کینیڈا میں دیسی رنگ باز اور فراڈیے
میں ٹورونٹو کینیڈا میں گزشتہ دس سال سے اپنی قسمت آزمائی کر رہا ہوں۔ پردیس میں پیش آنے والی ہر قسم کی مشکل سے گزرا ہوں، اپنے گرافک ڈیزائن کے شعبے میں آٹھ سال تک مختلف اداروں میں کام کرنے کے بعد جب کووڈ کا پیریڈ آیا تو میں بھی اپنی نوکری سے محروم ہو گیا۔ اسی اثنا میں میری ملاقات تھارن کلف کے ایریے میں ایک کاروباری شخص سے ہوتی ہے جو کہ وہاں بطور امیگریشن کنسلٹنٹ کام کرتا ہے۔ ہم دونوں مل کر ایک نئے کاروبار فوٹو سٹوڈیو کو شروع کرنے کا پلان کرتے ہیں۔
مجھے زندگی میں ابھی تک کاروبار کرنے کا کوئی عملی تجربہ نہیں تھا اس لیے میں نے اپنے پارٹنر کی ہر بات کو صحیح جانتے ہوئے جیسے وہ کہتا گیا اس پر عمل کرتا گیا۔ میرے پارٹنر صاحب بظاہر بہت نیک نظر آنے والے صوم و صلوۃ کے پابند باریش انسان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار کا تمام ایکویپمنٹ میرا، جبکہ کام آپ کا ہو گا۔ میں یہ سمجھا کہ شاید چالیس پچاس ہزار ڈالرز کا سامان خریدنا پڑے گا۔ لیکن بعد میں پتہ چلا کہ زیادہ تر سیکنڈ ہینڈ اور چند ایک نئی اشیاء (کیمرہ، کمپیوٹر اور پرنٹر وغیرہ) جن پرکل ملا کر ہزار سے پندرہ سو ڈالر تک کا خرچہ آیا، تو یہ تھی اس کی ٹوٹل انویسٹمنٹ۔
اب یہ بزنس صفر سے سٹارٹ ہوتا ہے، جس کے کچھ عرصے بعد میرا پارٹنر مکمل طور پر اپنا ڈرافٹ کیا ہوا ایک معاہدہ سامنے لے آتا ہے، جس پر وہ میرے دستخط تو لے لیتا ہے لیکن وہ اپنے دستخط کرنے سے گریز کرتا ہے، میرا چونکہ کاروبار کا یہ پہلا تجربہ تھا اس لیے مجھے ذرہ بھر بھی احساس نہیں ہوا کہ وہ پہلے ہی مرحلے میں مجھے دھوکہ دے رہا ہے کیونکہ اس کے حلیے اور سحر انگیز باتوں سے میرا اس پر اندھا اعتماد تھا۔ اس کے علاوہ کسی گواہ کے دستخط بھی نہ کروائے حالانکہ گواہ کا کالم بھی معاہدے پر موجود تھا۔ اب اس معاہدے کی رو سے ہم دونوں فریق تمام خرچے نکال کر پچاس پچاس فیصد کے حصہ دار ہوتے ہیں۔ (اس معاہدے کی کاپی میرے پاس موجود ہے)۔
میں دل لگا کر اپنے کاروبار کی ترقی و کامیابی کے لئے ہفتے کے ساتوں دن 70 سے 80 گھنٹے تک کام کرنے لگا اور اپنے اس نئے کاروبار کو میں نے محنت اور لگن سے کامیابی دلا دی۔ دو تین مہینے بعد جب کمپنی ڈھائی سے تین ہزار ڈالر ماہانہ بنانے لگی تو میرے پارٹنر نے اپنی منتھلی پندرہ سو ڈالر فکس کر والی۔ جب ہماری گراس انکم چار ہزار تک پہنچ گئی تو میرا سلیپنگ پارٹنر ہر مہینے مجھ سے دو ہزار ڈالر فکس رقم اپنے حصے کے طور پر لینے لگا اور اس کے علاوہ باقی تمام ماہانہ خرچے مثلاً کرایہ سٹوڈیو، مٹیریل، ادارے کی ایڈورٹائزنگ کا خرچہ وغیرہ سب میرے ذمے تھا ان سب کو نکال کر جو کچھ بھی بچتا، وہ میرے حصے میں آتا۔
