بشپ جان جوزف کی جدوجہد اور خودکشی


Sohail Ahmad usa

جان جوزف 15 نومبر 1932 کو متحدہ ہندوستان کے پنجاب کے کیتھولک گاؤں خوش پور میں پیدا ہوئے۔

اس کے پردادا، اورنگزیب جن کا تعلق سیالکوٹ کے ایک چرواہے خاندان سے تھا، مسیحیت قبول کرنے والے پہلے شخص تھے۔ اورنگزیب کا بیٹا، حیات، جو 1879 میں پیدا ہوا، بیسویں صدی کے اختتام پر خوش پور کے کیتھولک گاؤں میں ایک نمبردار تھا۔ بشپ جان جوزف رومن کیتھولک بشپ تھے جنہوں نے پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔ 1960 میں انہوں نے کہانت کا ساکرامنٹ حاصل کیا اور کیتھولک کاہن کے طور پر مقرر ہوئے۔ 1984 میں، انہیں فیصل آباد ڈایوسیس کا بشپ مقرر کیا گیا، جہاں وہ اپنی قربانی تک مذہبی خدمات انجام دیتے رہے۔ انہیں یہ اعزاز حاصل تھا کہ وہ پہلے پنجابی کاہن اور پہلے پنجابی بشپ مقرر ہوئے تھے۔

بشپ جان جوزف پاکستان میں اقلیتوں بالخصوص مسیحیوں کے حقوق کے ایک مضبوط وکیل تھے۔ وہ بین المذاہب مکالمے اور افہام و تفہیم کو فروغ دینے پر یقین رکھتے تھے اسی لیے وہ پاکستان کے بلاسفیمی کے قوانین کے سخت ناقد تھے، جن کے بارے میں ان کے خیال میں اکثر مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ انہوں نے سینٹ تھامس یونیورسٹی میں الہیات میں ڈاکٹریٹ کی تھی۔ پنجاب سے پاکستانی پادری روم میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے منتخب کیے جانے کو ایک خاص اعزاز سمجھتے ہیں۔

چونکہ جان جوزف ایک کیتھولک گاؤں میں پلے بڑھے تھے، اس لیے اس کی زندگی میں مسلمان ساتھیوں کی کثیر تعداد تھی۔ جب وہ الہیات کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے روم گئے، جہاں وہ اس بات سے بخوبی واقف ہو چکے تھے کہ ان کی دنیا میں زیادہ تر مسلمان رہتے ہیں۔

اس کی عکاسی ان کے ڈاکٹریٹ کے مقالے کے لیے موضوع کے انتخاب سے ہوتی ہے، ”جیسس کرائسٹ ان دی رائٹنگز آف محمد علی۔“ اس موضوع سے ان کے عقیدے کا پتہ چلتا ہے کہ وہ مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان خلیج کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ اپنے مقالے کے تعارف میں انہوں نے لکھا تھا کہ ”جو پادری مسلمانوں کو مسیح کی تبلیغ کرنا ہے اسے مسیح کے بارے میں ان کا رویہ معلوم ہونا چاہیے۔ کسی بھی بات چیت کے نتیجہ خیز ہونے کے لیے ضروری ہے کہ شروع سے ہی متعلقہ فریقین کی جانب سے باہمی طور پر قبول شدہ سچائیوں کا پتہ لگانا ضروری ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کے سامنے مسیح کی حقیقی اور مکمل تصویر پیش کرنے کے لیے پہلے سے یہ جان لینا چاہیے کہ وہ اس کے بارے میں کیا عقیدہ رکھتے ہیں اور وہ کیا نہیں کرتے۔ “

پاکستان میں بلاسفیمی کے قوانین میں 1980 میں 295 اے کو پینل کوڈ میں شامل کیا گیا۔ اس قانون نے اسلام میں قابل احترام افراد کے بارے میں ”الفاظ کے ذریعے یا الزام تراشی، اشارے یا اشارے کے ذریعے، براہ راست یا بالواسطہ طور پر“ توہین آمیز ریمارکس کے استعمال کو ممنوع قرار دیا ہے۔ یہ بین الاسلامی تشدد کو روکنے کی کوشش ہو سکتی ہے کیونکہ سنی اور شیعہ مذہب کی اہم شخصیات کے بارے میں مختلف رائے رکھتے ہیں۔ 295 اے کی خلاف ورزی ایک مجرمانہ جرم ہے جس کی سزا تین سال تک قید ہے۔ 1982 میں سیکشن 295۔ بی ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیا گیا۔ اس میں کسی ایسے مجرم کے لیے عمر قید کی سزا مقرر کی گئی ہے جو ”جان بوجھ کر“ قرآن پاک کے کسی نسخے یا حصے کی بے حرمتی کرتا ہے۔

مسیحیوں کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ قانون 295 سی ہے۔ یہ مسلم/مسیحی کشیدگی کا موجب رہا ہے۔ اس دفعہ کے تحت پیغمبر اسلام کے نام کی ”بے حرمتی“ کے مرتکب شخص کو خود بخود سزائے موت مل جاتی ہے۔

