مولانا مشکل میں؟


مولانا فضل الرحمن کا شمار پاکستان کے زیرک اور مدبر سیاستدانوں میں ہوتا ہے اور جس طرح مفاد پرست تاجروں کے لئے مشہور ہے کہ بنیے کا بیٹا کچھ دیکھ کر ہی گرتا ہے بالکل اسی طرح مولانا نے بھی تمام عمر اپنے سیاسی مفادات کو دیکھ کر ہی پینترے بدلے ہیں۔ احتیاط سے اپنے پتے کھیلے ہیں۔ کبھی احتجاج اور مزاحمت، کبھی اقتدار اور کبھی کبھی وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے کے ماہر ہیں۔ لیکن پشتو میں ایک محاورہ (متل) ہے (چی ہوخیارہ مرغئی دہ دو اڑو خپو نہ گیریگی) یعنی چالاک پرندہ اکثر دونوں پروں سے پھنس جاتا ہے۔ لگتا ہے کہ مولانا بھی اس وقت مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔ ان کا غیر لچکدار رویہ اور ایک نرم مزاج سیاستدان کی بجائے ایک مطلق العنان ڈکٹیٹر والے مزاج نے انہیں باقی سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ کے لئے بھی ناقابل قبول بنا دیا ہے۔

عمران خان حکومت کے خلاف تحریک چلانے اور سب کو اکٹھا کرنے میں مولانا کا کردار کسی سے پوشیدہ نہیں۔ مگر پی ڈی ایم حکومت میں ان کی نہ صرف پانچوں انگلیاں گھی میں رہیں بلکہ سر کڑاہی میں تھا۔ انھوں نے نہ صرف وفاق میں من پسند وزارتیں حاصل کر کے مفادات حاصل کیں بلکہ صوبے میں گورنر سمیت پوری نگران حکومت مولانا کی حکومت سمجھی جاتی تھی۔ اگر سچ پوچھے تو مولانا اسی وقت غلطی کر بیٹھے تھے جس وقت انھوں نے نگران صوبائی حکومت کو اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔ انھوں نے اپنے رشتہ داروں اور پارٹی کارکنوں کو تو نوازا مگر اس ایک سال کی حکمرانی نے ان سے پانچ سالہ اقتدار چھین لیا۔ اور عوام کی یہی ناراضگی دوسروں کا کام آسان کر گئی۔

واقفان حال کا کہنا ہے کہ بحیثیت صدر پی ڈی ایم مولانا کی من مانیاں اور مفادات کے حصول میں ان کا غیر لچکدار رویہ مقتدر قوتوں سمیت سیاسی رہنماؤں کے لئے بھی مشکلات کا باعث بنا رہا۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابات سے پہلے ایک مناسب موقع پر سب پہ بھاری شخصیت نے ان کو سائیڈ لائن لگانے کا اشارہ دے دیا۔ اس پر جب بڑے میاں کی رائے معلوم کی گئی تو انھوں نے بھی خاموشی اختیار کرلی جس کو رضامندی سمجھا گیا۔ اور اس کے بعد باقی منصوبہ بندی مشکل نہ رہی۔

اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ حکمران اتحاد کے بڑوں کی رضا مندی اور گورنر سمیت نگران حکومت کی وجہ سے عوام کی ناراضگی نے کنگ میکرز کا کام آسان بنا دیا۔ اور انہیں موقع ملا کہ وہ پی ٹی آئی کو واپس اپنے ابتدائی مرکز تک محدود کر کے اقتدار ان کے حوالے کردے۔ تاکہ ایک طرف مرکز سندھ اور پنجاب میں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کو آگے لایا جا سکے اور دوسری طرف انتخابات کو شفاف ثابت کرنے اور پی ٹی آئی کو بھی حصہ بقدر جثہ دینے اور مطمئن کرنے کے لئے صوبہ ان کے حوالے کیا جا سکے۔

سب کچھ پلان کے مطابق پایہ تکمیل کو پہنچ چکا۔ اور انتخابات کے بعد اب پچھتاتے کیا ہوت جب چڑیاں چک گئیں کھیت کے مصداق مولانا سانپ گزرنے کے بعد لکیر پیٹنے میں مصروف ہے۔ مگر ان کے لئے مشکل یہ ہے کہ وہ اس احتجاج اور مزاحمت میں بالکل تنہا رہ گئے ہیں۔ باقی تمام پارٹیاں مرکز یا کسی نہ کسی صوبے میں اقتدار کے سنگھا سن پر بیٹھی ان کی تنہائی اور چڑ چڑے پن سے لطف اندوز ہو رہی ہے۔ اگر چہ پی ٹی آئی خود کو میدان میں احتجاج پر سمجھتی ہے مگر ان کا احتجاج صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں والا ہے۔

یعنی صوبائی حکومت کا احتجاج صرف بڑھکیں مارنے تک محدود ہے اور گنڈاپور صاحب مولانا کے سابقہ کردار کی طرح کھلے عام وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہے ہیں۔ دوسری بات یہ بھی کہ پی ٹی آئی گزشتہ دس سال سے سپانسرڈ، فارن فنڈنگ اور صوبے کے وسائل پر احتجاج کے عادی ہے۔ اب جبکہ عمران خان جیل میں ہے نہ کوئی توانا لیڈر شپ ہے نہ بے تحاشا وسائل اور سب سے اہم بات یہ کہ مولانا اور عمران خان نے دس سال ایک دوسرے کو چور ایجنٹ اور ملک دشمن کہہ کہہ کر اتنی نفرت پھیلائی ہے کہ اب اس کا مداوا ممکن ہی نہیں۔

اس لئے مولانا کی کشتی بیچ منجدھار میں پھنسی نظر آتی ہے۔ پارٹی کارکنوں کے علاوہ عوام بھی مولانا کی تحریک سے اس لیے لاتعلق نظر آتی ہے کہ وہ مہنگائی، بے روزگاری اور سیاسی عدم استحکام سے تنگ آ چکی ہے۔ اور وہ نئی حکومت کو ان مشکلات پر قابو پانے کا موقع دینا چاہتی ہے۔ اس لیے مولانا کو اپنی مفادات اور عناد کو پس پشت ڈال کر عوام اور حالات کے نبض پر ہاتھ رکھتے کی ضرورت ہے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ اور ان کی پارٹی بھی جماعت اسلامی اور قومی وطن پارٹی کی طرح صرف نام کی پارٹی رہ جائے۔

Facebook Comments HS