پہلوٹھی اولاد کا عذاب: ایٹگرکیریٹ کی کہانی


{ایٹگرکیریٹ کی کہانی Plague of the Firstborn کا اردو ترجمہ}
مترجمہ: اسما حسن

جون کے آخر میں، مینڈکوں کے طاعون کے بعد ، لوگوں نے وادی کو گروہ در گروہ چھوڑنا شروع کر دیا۔ جو لوگ استطاعت رکھتے تھے انہوں نے اپنی املاک پر ایک نگراں مقرر کیا، اپنے خاندانوں کو ہمراہ لیا اور نوبیا کے طویل سفر پر روانہ ہو گئے جہاں وہ عبرانیوں کے خدا کے غضب کے ٹھنڈا پڑ نے اور طاعون کے ختم ہونے کا انتظار کرنے لگے۔ ایک صبح والد صاحب عبدو اور مجھے کنگز ہائی وے پر لے گئے اور ہم ایک ساتھ خاموشی سے کچھ فاصلے پر قافلے جاتے دیکھتے رہے۔

ابا گھر واپس جانے لگے تو عبدو نے ہمت کر کے وہ سوال کیا جس کی مجھے ہمت نہیں تھی۔ وہ بولا: ”ہم ان کے ساتھ کیوں نہیں جا رہے، بابا؟ ہم وادی کے امیر ترین خاندانوں میں سے ہیں۔ آپ ہمارے کھیتوں کی نگرانی کے لیے کسی کو کیوں نہیں رکھ سکتے تاکہ ہم بھی چلے جائیں؟“ والد صاحب دھیرے سے مسکرائے، عبدو کو دیکھا اور کہا: ”ہم کیوں بھاگیں، عبدو؟ تم بھی عبرانیوں کے خدا سے ڈرنے لگے ہو؟ عبدو نے جواب دیا۔“ میں کسی انسان یا کسی خدا سے نہیں ڈرتا۔ مجھے کسی سے خطرہ ہو گا تو میں اسے اپنی تلوار سے مار دوں گا! لیکن یہ وبائیں تو ہم پر آسمان سے نازل ہوئی ہیں۔ میرے سامنے کوئی دشمن نہیں ہے جس کا میں مقابلہ کروں۔ پھر کیوں نہ ہم ان سب لوگوں میں شامل ہو جائیں جو نوبیا کے لیے روانہ ہو رہے ہیں؟ اگر ہمارا کوئی دشمن نہیں ہے جس کے خلاف ہم مقابلہ کریں، تو پھر ہماری یہاں موجودگی کا ہمارے فرعون کو کوئی فائدہ نہیں۔ ”

”بیٹا، تم سچ کہتے ہو۔“ ۔ والد نے معدوم ہوتی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔ ”بے شک، عبرانیوں کا خدا ہوشیار اور ظالم دونوں ہے۔ اگرچہ وہ دیکھا نہیں جا سکتا، مگر اس نے ہمیں ایک زبردست نقصان پہنچایا ہے۔ مگر تمہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ایک عہد نے مجھے اس سر زمین سے باندھ رکھا ہے جو مجھے اپنے خاندان کو نوبیا بھیجنے سے باز رکھتا ہے۔ “
”عہد؟“ عبدو حیران ہو گیا۔ ”کون سا عہد؟“

”ایک عہد جو میں نے کئی سال پہلے کیا تھا، تمہارے پیدا ہونے سے بھی پہلے۔“ والد نے کہا، ان کی نرم مسکراہٹ دوبارہ نمودار ہو گئی تھی۔ انہوں اپنی قمیض سمیٹی اور آلتی پالتی مارکر زمین پر بیٹھ گئے۔ ”آؤ میرے پاس بیٹھو۔“ انہوں نے زمین کو تھپتھپاتے ہوئے کہا۔ ”میں اس عہد کی روداد سناتا ہوں۔“ میں والد صاحب کے بائیں اور عبدو ان کے دائیں جانب بیٹھ گیا۔ انہوں نے ایک مٹی کا ڈھیلا زمین سے اٹھایا اور اسے اپنے ہاتھوں میں ریزہ ریزہ کر دیا اور کہانی سنانا شروع کردی۔

