نو مئی، فوج اور جوڈیشری میں تناؤ
فوجی تنصیبات پر حملوں کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے۔ ان حملوں کے بعد ملک بھر کے مختلف تھانوں میں سینکڑوں مقدمات درج ہوئے، ہزاروں گرفتاریاں ہوئی لیکن آج کے دن تک کسی بھی ٹرائل کورٹ سے ان حملوں میں ملوث ملزمان کے خلاف عدالتوں سے فیصلے نہیں آئے۔ کسی ایک ملزم کو بھی سزا نہیں سنائی جا سکی جبکہ متعدد کیسز میں پولیس نے ملزمان کے عدالتوں میں چالان جمع کروا دیے ہیں۔ ایک سال بعد بھی ہمارا عدالتی نظام اس قدر سست اور بوسیدہ ہو چکا ہے کہ ویڈیو، آڈیو، ثبوت سامنے آنے کے باوجود بھی ان کیسز کے فیصلے نہیں ہو سکے۔
اگر پولیس اور پراسیکیوشن کی بات کی جائے تو ان کی کارکردگی بھی مایوس کن رہی ہے۔ آج تک کسی ایک بھی عدالت میں پولیس یا پراسیکیوشن جناح ہاؤس، جی ایچ کیو، فیصل آباد حساس ادارے کے دفتر پر حملہ، گوجرانوالہ، میانوالی ائر بیس، پشاور ریڈیو پاکستان کو جلانے، کراچی میں رینجر کی چیک پوسٹ جلانے یا لاہور میں پولیس کی گاڑیاں نظر آتش کرنے کی ایک بھی ویڈیو عدالت میں پیش نہیں کر سکی جبکہ یہ تمام ویڈیو اور حملے سے قبل اور بعد میں تحریک انصاف کے لوگوں کی سوشل میڈیا پر آنے والی آڈیو لیکس کو بھی ثبوت کے طور پر عدالتوں میں پیش نہیں کر سکے۔
جس کی وجہ سے نو مئی کے متعدد نامزد اور مرکزی ملزمان ہائی کورٹ سے ضمانتیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے، انہوں نے الیکشن بھی لڑے اور جیتے بھی آج وہ اسمبلیوں میں بیٹھے ہمارے عدالتی نظام اور احتساب کے سسٹم کا منہ چڑا رہے ہیں۔ ایک طرف یہ سب کچھ ہو رہا ہے دوسری طرف بعض ججز فوج اور ایجنسیوں کے کردار پر سوالات اٹھا رہے ہیں اور فوج کو بار آئین پر چلنے کا بھی درس دے رہے ہیں۔ اگلے دن اسی غصے میں جنرل عاصم منیر نے بھی جواباً کہا ہمیں آئین مت سکھائیں، اظہار رائے کی آڑ میں آئین کا مذاق مت بنائیں۔ ہمیں معلوم ہے ہماری آئینی حدود کیا اور آئینی ذمہ داریاں کیا ہیں۔
نو مئی کے حملے کے ٹھیک دو دن بعد اس کے ماسٹر مائنڈ کو اس وقت کے چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے رہا کرنے کا حکم دے کر فوجی قیادت اور شہداء کے لواحقین کا تمسخر اڑایا۔ جو کہ آج کے دن تک مختلف عدالتوں سے سلسلہ جاری ہے۔ فوج عدلیہ کے طریقہ کار سے بھی ناخوش ہے۔ ایک طرف عدلیہ فوجی عدالتوں میں انڈر ٹرائل ملزمان کے جلد از جلد فیصلوں کے لیے فوج پر ہی دباؤ ڈال رہی ہے دوسری جانب سویلین کورٹس سے نو مئی کے ایک بھی کیس کا فیصلہ نہیں آ سکا۔
جبکہ آرمی کورٹس سے 20 افراد رہا بھی کر دیے گئے ہیں۔ نو مئی کا دن ایک ہولناک اور دردناک دن تھا پوری دنیا میں قومیں اپنے ہیروز کو فخر کا باعث سمجھتی ہیں لیکن ہمارے ملک میں کرنل شیر خان شہید اور ایم ایم عالم جیسے ہیرو کے مجسموں کی بے حرمتی گئی کی گئی۔ ان کا تمسخر اڑایا گیا ان حملوں کے بعد ایک لمحے کے لیے سوچیں جن ماؤں کے بیٹے بہنوں کے بھائی اور بیویوں کے شوہر مختلف جنگوں اور دہشت گردی کے حملوں میں شہید ہو چکے ہیں ان پر کیا گزر رہی ہوگی۔
