مذہب تاریخ کی دھندلی روشنی میں


تقریباً تمام انسانوں کی شناخت دو بڑی خصوصیات سے ہوتی ہے، ان کی قومیت اور ان کا مذہب۔ یہ صورت حال انسانی تاریخ میں شروع سے موجود رہی ہے۔ یہ شناخت ثقافتی اور سماجی اقدار کی وضاحت کرتی ہیں۔ یہ تصورات افراد اور قوموں کے درمیان تعلقات کی بنیاد بھی بنتے ہیں۔

اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تقریباً دس ہزار سال قبل تہذیب کے آغاز سے ہی قوم اور مذہب کا تصور بتدریج ارتقا پذیر ہوا۔ اس وقت سے پہلے ہمارے آبا و اجداد کے پاس بات چیت کے لیے کوئی زبان نہیں تھی اور وہ قوموں میں خود کو منظم کرنے کے قابل نہیں تھے۔ یہ بھی ناقابل فہم ہے کہ وہ اپنے اس دور میں خدا اور مذاہب کے بارے میں سوچ سکتے تھے۔ لاکھوں سال پہلے انسان کی تمام جدوجہد اپنی بقا کے لیے ہوئی ہوگی۔

جب انسانوں نے زبان اور زراعت کو ترقی دی، تو انہوں نے مل جل کر رہنا سیکھا، خاندان، قبیلے، اور آخرکار ایسے ممالک اور قومیں وجود میں آئیں جن کی سرحدیں تھیں۔ یہ وہ زمانہ ہو گا (تقریباً دس ہزار سال پہلے) جب خدا کا تصور پیدا ہوا ہو گا۔ یہ تصور آہستہ آہستہ منظم مذاہب میں تیار ہوا، ان مذاہب میں سے کچھ آج تک موجود ہیں۔

تہذیب کے ابتدائی دور میں قوم اور مذہب کے تصورات کافی مثبت رہے ہوں گے۔ انہوں نے انسانوں کو کسی نہ کسی بندھن میں باندھنے، ایک دوسرے کی مدد کرنے اور اخلاقی رویے کے لیے قوانین اور جواز فراہم کرنے میں ضرور مدد کی ہوگی۔ تاہم موجودہ وقت سمیت تاریخ کے مختلف ادوار میں تنازعات پیدا ہوئے اور آپس میں خونی جنگیں لڑی گئیں اور قوم اور مذہب کی شناختوں کے نام پر لاکھوں افراد مارے گئے۔ بیسویں صدی میں سو ملین سے زیادہ لوگ مارے گئے، اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ قومی سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اپنے مذہب کی پاسداری میں جانوں کا ضیاع سب سے بڑی قربانیوں میں شمار کیا جاتا ہے اور ساتھی انسانوں کی طرف سے ان کا بہت احترام کیا جاتا ہے۔

اس لیے قومیت اور مذہب کے تصورات کی بنیادوں کا مطالعہ ضروری ہے۔ یہ کیونکر ہے کہ کوئی ان تصورات کا اتنا قائل ہے کہ ان کے لیے کسی دوسرے کی جان لینا اور اپنی جان قربان کرنا افضل ترین عمل شمار ہوتا ہے؟ قومیں اپنے ہیروز کو اونچے تمغوں سے نوازتی ہیں اور مذہبی طبقے مذہب کے محافظوں کو جنت میں داخل ہونے کا ضامن سمجھتے ہیں۔

اس مضمون میں، میں مذاہب کی سچائی کے سوال پر توجہ مرکوز کرتا ہوں اور اس بات پر بحث کرتا ہوں کہ عام طور پر مذاہب ایسے تاریخی حوالوں پر مبنی ہیں جو انتہائی ناقابل اعتبار اور بعض اوقات غلط ہو سکتے ہیں۔ قومیت کے تصور کے پس پردہ عقلیت پر بحث کے لیے ایک الگ مضمون کی ضرورت ہے۔

· ایسے پختہ عقائد کی روشنی میں، جن کے دفاع میں انسان دوسروں کی زندگی لینے اور اپنی جان قربان کرنے میں فخر محسوس کرتا ہے، یہ توقع کی جاتی ہے کہ لوگ اپنے اپنے مذاہب کی ابتدا کے بارے میں انتہائی پراعتماد ہوں گے۔

· وہ اپنے مذاہب کے بانیوں، ان کی زندگیوں اور ان کے پیغام کے بارے میں پوری درستگی اور اعتماد کے ساتھ جانتے ہوں گے، اور تحریری ریکارڈ کے لحاظ سے بانیوں کے عصری ثبوت وافر مقدار میں دستیاب ہوں گے۔