اسی دوران وہ اپنے پرسنل امیگریشن آفس کے لئے پاکستانی NICOP، ویزہ، پاسپورٹ کی تمام تر تصاویر بھی مجھ سے بالکل فری میں لیتا رہا، جس کا ماہانہ بل لگ بھگ ہزار ڈالر تک آتا تھا۔ پہلے مہینے 70 سے 80 گھنٹے تک کام کرنے کے بعد میرے حصے میں صرف $ 760 ڈالر آئے، مگر میں نے صبر شکر کر کے اپنا کام جاری رکھاتا کہ کاروبار چلے۔ لینڈ لارڈ چونکہ ایک اچھا انسان تھا اور ہم دونوں پارٹنر ابھی ماہانہ بنیادوں پر چل رہے تھے، کیونکہ ابھی ہمیں اس بات کا یقین نہیں تھا کہ یہ کاروبار چلے گا بھی کہ نہیں۔
مگر کچھ ہی عرصے میں میری محنت اور لمبی ڈیوٹی نے اس کام کو کامیابی دلا دی۔ میرے پارٹنر نے جب کاروبار چلتا ہوا دیکھا تو مجھے بتائے بغیر کمپنی کو خاموشی سے اپنے نام پر رجسٹر کروا لیا اور لینڈ لارڈ سے لیز بھی اپنے نام سے کر والی۔ اس نے یہ حرکت کاروبار چل جانے کے تقریبا تین ماہ بعد خفیہ طور پر کی۔ اسی دوران میٹرو لنکس نے ہمارے ایریے کو اپنے ٹرانزٹ سسٹم کے پھیلاؤ سکیم کے لئے منتخب کر کے سب کاروباری افراد کو نوٹس بھجوا دیے۔
گورنمنٹ کی جانب سے تمام کاروباری حضرات کو Displacement کے متبادل کے طور پر خطیر رقم کی آفرز کی گئیں۔ میرے پارٹنر نے بھی فوٹو سٹوڈیو کا بحیثیت اکلوتا مالک بن کے مجھ سے پوچھے بغیر اپنا کلیم میٹرو لنکس میں جمع کروا دیا۔ میٹرو لنکس کے پراسیس میں تقریباً دو سے ڈھائی سال لگ گئے اور میں اس گمان میں رہا کہ میرا نیک صورت پارٹنر میرے ساتھ نا انصافی نہیں کرے گا۔ اس تمام عرصے میں کمپنی کا گراف گوگل بزنس پر 4.9 تک پہنچ گیا اور 317 کے قریب ریویو بھی ریکارڈ ہوئے۔
میں نے تین سال بعد پہلی چھٹی لی تاکہ نیو یارک جا کر اپنے دوستوں سے مل سکوں۔ ہمارا سٹوڈیو ان تین چھٹیوں میں مکمل طور پر بند رہا۔ میرا سلیپنگ پارٹنر (جو پندرہ سو ڈالر کی انویسٹمنٹ کے بعد تین سال تک دو ہزار ڈالر فکس منتھلی اور ایک ہزار ڈالر کی مفت تصاویر اپنے ذاتی کاروبار کے لئے لیتا رہا) اس کی موجودگی میں بھی ہمارا فوٹو سٹوڈیو بند رہا۔ میں تین دن بعد واپس آیا تو دراز میں صرف پانچ ڈالر پڑے تھے۔ تب مجھے احساس ہوا کہ اگر میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو تب بھی مہینے کے آخر میں مجھے ہی اس سٹوڈیو کے تمام خرچے اور پارٹنر کی منتھلی دو ہزار کی رقم دینی ہوگی۔