”تم کو پتہ ہے میری جڑیں اس زرخیز زمین میں نہیں ہیں۔“ انہوں نے کہا۔ ”مجھے تمہاری ماں سے شادی کے بعد اُسے مجبوراً، آہ، اس کے چچا کی دیکھ بھال میں چھوڑ کر اپنے بڑے بھائی کے ساتھ دور دراز کے ان علاقوں میں جانا پڑا، جہاں سے کالا تیل نکلتا ہے۔ چار سال تک ہم خانہ بدوشوں کی طرح زندگی گزارتے رہے اور جدائی کا کرب برداشت کرتے رہے۔

ان برسوں کے دوران، میں نے کافی دولت اکٹھی کر لی تھی۔ پھر میں اپنے گھر، مصر واپس آ گیا۔ میں نے تمہاری پیاری ماں کو ساتھ لیا، جس نے اتنا طویل انتظار کیا تھا اور یہاں وادی میں زمین کا ایک پلاٹ خرید لیا۔ جس دن میں نے اپنے گھر کی تعمیر مکمل کی، میں نے دو قسمیں کھائیں۔ پہلی، میں وادی کو کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ دوسری، میں ہر ممکن کوشش کروں گا کہ میرا خاندان کبھی تھوڑی دیر کے لیے بھی دوبارہ جدا نہ ہونے پائے۔ والد نے اپنی ہتھیلی سے چپکی ہوئی ریت چکھی اور سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور عبدو کی آنکھوں میں دیکھا۔ ”نوجوانی میں بھی، میں جانتا تھا کہ میرا خاندان ایک پودے کی طرح ہے جسے جڑ سے اکھاڑ دو، یہ مرجھا جائے گا۔ اس کو توڑ دیں، یہ مر جائے گا۔ لیکن اسے مٹی میں بے شک بغیر دیکھ بھال کے لیے پھلنے پھولنے کے لیے چھوڑ دیں، پھر بھی یہ دونوں موسموں میں پھلتا پھولتا رہے گا۔ یہ مٹی کے ساتھ پیدا ہوا ہے اور یہ مٹی کی طرح زندہ رہے گا۔“

والد کی وہ گفتگو ہمارے لیے انتہائی حوصلہ افزاء تھی، جس نے ہمیں احساس دلایا کہ ہم کتنے طاقتور ہیں۔ اب ہم اس طاقت کا راز جان گئے تھے اور اس کی دل و جان سے حفاظت کرتے تھے۔ ہر نئے عذاب کے ساتھ ہم مزید مضبوط ہوتے چلے گئے، ایک دوسرے کے قریب تر آتے گئے۔ جب جوؤں کا عذاب نازل ہوا تو ہم نے ایک دوسرے کی جوئیں نکالنا سیکھا۔ ہم اپنے رشتہ داروں کے زخموں کی مرہم پٹی کرتے۔ ژالہ باری کے طوفان کے بعد ، جب ہم نے اگلی صبح عبدو کے منہ پر ہوائیاں اڑتی دیکھیں تو ہم حقیقت میں مسکرانے میں بھی کامیاب ہو گئے : وہ اسی وقت گہرائی نیند سے بیدار ہوا تھا۔ اتنی گہری نیند کہ عبرانیوں کے خُدا کی طرف سے ہم پر اولے برسنے کے باوجود اس کی آنکھ نہیں کھلی۔ اس طرح ایک ایک کر کے ہم پر نو آفتیں نازل ہوئیں، پھر بھی ہم محفوظ رہے۔ اور پھر اگست کے آخر میں، پہلوٹھے کا عذاب آیا۔

نصف شب کو، ہمارے پڑوسیوں کی چیخ و پکار سن کر میں ہڑبڑا کر جاگ گیا اور باہر بھاگا۔ سوائے عبدو کے سب وہاں پہلے سے ہی موجود تھے۔ سمیرا، ہماری سامنے والی پڑوسی، سسکیوں کے درمیان عبدو کا نام لینے میں کامیاب ہو گئی۔ ہم تیزی سے عبدو کے کمرے کی طرف دوڑے۔ پہلے والد وہاں پہنچے، پھر ماں اور میں۔ عبدو اپنی چارپائی پر ڈھیلا پڑا تھا، اس کی آنکھیں مضبوطی سے بند تھیں۔ ”میرا بیٹا۔“ باپ نے دبی ہوئی آواز میں سرگوشی کی، اس کا چہرہ زرد پڑ گیا تھا۔ ”میرا پہلوٹھا۔“ اور میں نے زندگی میں پہلی بار ان کی آنکھوں میں آنسو دیکھے۔ میری آنکھوں میں بھی آنسو تیرنا شروع ہو گئے، اپنے بھائی سے زیادہ باپ کے اندوہناک غم پر۔ اپنے آنسوؤں کے پار سے ہی میرا دکھ دیکھ کر والد صاحب نے اپنی قمیض کے دامن سے آنکھیں پونچھیں اور ماں اور مجھے اپنے قریب کر لیا۔ اپنے طاقتور بازووں کے حلقے میں ہمیں گلے لگا لیا اور ہمارے چہرے قریب تر ہو گئے، ہمارے آنسو گڈ مڈ گئے اور ہم ایک ہو کر رو پڑے۔ ”عبرانیوں کا خدا ظالم ہے۔“ بابا نے پھر سے سرگوشی شروع کی، گویا عبدو کے آرام میں خلل ڈالنے سے ڈرتے ہوں۔ ”لیکن وہ ہمیں شکست نہیں دے سکتا۔“