· اس بات میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی کہ مذہب کی ابتدا اور بانیوں کے بارے میں ہماری معلومات مضبوط ترین تاریخی حوالوں پر مشتمل ہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس میں سے کوئی بات بھی سچ نہیں ہے۔ تقریباً تمام مذاہب کی بنیادیں ناقص، نامکمل اور مشکوک شہادتوں پر قائم ہیں۔ بعض اوقات ایسے واقعات اور شخصیات کے بارے میں ثبوت کا مکمل فقدان ہوتا ہے جو مذہب کی بنیادیں بناتے ہیں۔ سب سے حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ تاریخی تصدیق کی اس کمی نے لوگوں کو اپنی ’سچائی‘ کی تبلیغ کرنے سے نہیں روکا ہے، ایسی تبلیغ جو کئی بار تشدد اور قتل و غارت کا باعث بنتی ہے۔

یہاں کچھ مثالیں ہیں۔

آج موجود قدیم ترین مذاہب میں سے ایک یہودیت ہے۔ اس کی بنیادیں تقریباً چار ہزار سال قبل پیغمبر ابراہیم نے رکھیں۔ ان کے پوتے یوسف کو اپنے دور میں مصر کا سب سے اہم شخص اور فرعون کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا تھا۔ بعد کے نبیوں میں سے ایک موسیٰ ہیں جن کو یہودیت میں سب سے زیادہ قابل احترام افراد میں شامل کیا جاتا ہے۔ ان کے ساتھ بہت سے بڑے واقعات وابستہ ہیں۔ ان کی پرورش فرعون کے محل میں ہوئی، انہوں نے اپنی قوم کو مصر سے نکالا، ان کے پیروکاروں کے محفوظ گزرنے کے لیے سمندر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا اور فرعون اپنے ساتھیوں سمیت موسیٰ کا پیچھا کرتے ہوئے سمندر میں غرق ہو گیا۔

موسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے خود کوہ سینا پر دس احکام سونپے تھے اور ان سے اور ان کے پیروکاروں سے اسرائیل کی سرزمین کا وعدہ کیا تھا۔ ایک اور سب سے زیادہ قابل احترام شخصیت اسرائیل کے بادشاہ داؤد ہیں۔ ان کے بیٹے سلیمان وہ بادشاہ تھے جن کی نظیر اس دنیا نے نہیں دیکھی۔ بعض روایات میں ہے کہ وہ پرندوں اور چیونٹیوں سمیت تمام مخلوقات کی گفتگو کو سمجھ سکتے تھے۔

سب سے حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ پچھلے دو سو سالوں کے دوران وسیع تلاش کے باوجود ان انبیاء میں سے کسی کا کوئی تاریخی ثبوت نہیں ملا جن کا ذکر ان کی مقدس کتاب عبرانی بائبل میں کیا گیا ہے۔ مصر کی کسی بھی ریکارڈ شدہ تاریخ میں یوسف اور موسیٰ کا کوئی ذکر نہیں ہے، اس امر کے باوجود کہ مصر کی ہزاروں سال پرانی تاریخ کافی تفصیل کے ساتھ دیواری تحریروں میں درج ہے جس کو کامیابی کے ساتھ پڑھنا اور سمجھنا ممکن ہو پایا ہے۔ اسی طرح داؤد اور سلیمان جیسے بادشاہوں کی تاریخی حیثیت بھی قائم نہیں ہو پائی ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ تاریخ پر مبنی اس مذہب نے نہ صرف دو اور عظیم مذاہب کو جنم دیا ہے بلکہ اس سرزمین پر دعویٰ کیا ہے جس کا ان کے اس پیغمبر سے ”وعدہ“ کیا گیا تھا جن کی تاریخی موجود گی آج تک ثابت ہی نہیں ہو سکی۔ اگر کوئی عقلی طور پر سوچنا چاہے، تو یہ بات کتنی عجیب اور ناقابل یقین لگتی ہے۔

مقدس کتاب، عبرانی بائبل، یہودیت کی بنیاد فراہم کرتی ہے اور بعد میں آنے والے کچھ مذاہب کی طرف سے بھی اسے مقدس کتاب مانا جاتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر آدم سے لے کر تقریباً ڈھائی ہزار سال قبل تک کی تاریخ ہے جب اسرائیل پر بابل نے قبضہ کر لیا تھا، وہاں کے باشندوں کو جلاوطن کر دیا گیا تھا، اور ہیکل سلیمانی کو تباہ کر دیا گیا تھا۔ حیرت انگیز طور پر ، بائبل کے مصنفین میں سے کسی کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔ حالیہ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ عبرانی بائبل کو کئی مصنفین نے لکھا اور اس کی تدوین ممکنہ طور پر تقریباً ایک ہزار سال تک پھیلی ہوئی ہے۔