میرا اس کاروبار میں کردار صرف ڈالر کمانے والی مشین کا ہے یا کہ میں بحیثیت پارٹنر نفع نقصان میں برابر کا شریک ہوں۔ یہ سوال لے کر میں نے اپنی پوزیشن سمجھنے کے لئے اپنے پارٹنر سے رجوع کیا اور یہ نقطہ بھی ڈسکس کیا کہ آپ نے کمپنی صرف اپنے نام سے رجسٹر کر والی ہے تو اب میٹرو لنکس کے فنڈز کی تقسیم کن بنیادوں پر ہوگی؟ وہ میری بات سن کر بڑے اطمینان سے بولا! اس رقم سے تمہارا کوئی لینا دینا نہیں ہے کیونکہ میں کمپنی کا مالک اور تم میرے ملازم ہو۔
میں اس کے الفاظ سن کر ششدر رہ گیا کہ میٹرو لنکس کے فنڈز دیکھ کر اس بندے کا نہ صرف ایمان ڈول گیا ہے بلکہ اس نے مجھے بھی پارٹنر سے ملازم کے درجے تک گرا دیا ہے، میرے پاؤں کے نیچے سے زمین ہی نکل گئی اور میں حواس باختہ ہو گیا۔ کیونکہ اس سے پہلے کبھی بھی مجھے ملازم کہنے کی جرات نہیں ہوئی تھی۔ میرے دل میں جو خدشات تھے وہ اب حقیقت کا روپ دھار چکے تھے، میں نے اس بلڈنگ میں کاروبار کرنے والے باقی کاروباری حضرات کے سامنے وہ ایگریمنٹ رکھ دیا اور ان سے پوچھا کہ مجھے بتائیں اس معاہدے کی رو سے کیا میں اس کمپنی کا پارٹنر ہوں یا کہ ملازم؟
تمام کاروباری لوگوں نے معاہدے کو غور سے پڑھنے کے بعد اور میرا موقف سننے کے بعد پارٹنر کو بلا لیا اور اسے شک کا فائدے دیتے ہوئے اپنی غلطی سدھارنے کا موقع فراہم کیا۔ میرے پارٹنر نے پہلے پہل تو مجھے بہت سراہا کہ پاشا کی بدولت یہ کاروبار کامیاب ہوا ہے اور کہا جب پاشا پہلی بار میرے پاس آیا تھا تو اس کے الفاظ یہ تھے : ”میں نوکریاں کر کر کے تھک چکا ہوں، اب اپنا کام کرنا چاہتا ہو“ ۔ تو سب نے پوچھا اب بتائیں کیا اس جملے کا مطلب ایک نئی نوکری ہوتا ہے؟
جب اس نے میرا یہ جملہ دہرا کر خود کو پھنسا ہوا دیکھا تووہ اس بات پر اڑ گیا کہ پاشا میرا ملازم ہے پارٹنر نہیں ہے۔ تب کاروباری حضرات نے اس کا لکھا ہوا معاہدہ ہاتھ میں لہراتے کہا کہ تم کسی کے ساتھ مل کر پندرہ سو ڈالر کی انویسٹمنٹ کر کے نیا بزنس کھولو اور اس نان سینس معاہدے کے تحت تم پورے کینیڈا میں سے کوئی ملازم ہائر کر کے ہمیں دکھاؤ۔ اس نے آگے سے ڈھیٹ بن کر جواب دیا کہ یہ میرا سٹائل آف بزنس ہے۔ ایک دوست نے کہا!
