گلفام نقوی کی شاعری میں محبت کی باز گشت


muhammad usman hocha

گلفام نقوی کا تعلق سید گھرانے سے ہے۔ آپ کے جد امجد سید زین العابدین نے چنیوٹ سے ہجرت کر کے پیر محل میں سکونت اختیار کی۔ آپ ولی اللہ تھے۔ تصوف، تقوی اور پرہیزگاری کی وجہ سے آپ پورے علاقہ میں مشہور تھے۔ آپ نے یہاں آ کر بہت ہی خوبصورت حجرہ تعمیر کروایا جو اپنی شان و شوکت اور طرز تعمیر کا عمدہ نمونہ تھا۔ لوگ آپ کے حجرے کو پیر محل کے نام سے پکارنے لگے اور اس علاقے کا نام پیر محل مشہور ہو گیا۔ گلفام نقوی نے اسی گھرانے میں 19 فروری 1964 کو آنکھ کھولی۔

آپ کا نام گلفام پروین رکھا گیا چوں کہ آپ کے دیگر رشتہ دار نام کے ساتھ نقوی کا لاحقہ استعمال کرتے ہیں تو آپ نے بھی نام کے ساتھ گلفام نقوی لکھنا شروع کر دیا۔ 27 فروری 1987 کو آپ سید اقتدار علی شاہ سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئی۔ لیکن یہ شادی کامیاب نہ رہی۔ شادی کے پانچ چھ سال بعد دونوں میں علیحدگی ہو گئی۔

گلفام نقوی نے ادبی زندگی کا آغاز ساتویں جماعت سے کیا۔ شعر و شاعری آپ کو ورثے میں ملی تھی۔ آپ کے نانا پنجابی کے ایک بہت اچھے شاعر تھے۔ وحید رضا وحیدی گلفام نقوی کے مجموعہ ”پانی کی بنیاد“ میں رقم کرتے ہیں۔

”ان کی شاعری کی قوس قزح میں سب رنگ قدرتی اور آفاقی ہیں۔ سات رنگ دھنک میں تین رنگ ددھیال کے اور تین رنگ ننھیال کے ہیں اور ساتواں رنگ ان کا اپنا ہے۔ جو چھ رنگوں کے امتزاج اور ان کی کاوش کا نتیجہ ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاعری کے یہ سب رنگ انھیں قدرت نے ودیعت کیے ہیں۔ انھیں ڈرائنگ اور پینٹنگ کا بہت شوق ہے۔ جو بھی چیزیں ان کے دل کو لبھاتی ہیں وہ انھیں خوبصورت رنگوں کے ذریعے صفحہ قرطاس کر دیتی ہیں۔ عائشہ عباس کو دسمبر 2012 کو مصاحبہ کے دوران بتاتی ہیں۔

” ایک دفعہ میں سکول سے واپس آ رہی تھی۔ گرمیوں کے دن تھے۔ ہر طرف سناٹا تھا اور کڑاکے کی دھوپ تھی۔ میں نے ایک درخت دیکھا۔ جس پر بہت کم سبزہ تھا اور ایک عورت جس کی زلفیں پریشان اور خود پسینے میں شرابور تھی اور تھکی ماندی اس درخت کے سائے میں بیٹھی ہوئی تھی۔ اس عورت کو دیکھ کر میرے اندر ایک عجیب سی ہلچل ہوئی۔ میرا دل چاہا کہ میں اس عورت کی تصویر بناؤں، چنانچہ جب میں گھر پہنچی تو میں نے ایک چارٹ لیا اور جو کچھ میرے ذہن میں نقش ہو گیا تھا اس کو اسی طرح سے چارٹ پر منتقل کر دیا۔ میں نے ایک بڑا سا میدان اور اس میں ایک درخت، جس پر ہلکے ہلکے سے پتے ہوں بنایا اور اس کے نیچے ایک عورت کی تصویر بنائی جو کہ بہت تھکی ماندی اور زلفیں بکھرائے پڑی ہوئی ہے۔ میں نے تصویر مکمل کرنے کے بعد اس کے نیچے ایک شعر لکھا۔ جو کہ میرا پہلا شعر تھا۔

منزل سے دور ہوں میں کتنی مجبور ہوں میں
سائے کے جستجو کی اب غم سے چور ہوں میں

یہ گلفام نقوی کا پہلا شعر تھا جو انھوں نے ہفتم جماعت میں لکھا تھا۔ انھیں کیا معلوم تھا کہ یہ پہلا شعر ان کی زندگی کا ما حاصل ہو گا۔ جس سائے کی جستجو انھوں نے کی۔ ان کے منہ قلم سے اس وقت جو شعر نکلا۔ کیا خبر کہ شادی کے بعد وہی سایہ جس نے نگہبان بن کر انھیں اپنی آغوش میں لینا تھا وہی سایہ انھیں غموں، دکھوں کی وادیوں میں چھوڑ کر اپنی ایک نئی منزل کی طرف گامزن ہو گیا۔ جب کہ گلفام اکیلی منزل کی تلاش میں سرکردہ رہی۔