کیا ان شہداء کے لواحقین موجودہ عدالتی نظام سے نا خوش نہیں ہوں گے اور سب سے بڑھ کر جن لوگوں نے ان کے پیاروں کی بے حرمتی کی اور تمسخر اڑایا کیا وہ ان کو بد دعائیں نہیں دے رہے ہوں گے۔ آج یہ تمام لوگ ایک بار پھر اسمبلیوں میں بیٹھ کر انہی شہداء کے لواحقین کا یہ کہتے ہوئے تمسخر اڑا رہے ہیں کہ ہم پھر فوج سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ اس کے لیے کمیٹی بھی بنا دی گئی ہے۔ نو مئی کے ملزمان سے مذاکرات شہداء کے خون سے سودا کرنے کے مترادف ہوں گے۔ ان کے لواحقین کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہوں گے۔ عمران خان وہ شخص ہے جس کے کہنے پر نو مئی کو شہداء کا تمسخر اڑایا گیا اور یہ کام ان نوجوانوں سے لیا گیا جن کو پورا سال ورغلایا اور ان کی ذہن سازی کی گئی۔ آج بھی ان میں سے کئی لوگ جیلوں میں ہیں جبکہ عمران خان کے اپنے بچے لندن میں پرسکون زندگی انجوائے کر رہے ہیں۔ شہداء کے لواحقین آج بھی عدالتوں کی جانب دیکھ رہے ہیں کہ ان کے پیاروں کا تمسخر اڑانے والوں کو کب سزائیں دی جائیں گی۔
پاکستان کے عدالتی نظام میں بھی بہت بڑا خلا موجود ہے۔ عدالتی فیصلوں اور عدالت کے طریقہ کار سے متعلق بھی اب قانون سازی کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ اگر ہم آج بھی اس جدید دور میں اپنے عدالتی نظام کو بہتر نہیں کر سکے تو ہمارا اللہ ہی حافظ ہے۔ کچھ ججز آج فوج کی جانب سے مداخلت کے الزامات لگا رہے ہیں۔ جب جسٹس شوکت صدیقی نے نام لے کر پوری قوم کو بتایا تو اس وقت سپریم کورٹ سے ہائی کورٹ تک کا کوئی جج بھی جسٹس شوکت صدیقی کے ساتھ کھڑا نہیں ہوا بلکہ ان کی عدالت سے ہی ان کے خلاف گواہیاں آئی۔ ان ہی شوکت صدیقی کی بد طرفی اب سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے دی ہے۔ اب ان کی ریٹائرمنٹ کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ اگر یہ ججز اس وقت شوکت صدیقی کے ساتھ کھڑے ہوتے تو آج ان کو خط لکھنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ اب وقت اگیا ہے کہ ججز کو بھی پسند ناپسند کو ترک کرنا پڑے گا اور اعلی عدالتوں میں ججز کی بھرتی کا بھی طریقہ کار تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ سب سے بڑا نظام عدل پر سوال یہ ہے کہ پاکستان میں ججز کو ججز ہی تعینات کرتے ہیں۔
دنیا کے کسی اور ملک میں بھی ایسا نہیں ہو رہا ہے۔ جب تک ماتحت عدالتوں سے ججز اعلی عدالتوں میں نہیں آئیں گے اور سیاسی بنیادوں پر سیاسی جماعتوں کے وکلا ونگ کے لوگوں کو ججز بنایا جاتا رہے گا نظام عدل میں بہتری کی توقع رکھنا بے وقوفی ہوگی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پارلیمنٹ کو بھی اپنے اختیارات کو سمجھنا پڑے گا۔ اگر پارلیمنٹ مضبوط اور با اختیار ہوگی تو تمام ادارے اس کو جواب دیں گے۔ اگر پارلیمنٹ ہی کمزور ہوگی تو ادارے منتخب عوامی نمائندوں سے طاقتور ہوں گے اگر عوامی نمائندے کمزور ہوں گے تو عوام کمزور ہوں گے اگر عوام کمزور ہوں گے تو ملک کمزور ہو گا اگر ملک کمزور ہوا تو پھر افغانستان جیسا ملک بھی ہمیں دھمکیاں دینے سے باز نہیں آئے گا۔