”ہو سکتا ہے کہ یہ نہ مر اہو؟“ ماں بڑبڑائی۔ ”ہو سکتا ہے صرف سو رہا ہو؟“
”خدا کے لیے، فاطمہ۔“ والد نے سرگوشی کی اور ایک ہلکا سا بوسہ ان کی پیشانی پر دیا۔

” ہمیں فریبی دنیا میں اکیلا مت چھوڑنا۔ عبرانیوں کے خدا کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا ہے لیکن وہ کبھی بھی ایک بندے کو دوسرے پر ترجیح نہیں دیتا۔“ یہ مرا نہیں ہے۔ ”ماں رونے لگیں۔ “ یہ نہیں مر سکتا! یہ سو رہا ہے، بس سو رہا ہے۔ ”انہوں نے والد کے بازووں کا حلقے توڑا اور عبدو کی چارپائی کی طرف لپکیں۔ “ اٹھو میرے بیٹے! وہ اپنا گاون کھینچتے ہوئے گریہ و زاری کرنے لگیں۔ ”اٹھو!“ عبدو نے گھبرا کر آنکھیں کھولیں اور بستر سے اچھل کر باہر نکل آیا۔ ”کیا ہوا؟“ اس نے حواس باختگی سے پوچھا۔ ”یہ ایک معجزہ ہے، میرے بیٹے۔“ ماں نے اسے گلے لگاتے ہوئے اور باپ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ”ایک عظیم معجزہ ہوا ہے۔“

عبدو کی آنکھیں ابھی ادھ کھلی ہی تھیں جب ماں نے اسے چھوڑا اور کونے میں فرش پر نظریں جمائے کھڑے والد کی طرف بڑھیں۔ ”کیا تم نے دیکھا ابھی کیا ہوا؟“ انہوں نے سرگوشی کی۔ ”عظیم معجزہ ہو گیا ہے! عبرانیوں کے خدا نے ہم پر اور ہمارے بیٹے پر رحم کھایا ہے۔” والد صاحب نے نظریں اٹھا کر انہیں دیکھا۔ ان کا بمشکل مخفی غصہ اُبل پڑا۔“ عبرانیوں کے خدا کو نہ ہم پر رحم آتا ہے اور نہ ہی ترس۔ ”انہوں نے غصے سے کہا۔“ بس یہ ہی سچ ہے۔ صرف یہی سچائی ہے۔ ”ان کی خون فشاں آنکھیں دو اولوں کی طرح لگ رہی تھیں اور ان کی نگاہوں نے مجھے تمام دس عذابوں سے زیادہ خوف زدہ کر دیا۔“ تم غصے میں کیوں ہو؟ ”ماں نے پوچھا۔“ خوش کیوں نہیں ہو؟ ہمارا عبدو زندہ ہے۔ ”

”کیونکہ یہ تمہارا پہلوٹھا نہیں ہے۔ “ والد نے ماں کی بات قطع کر دی۔ انہوں نے ہاتھ ایسے اٹھایا جیسے مارنے ہی والے ہوں۔ لیکن وہ ہوا میں ہی معلق رہ گیا۔ ماں ان کے قدموں پر گر پڑی اور رونا شروع کر دیا جیسے ان کو غیر مرئی تھپڑ لگا ہو۔ اسی طرح ہم چاروں بے حس و حرکت اور مبہوت کھڑے تھے، صنوبر کے درخت کی مانند جو زمیں بوس ہونے والا ہو۔ ”عبرانیوں کا خدا حقیقت میں ظالم ہے۔“ والد نے کہا۔ پھر وہ اپنی ایڑی کے بل مڑے اور کمرے سے نکل گئے۔

 

Facebook Comments HS