ان کی شاعری میں تنہائی، دکھ، غم اور ان غموں سے چھٹکارا پانے کی جستجو نظر اتی ہے۔ ایک نوجوان شاعرہ کے جذبات جب شاعری کے ذریعے عیاں ہوتے ہیں تو ان کے الفاظ ان کی دلی کیفیات اور خارجی احساسات کی ترجمانی کرتے ہیں۔ ان کی پہلی کتاب سہارے مل ہی جاتے ہیں میں سے ایک غزل جس سے انھوں نے کتاب کا نام بھی مستعار لیا ہے۔ ملاحظہ کریں۔

بھنور میں ڈوب کے ابھرو کنارے مل ہی جاتے ہیں
اگر ہو جستجو سچی سہارے مل ہی جاتے ہیں
تمنا چاند کی کرتی ہوں کیوں تاریک راتوں میں
مری جب انکھ کو اشکوں کے تارے مل ہی جاتے ہیں
منڈیروں پر نظر رہتی ہے گرچہ کوئی موسم ہو
بہار آنے نہ آنے کے اشارے مل ہی جاتے ہیں
نہیں گلفام یہ لازم کہ روئیں ہم مقدر کو
کبھی شاہوں کو بھی تو کچھ خسارے مل ہی جاتے ہیں

گلفام نقوی کی درج بالا اشعار سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی شاعری میں ایک ایسی منزل کی جستجو تھی جس کی انھوں نے جستجو کی لیکن راہرو، رہنما نے وفا نہ کی۔ اگر چاند کو استعارہ سمجھا جائے اور تاریک راتوں سے مراد ان کی زندگی میں پائے جانے والے دکھ، مصیبتوں کو مراد لیا جائے تو شعر کے مفہوم کو سمجھنے میں آسانی ہوگی ایک ایسا چاند، ایک ایسا ہمسفر، جو تاریک راتوں میں بھی ان کے لیے روشنی کے کئی در وا کرتا ہے اور قدم قدم پر ان کی رہنمائی کرتا ہے اگر اس کو گرہن لگ جائے تو انسان تاریکی میں راستہ تلاش نہیں کر پاتا اور اس کی منزل اس سے کوسوں دور ہو جاتی ہے۔

گلفام نقوی کی شادی چھوٹی عمر میں ہوئی تھی اور وہ سید دلدار حسین شاہ سے بہت محبت کرتی تھی لیکن یہ محبت پروان نہ چڑھی۔ اس کے باوجود سید دلدار حسین کی دو نشانیوں کو ہمیشہ اپنے سینے سے لگائے رکھا۔ ان کی پرورش و تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ، انھیں باپ کی کمی کا احساس نہیں ہونے دیا۔ اپنے پیار کے بچھڑ جانے کا غم اور دکھ ان کی شاعری کا ایک جزو بن گیا۔ گلفام نقوی کا ایک شعر ملاحظہ ہو۔

گل بظاہر جو بہت دور گیا ہے مجھ سے
بند آنکھوں سے مگر پاس بہت دکھتا ہے

گل اس شعر میں استعارہ ہے اور استعارہ بھی اس ساتھی کا جو جیتے جی اس کی زندگی سے علیحدہ ہو گیا اور اپنی نئی دنیا بسا لی لیکن بہت سی یادیں پیچھے چھوڑ گئے۔ ان کا خاکی وجود چاہے ان کے پاس نہیں ہے۔ اس کے باوجود تخیلاتی طور پر وہ ہر وقت ان کے پاس ہوتا ہے اور بند آنکھوں سے وہ اپنے جذبات کا انخلا کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے ان کے علاوہ کوئی بھی ہم مزاج انھیں زندگی میں نہ ملا۔ گلفام نقوی اپنے ایک شعر میں اپنے جذبات کا اظہار یوں کرتی ہے۔

بڑھنے لگا ہے درد تو دل جوئی کے لیے
گلفام ہم مزاج بھی ملتا نہیں کوئی

جب ہم مزاج، ہم خیال، ہم سفر ہی ساتھ چھوڑ جائے تو پھر ان کی یادیں ہمارے تخیل پر دستک دیتی ہیں اور پھر گلفام نقوی کی اشعار کی صورت میں ہمارے سامنے آتے ہیں۔ پہلی محبت ہمیشہ انسان کے دماغ پر نقش ہو جاتی ہے۔ پھر چاہتے ہوئے بھی ان نقوش کو مٹایا نہیں جا سکتا۔ گلفام نقوی کی شاعری میں بچھڑ جانے کا غم، محبت سے دوری ان کی دلی کیفیات کا منظر نامہ واضح کرتی ہے۔ پہلی محبت کے بعد اس نے خواب میں بھی کسی اور کی جستجو نہیں کی۔ یوں گویا ہوتی ہیں۔