سب سے بڑا مذہب جو آج موجود ہے وہ عیسائیت ہے۔ اس مذہب کے بانی یسوع مسیح تھے جو دو ہزار سال پہلے زندہ تھے۔ مسیح سے وابستہ معجزے کے مطابق وہ مردوں کو زندہ کر سکتے تھے لیکن وہ اپنے آپ کو صلیب پر ایک سفاکانہ موت سے نہیں بچا سکے۔ بائبل کے مطابق وہ صلیب پر پکارتے رہے کہ میرے خدا، میرے خدا، تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟ اس امر کے باوجود کہ عیسائیوں کے مطابق مسیح کوئی اور نہیں بلکہ خدا کا بیٹا تھے جو مریم نامی کنواری سے پیدا ہوئے تھے۔

اللہ تعالیٰ کے ”بیٹے“ کے بارے میں تمام شواہد ہمیں چار انجیلوں سے ملتے ہیں، مارک، لیوک، یوحنا اور میتھیوز کی اناجیل جو مسیح کے مصلوب ہونے کے تقریباً سو سال بعد ایسے افراد نے لکھیں جن کی شناخت علماء کے لیے آج تک ایک راز ہے۔ یہ اناجیل جو عیسائیت کی بنیاد بناتی ہیں مسیح کی پیدائش سے لے کر ان کی موت تک کی زندگی اور پھر آسمانوں میں اٹھنے کا بیان کرتی ہیں۔ وہ اکثر اہم تفصیلات میں ایک دوسرے سے متضاد ہیں۔ مثال کے طور پر ، مسیح کا نسب نامہ دو انجیلوں میں دیا گیا ہے اور ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے۔

مسیح کی تفصیل، ان کی مصلوبیت، اور ان کے آسمانوں میں اٹھنے کا بیان، جیسا کہ انجیلوں میں بیان کیا گیا ہے، اس قدر ناقابل یقین ہے کہ مسیحی علماء کے درمیان مسیح کے وجود کے بارے میں بحث جاری ہے۔ یہ بحث کہ مسیح اصلی تاریخی شخصیت تھے یا ایک افسانوی کردار، تقریباً دو سو سال سے جاری ہے اور عیسائی مذہب کی ان انتہائی متزلزل بنیادوں کی نشان دہی کرتی ہے جن پر یہ عظیم مذہب قائم ہے۔ عیسائیت کی بنیاد پر دو سو سال تک صلیبی جنگیں لڑی گئیں اور یورپ کے مختلف حصوں میں اس مذہب کے نام پر ، جس کا بانی آج بھی اہل علم کے لیے ایک معمہ ہے، وحشیانہ کاروائیاں کی گئیں، اور لاکھوں انسانوں کا قتل عام کیا گیا۔

میری آخری مثال آخری بڑے مذہب اسلام سے متعلق ہے جس کے ماننے والے انسانیت کا ایک چوتھائی حصہ ہیں۔ اس عظیم مذہب کے بانی حضرت محمدﷺ تھے جن پر تقریباً 23 سال کے عرصے تک وحی نازل ہوتی رہی۔ وحی کا مجموعہ مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کی تشکیل کرتا ہے۔

آج تقریباً تمام مسلمان نبی کے بارے میں ان کی پیدائش سے لے کر ان کے آخری لمحات تک سب کچھ جانتے نظر آتے ہیں، آپ کی زندگی کیسے گزری، مختلف مواقع پر آپ نے کیا کہا، آپ نے کیسے کھایا، اپنی خاندانی زندگی میں کیسا برتاؤ کیا، اور آپ کا اپنے پیروکاروں سے کیا تعلق تھا۔ یہ سب کچھ سب کو معلوم ہے۔ مسلمان خلفائے راشدین اور بعض دیگر معزز صحابہ کرام کی زندگیوں، افعال اور اقوال کے بارے میں بھی بالکل درست اور بعینہ جانتے ہیں۔

سچی بات یہ ہے کہ نبی کی زندگی کے بارے میں تقریباً تمام روایات ہمارے پاس آٹھویں صدی کے آخر میں، پیغمبر اسلام کی وفات کے تقریباً ایک سو پچاس سال بعد کے ذرائع سے آئی ہیں۔ نبی کی وفات کے بعد پہلی صدی میں اسلامی معاصر ذرائع تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں۔ پیغمبر اسلام (ص) کی مسلسل سیرت لکھنے والے پہلے شخص محمد بن اسحاق تھے۔ نبی کی زندگی کی تاریخ کے بارے میں جو کچھ ہم جانتے ہیں تقریباً سب کچھ ان کی کتاب ”سیرت رسول للہ“ سے اخذ کیا گیا ہے جو آٹھویں صدی کے آخر میں (تقریباً 760 عیسوی) لکھی گئی تھی۔ نبی کے اقوال کا پہلا وقیع مجموعہ حدیث نویں صدی کے آخر میں، نبی کی وفات کے دو سو سال بعد مرتب کیا گیا۔

