پھولن دیوی۔ اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجیو


انڈیا کے فلم نگر کو چار وانگ عالم میں نامور کرنے میں جن فلمی اداروں اور ان سے وابستہ فنکاروں نے اسے اپنے ہنر سے نکھارا ان میں Navketan نامی ادارے کا نام بھی شامل ہے۔ اس ادارے کے روح رواں تین بھائی تھے، چیتن آنند، وجے آنند اور دلیپ کمار اور راجکپور جیسے سرو قد کے ہوتے ہوئے کامیاب ہیرو بننے والے دیو آنند۔

شیکھر کپور نامی جوان انہی کا بھانجا تھا جسے ہیرو بنانے کے لیے انہوں نے اوپر تلے تین فلمیں بنائیں لیکن ایک بھی کامیاب نہ ہو پائی۔ یہ ستر کی دہائی کی بات ہے۔

ایک بڑے وقفے کے بعد اس ناکام ہیرو نے فلم ڈائریکشن کا رخ کیا اور اپنی پہلی ہی فلم سے دھماکہ خیز کامیابی حاصل کی۔ اس فلم کا نام معصوم تھا جو 1983 میں ریلیز ہوئی تھی۔ اس کے بعد کچھ سالوں کے کے لئے وہ غائب ہو گئے اور پھر ہدایتکار کے طور اگلا دھماکہ 1987 میں مسٹر انڈیا کی ریلیز کے ساتھ کیا۔

یہ دونوں فلمیں روایتی کمرشل فلموں سے کچھ زیادہ مختلف نہ تھیں لیکن اگلی بار شنکر کپور نے ایٹمی دھماکہ کر دیا۔

1994 میں پھولن دیوی کی کتھا کو پردے پہ ایسے پیش کیا کہ واہ واہ ہو گئی۔ اس فلم کا نام Bandit Queen تھا۔

میری اس تعریف سے خوش ہو کر جو میں نے ان کی ”گرم ہوا“ فلم کے بارے میں بیان کی گئی معلومات پر مشتمل مضمون لکھنے اور اس کے مقبول ٹھہرنے کا کا ذکر کر کے کی تھی، راجہ رجب گویا ہوئے تھے۔ انہوں نے بات جاری رکھی۔

مولانا ابوالکلام آزاد نے کہا تھا کہ ہندوستان ایک ملک ہے اور پاکستان ایک تجربہ۔ اس کا کیا کیجے کہ جب اس تجربے کو ناکام کرنے کو کروڑوں لوگ صبح و شام اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لاتے رہے ہوں تو نتیجہ تو وہی نکلتا ہے جو ہمارے سامنے ہے۔

ہندوستان کا معاملہ اور ہے۔ باقی تو جانے دیں، وہاں فلم کے میدان میں جو کام ہوا، قابل ذکر بھی ہے اور قابل رشک بھی۔ کمرشل فلموں سے لے کر متوازی سینما کے فروغ کے لیے نجی اور سرکاری سطح پر جو کوششیں ہوئیں ان نے دنیا بھر میں فلم کو انڈیا کی پہچان کا ایک بڑا حوالہ بنا دیا۔

متوازی سینما کے میدان میں اگرچہ ہمالہ سے بلند نام، جیسے ستیہ جیت رائے اور شیام بینیگل وغیرہ ہیں لیکن ذرا کم اہم ناموں کا کام بھی قابل ذکر رہا ہے۔ شنکر کپور کی بینڈٹ کوئین (پھولن دیوی) ایسا ہی ایک کام ہے۔

فلم میں جو کہانی پیش کی گئی یہ پھولن دیوی کی زندگی کا مکمل خاکہ نہیں۔ یہ اس کی کم عمری کی شادی، مظالم سے عبارت زندگی، ڈاکو رانی بننا اور پھر ہتھیار ڈالنے تک کے واقعات کا احاطہ کرتی ہے۔ کہانی کو سلور سکرین پر پیش کرنے کا انداز اور معیار اس قدر بلند ہے کہ ہدایتکار چندر شیکھر اور عکاس اشوک مہتا کے فن کی داد دیے بغیر چارہ نہیں۔ کیا مختصر اور کیا طویل مناظر، جیسے جرگے کا انعقاد، بہمن گاؤں پر پھولن دیوی کا اپنی گینگ کے ہمراہ حملہ اور 22 ٹھاکروں کا قتل ( اس پہ اس وقت کے یو پی کے سی ایم وی پی سنگھ نے استعفی دیدیا تھا) ۔ اسی طرح پھولن دیوی کے مدھیا پردیش کے مکھ منتری ارجن سنگھ کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے مناظر، لاجواب ہیں۔ یہاں کچھ تفصیلات کو نظر انداز بھی کیا گیا۔ جیسے ایس پی راجندر چترویدی کی پانچ ماہ پر محیط رابطہ مہم اور پھولن دیوی کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے اپنا بیٹا تک گروی رکھنے کی پیشکش۔

اوپر بیان کیے گئے تمام متاثر کن مناظر ہم تک کیمرے کی آنکھ سے اشوک مہتہ نے پہنچائے۔ وہ اپنے فن میں ایسے نامور تھے کہ ان کی وفات کے بعد 2013 میں انڈین محکمہ ڈاک نے ان کے نام سے ٹکٹ جاری کر کے ان کی فنی عظمت کو پرنام پیش کیا۔

فلم کی پس پردہ موسیقی بھی غیر روایتی تھی۔ ماسوائے چند مناظر کے جہاں سازوں کا سہارا لیا گیا، ہر خاص منظر کو نصرت فتح علی خان کے الاپ کے ذریعے نمایاں کیا گیا۔

یہ فلم اس سال کی بہترین فلم قرار پا کر نیشنل فلم ایوارڈ کی حقدار ٹھہری۔
پھولن دیوی کے ہتھیار ڈالنے کے بعد کی کہانی جو فلم میں دیکھنے کو نہیں ملتی کچھ یوں ہے۔

پھولن دیوی کو 11 سال قید کی سزا ہوئی اور اسے تہاڑ جیل بھیج دیا گیا۔ 1994 میں مکھ منتری ملائم سنگھ یادیو نے اس کی سزا معاف کر دی۔ کچھ عرصہ بعد اس نے یادیو کی سماج وادی پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ 1996 کے چناؤ میں اس نے اسی پارٹی کے ٹکٹ پر مظفر پور سے چناؤ لڑا اور لوک سبھا کی ممبر بنی۔

دوسری مرتبہ 1999 میں اس نے پھر چناؤ جیتا۔

2002 میں ایک صبح جب وہ لوک سبھا کے اجلاس میں شرکت کے لیے نکلی تو شیر سنگھ رانا نامی شخص نے اس کے گھر کے گیٹ پہ گولیوں کا نشانہ بنا کر بہمنی ٹھاکروں کا بدلہ چکاتے ہوئے اسے قتل کر دیا۔ اس وقت پھولن دیوی کی عمر 37 سال تھی۔

اس طرح وہ دیوی جو کہلائی تو پھولن لیکن کانٹوں بھری زندگی بتا کے اگلے جہاں سدھار گئی۔
جو اب کیے ہے داتا ایسا نہ کیجیو
اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجیو۔

Facebook Comments HS