جب بشپ کا انتقال ہوا تو ان دنوں ایوب مسیح نام کا ایک نوجوان، جس سے بشپ نے کبھی ملاقات بھی نہیں کی تھی، 295 سی کے تحت توہین مذہب کے الزام میں جیل میں تھا۔ اسے نچلی عدالت میں قصوروار ٹھہرایا گیا۔ بشپ ایک ایسے وکیل کی تلاش میں تھے جو کیس کو ہائی کورٹ کے سامنے پیش کرے۔

ایوب مسیح پر سلمان رشدی کی شیطانی آیات کی تعریف کرنے اور پیغمبرِ اسلام کا نام ”غلط“ طریقے سے استعمال کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ یہ جرائم پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 295 سی کے تحت سزائے موت دینے کے لیے کافی تھے۔ ساہیوال کے سیشن جج جناب عبدالغفار خان کی عدالت کا فیصلہ سنایا تھا۔ فیصلہ سنائے جانے کے بعد جب ایوب مسیح کو سیشن کورٹ ساہیوال سے لے جایا گیا تو وہیں اس پر فائرنگ کر دی گئی۔ پولیس نے حملہ آوروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ ایوب مسیح ناخواندہ جھاڑو دینے والوں کا بیٹا تھا۔ مئی 1998 میں بشپ جان جوزف نے ایوب کی سزائے موت فیصلے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ساہیوال میں عدالت کے سامنے خودکشی کر لی۔ ان کی موت پر پاکستان اور دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر سوگ منایا گیا۔ واضح رہے کہ 2002 ء میں سپریم کورٹ نے اسی ایوب مسیح کو اس مقدمے سی بری کر دیا تھا۔ کیونکہ جو حقائق سامنے آئے تھے ان میں عدالت پر واضح ہو گیا تھا کہ یہ سب لالچ پر مبنی تھا جس کا مقصد ان کے ہمسائے کا ایوب مسیح کے مکان پر قبضہ کرنا تھا

بشپ جان جوزف لوگوں کو منصفانہ اور پرامن معاشرے کی تعمیر کے لیے کام کرنے کی ترغیب دیتے رہے۔ بین المذاہب مکالمے کو فروغ دینے کی کوششوں اور خواتین اور پسماندہ کمیونٹیز کی تعلیم اور با اختیار بنانے سمیت سماجی انصاف کے مسائل کے لیے ان کی جد و جہد کو آج تک سراہا جاتا ہے۔ خاص طور پر اینٹوں کے بھٹے پر کام کرنے والوں کے لیے ان کی کوششیں بہترین تھیں۔ وہ 1990 کی دہائی کے اوائل میں اس ایشو کا حصہ بنے اور 1998 میں اپنی موت تک اینٹوں کے بھٹہ مزدوروں کے لیے بہتر حالات کے لیے مہم چلاتے رہے۔ پاکستان میں اینٹوں کے بھٹے کی صنعت کو مزدورں کے بدترین استحصال کا نشان سمجھا جاتا ہے، جس میں قرضوں کی ادائیگی کے لیے ایک طرح کی غلامی، کم اجرت، اور خطرناک حالات میں کام کرنا شامل ہے۔ بشپ جوزف نے ان کارکنوں کی حالت زار پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کے حقوق کے لیے اپنے عہدے کا استعمال کیا۔

ہم بشپ جان جوزف کی خودکشی کو جسٹیفائی نہیں کر رہے بلکہ صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ انہوں نے ایک شدید رد عمل دیا تھا ایک ایسے عمل کے خلاف جو ان کے نزدیک غلط تھا قوانین کا غلط استعمال ہمیشہ سے معاشروں کی بگاڑ کا باعث بنتا رہا ہے۔ معاملات شدت شدید رخ اختیار کر لیتے ہیں اور پھر ہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے جان بشپ نے ابھی ایک رد عمل دیا تھا کیونکہ ان کو ان کے نزدیک ایوب مسیح کے حوالے سے یہ غلط بنیادوں پر بلاسفیمی کا مقدمہ غلط بنیادوں پر قائم کیا گیا تھا جو کہ عدالت میں ثابت بھی ہو گیا تھا لیکن تب تک جان جوزف اپنی جان دے چکے تھے۔

بشپ آف فیصل آباد ڈاکٹر جان جوزف کی مبینہ خودکشی جتنی اچانک تھی اسی قدر افسوسناک بھی تھی جس سے ان کے کاز کو شدید نقصان پہنچا۔ ڈاکٹر جان جوزف مسیحی کمیونٹی کے اس گروہ سے تعلق رکھتے تھے جس نے انسانی حقوق اور مذہبی آزادیوں کے حوالہ سے پاکستان میں سیکولر قدروں کی راہ ہموار کرنے کے لیے بے پناہ محنت کی اور جن اسلامی قوانین کو وہ انسانی حقوق کے لیے اپنے مخصوص فلسفہ کے منافی سمجھتے تھے ان کا راستہ روکنے کے لیے نہ صرف اپنے ملک میں بلکہ عالمی سطح پر دن رات ایک کر کے بین الاقوامی لابیوں کی توجہ اور امداد حاصل کرنے میں کامیاب پیش رفت کی۔ اس لیے مشن اور موقف سے اختلاف اپنی جگہ لیکن محنت اور جدوجہد کے حوالہ سے ڈاکٹر جان جوزف کی مصروف ترین اور انتھک زندگی کی داد نہ دینا نا انصافی شمار ہو گا۔

Facebook Comments HS