ایسے دیکھا تجھے ایک بار میری انکھوں نے
تیرے بعد کوئی خواب تک نہیں دیکھا

محبوب سے بچھڑ جانے کا غم، ہجر میں وصال کی خواہش، ایک نوحہ بن کو ابھرتی ہے اور ان کی شاعری کو نیا موضوع عطا کرتی ہے۔ ان کی یہ خواہش کے محبوب کے کندھے پر سر رکھ کر زندگی کے آلام و رموز کو بھول جائے اور اور پھر کبھی بھی اپنے محبوب سے جدا نہ ہو وہ محبوب جو ان کا مجازی خدا بھی تھا اس کا احساس سائے کی طرح ہمیشہ اس کے وجود کا حصہ بن گیا۔ لکھتی ہیں۔

ہو تیرا قرب ہی جینے کا آسرا مجھ کو
میں تجھ سے دور نہ جاؤں جو تیرے پاس آؤں

جب انسان زندگی کے دکھوں کے مداووں کا حال تلاش نہیں کر پاتا تو پھر وہ خود کو قربت الہی کی طرف راغب کرتا ہے۔ گلفام نقوی بھی اپنے تمام دکھوں، پریشانیوں اور تکلیفوں سے چھٹکارا پانے کے لیے خود کو حضور اکرم ﷺ کی چوکھٹ سے وابستہ کرتی ہوئی نظر آتی ہیں، پھر ان کا منہ قلم نعت رسول مقبول ﷺ کو رقم کرنے میں مشغول ہو جاتا ہے۔ جو انھیں عشق رسول کی منزل تک پہنچا دیتا ہے۔ گلفام نقوی کی شاعری میں تصوف بھی جا بجا نظر اتا ہے۔ ”پانی پر بنیاد“ میں سے نعت کے چند اشعار ملاحظہ ہوں۔

رہائی مل گئی رنج و علم سے ابتداؤں سے
سجا رکھا ہے جب سے دل درودوں سے ثناؤں سے
تصور میں ہی رہتا ہے عکس گنبد خضرا
مہکتے ہیں میرے دن رات طیبہ کی ہواؤں سے
ہے یہ اعزاز سرکار دو عالم کی غلامی کا
صدا جھولی بھری رہتی ہیں مولا کی عطاؤں سے

گلفام نقوی کی شاعری عشق رسول سے مزین ہیں۔ حضور اکرم کی چوکھٹ سے وابستہ ہونا، در رسول پر شب و روز گزارنے کی خواہش ان کے دل پر دستک دیتی ہے۔ جس سے وہ خود کو حضور کی غلام تصور کرتی ہے۔ غلامی کا یہ اعزاز ان کے نزدیک کسی بھی بڑی عطا سے کم نہیں۔ گلفام نقوی نے اردو شاعری کے ساتھ ساتھ پنجابی شاعری میں بھی طبع آزمائی کی۔ شاعر زمانے کا نبض شناس ہوتا ہے۔ گلفام نقوی نے بھی اپنے حالات و واقعات کو ایک احساس شاعرہ کے طور پر محسوس کیا اور پھر انھیں شاعری کا جامہ پہنایا۔ معروف شاعر مسعود عثمانی اس ضمن میں لکھتے ہیں۔

” گلفام نقوی بہت اچھی شاعرہ ہیں۔ پنجابی اور اردو دونوں میں بہت اچھا لکھ رہی ہیں۔ وہ نیم دل سے نہیں لکھتی بل کہ ہر چیز کو محسوس کرنے کے بعد لکھتی ہیں اور شاعری میں یہ چیز بہت اہم ہوتی ہے۔ ان کی شاعری میں ایک بڑی طاقت ہے اور وہ طاقت احساس کی طاقت ہے کیوں کہ نیم دلی سے اگر کوئی بات کہی جائے تو اس میں اتنا اثر نہیں ہوتا۔

گلفام نقوی کے شاعری مجموعوں میں ”سہارے مل ہی جاتے ہیں“ ”دل دی رمز پہچان“ اگر وقت کو تھام سکتی ”اور پنجابی میں“ جنگل وچ کلا جگنو ”کے عنوان سے شائع ہو چکے ہیں۔ ان کے علاوہ مختلف رسائل میں بچوں کے لیے کہانیاں بھی لکھ رہی ہیں۔ ان کی شاعری میں واردات قلبی، رجائیت، امید اور عصری معنویت کی جھلک ہمیں نظر آتی ہے۔

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments