشورہ دیتا ہے کہ آگے نازی جرمن فوجی گشت پر ہیں اس لیے وہاں نہ جائے، ہیرو کہتا ہے کہ فکر نہ کرو، میں انہیں اپنے بارے میں بتا دوں گا۔

اس پر وہ بندہ کہتا ہے کہ یہ نازی فوجی فائر پہلے کرتے ہیں اور سوالات بعد میں پوچھتے ہیں۔ مشرف نے فائر تو کر دیا تھا لیکن اب سوالات شروع ہو گئے تھے کہ یہ ہزار لوگ آئیں گے کیسے اور کہاں سے۔ اس وقت میں پشاور میں ہیڈکوارٹر کا ڈپٹی کلیکٹر تھا۔ اس لیے افسران بالا کے احکامات تلے اس سارے کھیل تماشے کے اہتمام کے لئے پنڈال سجانے کی ذمہ داری میرے کاندھوں پر آ پڑی۔ کچھ عرصے بعد میری تبدیلی کراچی ہو گئی اور شومئی قسمت دیکھئیے کہ وہاں بھی ہیڈ کوارٹر کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی۔

جو کھیل تماشا پشاور میں ادھورا چھوڑ آیا تھا وہی اب کراچی میں دیکھنے کو ملا۔ کھیل کے بنیادی اصول ایک سے تھے۔ جیسے پچھلے زمانوں کے ایک قصے میں جب پھانسی کی سزا کا مجرم غائب ہو جاتا ہے تو جس شہری کی گردن پھندے کے برابر پائی جاتی ہے تو پھندا اسی کو پہنا دیا جاتا ہے۔ ہم بھی کم و بیش یہی کر رہے تھے۔ دو کمیٹیاں بنائی گئیں۔ کلکٹر حضرات کی کمیٹی نے سینئر افسران میں سے کچھ کو پھندے پر چڑھانا تھا جبکہ ڈپٹی کلکٹران کی کمیٹی نے جونئیر عملے سے کچھ کو قربانی کے بکرے بنانا تھا۔

طریقہ یہ طے ہوا کہ ہر افسر یا ماتحت کے نام کے آگے تین کالم بنائے جائیں۔ کمیٹی کے ممبران پہلے تو پتہ کرتے کہ کوئی پرانا محکمانہ کیس موجود ہے کہ نہیں۔ پھر تین سوال کیے جاتے کہ اہلکار دیانتدار ہے یا تھوڑا کرپٹ ہے یا بہت زیادہ کرپٹ مشہور ہے۔ جن اہلکاروں کے حصے میں سب سے زیادہ کرپٹ کے تمغے آئے ان کی ایک الگ فہرست بنائی گئی اور سارا کام مکمل ہو کیا تو فہرستیں ایف بی آر کو انتہائی رازداری کے ساتھ ارسال کردی گئیں۔

ان دنوں اس کام میں اتنے مصروف رہا کرتے کہ۔ نہ شب کو دن سے شکایت، نہ دن کو شب سے ہے۔ والی صورتحال تھی۔ ہمارے حصے کا کام ہو گیا تو آسمان سے شہاب ثاقب گرنے کے منتظر ہو گئے۔ ایف بی آر ہیڈ کوارٹر میں نہیں معلوم کہ ریاضیات کے کون سے فارمولے استعمال ہوئے جن کی بنا پر ملک بھر سے موصول شدہ فہرستوں میں سے ہزار پھانسیوں والے اہلکاروں کی لسٹ مرتب کر لی گئی۔ جب وہ آخری لسٹ کراچی کسٹم ہاؤس کی فیکس مشین سے برآمد ہوئی تو جن کے نام نہیں تھے تو اک عرصے سے ان کی رکی ہوئی سانس دوبارہ چلنے لگی جبکہ جن کے نام فہرست میں موجود تھے وہ وکیلوں کے دفتروں کے چکر لگانے میں مصروف ہو گئے۔ ریت پر بنائے گئے قلعے زیادہ عرصہ قائم نہیں رہتے۔ چند سالوں کی دھکم پیل کے بعد وہ سب کے سب واپس اپنی ملازمتوں پر نہ صرف بحال ہوئے بلکہ اہم عہدوں پر بھی فائز رہے۔

اخباری اطلاعات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کچھ کمزور پالیسی سازی پر برہم ہو کر سینئر افسران کی جوابدہی اور گوشمالی کے لئے اس قدم کا حکم دیا تھا۔ بظاہر اس امر میں کوئی برائی نہیں کہ ملک کا انتظامی سربراہ اپنے ماتحتوں پر سزا و جزا لاگو کرے۔ لیکن کچھ ایسے عوامل ہیں جن سے اس کارروائی کی صحت پر سوال اٹھتے ہیں۔ کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ چیئرمین ایف بی آر خود سنیارٹی میں کافی نیچے ہے اور گریڈ بازی کی جنگ میں ممکن ہے کہ چند سینئر افسران کو ہٹا کر اپنے لیے راستہ ہموار کر رہا ہو۔

یہ بھی پتہ چلا ہے کہ ایک ایسے افسر کو جسے حال ہی میں اعلی کارکردگی کے صلے میں تمغۂ امتیاز سے نوازا گیا تھا وہ بھی اس لسٹ میں موجود ہے۔ پاکستان میں موجود اونٹ کی کون سی کل سیدھی ہے اور کون سی ٹیڑھی اس کا فیصلہ مجھ سے غریب الوطن کے لئے کرنا آسان نہیں۔ شنید ہے کہ فہرست انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹ کی روشنی میں تیار کی گئی تھی۔ میری رائے میں انٹیلی جنس اداروں کو ان معاملات میں نتھی کرنے کی روایت انتہائی خطرناک ہے۔

ان اداروں کو انتظامی معاملات سے دور رکھنا بہتر ہے۔ ورنہ میں اپنے تجربے کی روشنی میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ ادارے چونکہ خود احتساب کے نرغے سے باہر ہوتے ہیں اس لیے سول اداروں میں کرپشن کی سرپرستی میں اکثر پیش پیش ہوتے ہیں۔ مزید برآں صرف ان کے لکھے کی بنیاد پر یک طرفہ کارروائیاں عملے میں بے چینی کا باعث بنتی ہیں اور یہ سوال اٹھانے میں حق بجانب ہوتے ہیں کہ

پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر نا حق
آدمی کوئی ہمارا دم تحریر بھی تھا

Facebook Comments HS

ڈاکٹر حیدر شاہ

مصنف برطانیہ کی ہارٹفورڈ شائر یونیورسٹی میں درس و تدریس سے وابستہ ہیں اور ریشنلسٹ سوسائٹی آف پاکستان کے بانی ہیں۔ ان سے hashah9@yahoo.com پر رابطہ کیا جاسکتا ہے

haider-shah has 22 posts and counting.See all posts by haider-shah