یہ کیسا سٹائل ہے کاروبار کا جو نہ اسلامی شریعت پر پورا اترتا ہے اور نہ کینیڈین قوانین پر ؟ اگر پاشا تمہارا ملازم ہی تھا تو بتاؤ وہ ہفتے کے 70 سے 80 گھنٹے کام کرنے کے بعد پہلے مہینے صرف $ 760 کیوں لے کر گیا؟ وہ تمہارا پارٹنر تھا تو اس نے یہ قربانی دی، وگرنہ کون تین گنا کم تنخواہ قبول کرتا ہے اور پھر اوور ٹائم جو اس نے لگایا اس کے پیسے کدھر گئے؟
سب نے میرے بارے میں کہا کہ پاشا ایک سیدھا سادا انسان ہے جس کو کاروباری امور کا بالکل علم نہیں ہے اور وہ سر جھکائے اس پر عمل کرتا رہا۔ تم مانو کہ یہ معاہدہ غیر شرعی اور قانونی طور پر ناقابل عمل ہے۔ اس بات پر میرا نیک صورت پارٹنر بھڑک اٹھا اور بولا کہ تم اسلام اور شریعت کو چھوڑو یہ میرا بزنس ماڈل ہے۔ خیر کافی بحث کے بعد بھی وہ ٹس سے مس نہ ہوا اور الٹا اس نے مجھے اب پارٹنر کی بجائے اپنا ملازم کہنا شروع کر دیا۔
اس میٹنگ کے بعد تین اور جرگے بیٹھے مگر ڈھاک کے وہی تین پات، یہ بندہ مجھے میٹرو لنکس کے فنڈز میں سے آدھی رقم دینے پر آمادہ نہ ہوا۔ مجھے کاروبار سے علیحدہ کرنے کی دھمکیاں دینے لگا۔ اس نے کمال ہوشیاری سے اصل معاہدے کا پیج میرے ڈاکومنٹس کی فائل سے اٹھا کر چھپا دیا۔ اور میرے مانگنے پر جھوٹ پر جھوٹ بولتا رہا اور پھر مکر گیا۔ ایک مہینے کی بحث مباحثہ کے بعد یہ بندہ اپنے موقف میں صرف اتنی لچک پیدا کر سکا کہ مجھے لاکھوں کے فنڈز میں سے صرف دس ہزار ڈالر دینے کی آفر کر دی۔
میں نے اسے کہا مجھے میرا حق چاہیے، بھیک یا خیرات نہیں۔ میں نے اپنے کام کے آخری دن تک ایمانداری سے کلوزنگ کی، پارٹنر کے دو ہزار پورے کر کے دیے۔ لیکن اس نے مجھے وہ چیزیں بھی نہ اٹھانے دیں جو کہ میرے کمائے ہوئے پیسوں سے بعد میں خریدی گئیں تھیں۔ اس کی بے ایمانی کا مزید پول اس وقت کھلا جب میں نے کمپنی کے ماہانہ خرچوں کی تفصیل والے کچھ صفحات چیک کیے تو دیکھا کہ میرے پرہیز گار پارٹنر نے اپنے ذاتی دفتر کے اخراجات بھی خفیہ طور پر میرے کھاتے میں ڈالے ہوئے تھے۔
جیسے کہ پاکستان میں کچھ بے ایمان مالک مکان اپنے گھر کا کوئی پورشن کرائے پر دینے سے پہلے اپنے ذاتی گھر کی بجلی کا لوڈ بھی کرائے دار کے میٹر پر ڈال کر وائرنگ کرواتے ہیں۔ میں نے جب وہ ثبوت پارٹنر کے سامنے رکھے تو اس نے آہستہ سے بولتے ہوئے مجھے آفر کی کہ یہ پیسے واپس دے دیتا ہوں۔ میں نے حقارت سے ان پیسوں کو بھی ٹھوکر ماری اور وہ بھی اسے خیرات کر دیے۔ میں تو اس کمپنی سے ایک ڈالر کی چیز بھی لے کر نہیں نکلا بلکہ ہاتھ جھاڑ کر باہر آیا ہوں۔
تو دوستو! میں اس تحریر کے ساتھ معاہدے کی نقل بھی شیئر کر رہا ہوں آپ بھائیوں بہنوں سے گزارش ہے کہ اس کو پڑھ کر مجھے بتائیں کہ میں کہاں پر غلط ہوں اور میرے نیک صورت پارٹنر صاحب کہاں تک درست ہیں؟ کیا اس معاہدے کی رو سے میں اس ادارے کا ملازم ثابت ہوتا ہوں؟ اب چونکہ وہ مجھے میرا جائز آدھا حصہ اور کمپنی کی بنائی ہوئی میری گڈ ول دینے سے انکاری ہیں اور کل سے مجھے دھمکیاں بھی دے رہے ہیں کہ اگر میں لوگوں کو اس کی زیادتی، نا انصافی بتانے سے باز نہ آیا تو وہ مجھے وکیل کے ذریعے قانونی نوٹس بھجوائے گا، اب آپ لوگ بتائیں میں اس ظلم اور زیادتی پر احتجاج بھی نہ کروں؟ مجھے آپ سب لوگوں کے مشورے کا انتظار رہے گا۔



