پاکستان کا عدالتی نظام


پاکستان کا عدالتی نظام موجودہ سیاسی و معاشی نظام کے تحفظ کا ضامن ہے۔ اسے چیزوں کو جوُں کا تُوں رکھنے کے لئے وضع کیا گیا ہے۔ اس عدالتی نظام میں تاریخ کے اوپر تارِیخ دی جاتی ہے۔ شنوائی نہیں ہوتی البتہ شنوائی کا فکری مغالطہ ضرور ہوتا ہے۔

وکیلوں اور ججوں کی ملی بھگت سے ڈور کو اُلجھایا جاتا ہے تاکہ ڈور کا سرا نہ مل سکے۔ بال کی کھال اُتارنے والی بحث اس لئے کی جاتی ہے تاکہ سچ کی سوئی کو جنگل میں گُم کر دیا جائے۔ نا رہے گا بانس اور نا ہی بجے گی بانسری۔

ججوں کی تعداد کم ہے اور مقدمات کی بھرمار ہے اس لئے ہر منصف معاملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے سے قاصر ہے کیونکہ وقت کم ہے اور مقابلہ سخت ہے۔

کڑوا سچ تو یہ ہے کہ ہمارے جج حضرات قوتِ سماعت سے محروم ہو چکے ہیں۔ ان کا کسی مقدمے کو توجہ دینے کا دورانیہ نا ہونے کے برابر ہو گیا ہے۔ جب کوئی وکیل اپنے موقف کو بیان کر رہا ہوتا ہے تو جج صاحب اس کے دلائل کو بے دلی سے سن رہے ہوتے ہیں اور شعوری طور پر سنی کو ان سُنی کر رہے ہوتے ہیں۔

ہمارے منصف قوتِ فیصلہ سے بھی محروم ہیں۔ مقدمے کا فیصلہ کرنے سے ان کی جان جاتی ہے، اس لئے وہ بالعموم مستقبل کی تاریخ دے دیتے ہیں۔ تاریخیں دینے کا عمل ڈنگ ٹپانے جیسا ہے۔

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جناب آصف سعید کھوسہ نے اپنی الوداعی تقریر میں فرمایا تھا کہ وہ جج جو مقدموں کے فیصلے نہیں کرتے وہ درحقیقت اُن صدا لگانے والے ہرکاروں کی مانند ہے جو سائلین کو پیشی کے لئے بلاتے ہیں۔ جج خالی جگہ پُر کرنے کے لئے نہیں ہوتا بلکہ فیصلے کرنے کے لئے انصاف کی کرسی پر بٹھایا جاتا ہے۔

پاکستانی قوم بھی جھگڑالو واقع ہوئی ہے، انہیں ہر ڈیل میں اپنے لئے سو فیصد چاہیے اور اپنے مدِمقابل کے لئے صفر چاہیے۔ انہیں تربیت کے مراحل کے دوران یہ سمجھا دیا گیا ہے کہ ہر مقابلے میں کسی ایک فریق کی جیت ہوتی ہے اور کسی دوسرے فریق کی شکست ہوتی ہے۔ پاکستانی عوام یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ زندگی کسی مقابلے کا نام نہیں ہے بلکہ اپنی صلاحیتوں کو صیقل کرنے کا نام ہے۔ اس دنیاوی زندگی میں ہار جیت کو ثانوی کو درجہ دینا چاہیے۔

جب کوئی انسانی معاشرہ سچ کی دریافت میں عدالتی دروازے پر دستک دیتا ہے تو وہ اپنے ڈیتھ سرٹیفیکیٹ پر دستخط کر دیتا ہے۔ سچ کے چہرے پر لگے داغ دھونا ہر فردِ معاشرہ کا فرضِ منصبی ہے۔ جب افرادِ معاشرہ سچ کے چہرے کو داغدار کرنے کے لئے اپنا اپنا حصہ ڈالتے ہیں تو پھر کوئی بھی عدالتی نظام سچ کے چہرے کو بے نقاب کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔ اس سب کے نتیجے میں نا صرف رات اور کالی ہو جاتی ہے بلکہ دن چڑھنے کے بعد بھی رات کا راج ختم نہیں ہوتا۔

Facebook Comments HS