مسلمانوں کی تاریخ قدیم ترین خلفاء بالخصوص عمر الخطاب کے بارے میں روایات سے بھری پڑی ہے۔ ایک حیرت انگیز مشاہدہ یہ ہے کہ ابوبکر اور عمر کا سب سے پہلا ذکر عرب کے بادشاہوں کی فہرست میں ملتا ہے جوان کی وفات کے بہت سال بعد 661 عیسوی میں آرمینیائی بشپ سیبیوس سے منسوب ایک تاریخ کی کتاب میں مرتب کی گئی تھی۔ ان عظیم خلفاء کا تذکرہ عصری ذرائع میں مفقود ہے۔ ان کی وفات کے بعد کئی دہائیوں تک ان عظیم شخصیات کی زندگیوں کے بارے میں کوئی براہ راست ذرائع موجود نہیں۔

اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہم ان کے بارے میں جو واقعات پڑھتے اور سنتے ہیں وہ زیادہ تر تقویٰ کے جذبے کے تحت ان کی وفات کے کئی دہائیوں، شاید صدیوں، بعد لکھے گئے۔ کربلا کے واقعات کے بارے میں بھی ایسا ہی ہے جہاں کسی نے چشم دید گواہی نہیں دی۔ لیکن منبر سے یہ واقعات اس طرح بیان کیے جاتے ہیں جیسے آنکھوں دیکھا حال بیان کیا جا رہا ہو۔

تاریخ کی نوعیت کے بارے میں یہ بیان تمام مذاہب کے ماننے والوں کو غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ ذاتی سطح پر، مذہبی سچائی پر یقین کرنا تو مناسب ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ جان لینا چاہیے کہ زندگی کے اس اہم ترین پہلو سے متعلق تاریخی ماخذات اس قدر دھندلے، نامکمل، غلط اور بعض اوقات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں کہ تقریباً تمام مذاہب کی بنیادیں انتہائی کمزور محسوس ہوتی ہیں۔

اس احساس کو اپنائے ہوئے مذہب سے وابستہ مطلق سچائی کے بارے میں دعوی کرتے ہوئے ان کے تاریخی ماخذ پر غور کرنا ضروری ہے۔ ایک خود راست بازی کے رویے کی بجائے ایک عاجزانہ رویہ ضروری ہے۔ یہ بیان کردہ حقائق غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں۔ زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح سچائی کی تلاش میں ایماندارانہ تحقیق لازمی ہے۔

مذہب میں حقیقت پسندی لانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ جب بھی کسی مذہب کے منبر سے کوئی روایت بیان کی جائے یا کوئی واقعہ سنایا جائے تو فوراً سوال کیا جائے کہ اس روایت یا واقعہ کا ماخذ کیا ہے۔ جواب میں غالباً کسی کتاب کا حوالہ دیا جائے گا۔ پھر یہ سوال بنتا ہے کہ یہ کتاب کس نے لکھی اور اہم بات یہ کہ کب لکھی گئی۔ اگر کتاب کے بارے میں ان سوالات کا جواب مل جائے تو اگلا سوال یہ ہو گا کہ اس کتاب کا اپنا ماخذ کیا ہے۔

سوال جواب کا یہ سلسلہ زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔ بہت جلد اندازہ ہو جائے گا کہ تقریباً تمام روایات کئی سو سال بعد بہت مشکوک حالات میں تحریر کی گئی تھیں۔ یہ ہو سکتا ہے کہ یہ تاریخی واقعات اور روایات ان ذرائع کی بنیاد پر لکھی گئی ہوں جو شاید اس وقت موجود تھے جب یہ کتابیں لکھی جا رہی تھیں، لیکن جن کے شواہد کسی کے پاس موجود نہیں اور جن کی صداقت کا کوئی ثبوت نہیں۔

کیا ایسی متزلزل بنیادوں پر کھڑی روایات کو مذہب کا حصہ بنایا جا سکتا ہے؟

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سہیل زبیری

ڈاکٹر سہیل زبیری ٹیکساس یونیورسٹی میں کوانٹم سائنس  کے Distinguished Professor ہیں اور اس ادارے میں کوانٹم آپٹکس کے شعبہ میں Munnerlyn-Heep Chair پر فائز ہیں۔

suhail-zubairy has 93 posts and counting.See all posts by suhail-zubairy