فضائل ماہ مئی

قومی تاریخ میں شمسی کیلنڈر کا پانچواں مہینہ، مئی المبارک، سید الشہور یعنی مہینوں کے سردار کی حیثیت رکھتا ہے جسے دیگر مہینوں پر ڈھیروں فضیلتیں حاصل ہیں۔ اکتیس ایام پر مشتمل مئی ہمیشہ مئی میں ہی آتا ہے۔ یہ مہینہ یوم پاکستان سے سوا ماہ اور یوم آزادی سے اڑھائی ماہ کی مسافت پر واقع ہے۔ یہ مہینہ عجیب و غریب واقعات و سانحات، معجزات و کرامات، جشنیات و تہنیات اور واہیات و شطحیات کے امتزاجات کا حامل ہے۔ اس کا آغاز یوم مزدوراں سے ہوتا ہے جس کی برکات سے صرف سرکاری ملازمین مستفید ہوتے ہیں۔
اسی ماہ خمار گندم کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ اس سال ماہ مقدسہ کی چار تاریخ کو وہ سعید گھڑی آئی کہ ہم عازم سفر قمر ہوئے۔ گویا پہلی بار اس چاند پر اترا جائے گا جس کو دیکھنے دکھانے پہ جھگڑے ہوا کرتے ہیں اور اسے دور سے دیکھنے کے لیے کروڑوں ڈالر اٹھ جاتے ہیں۔ سیاسی ناراضگان اس کامیابی کو چین سے ملی بھیک سمجھتے ہیں۔ گویا مانگے ہوئے سورج سے اجالا کرنے سے بہتر تھا کہ چاند پر وہاڑی کی بنی ہوئی چاند گاڑی پر جایا جاتا۔
پانچ مئی کا دن، تحفظ ناموس خواجہ سرا، کا تاریخ ساز دن ہے۔ اس روز خواجہ سراؤں نے بڑے بڑے قائدین اور ان کے جتھوں کو پیغام دیا کہ جذبات اگر صادق ہوں تو کوئی طاقت مقابل نہیں آ سکتی۔ انھوں نے اپنی قوت بازو، قوت ارادی سے اپنے گروہ کو تھانہ کھاریاں شریف سے چھڑوایا۔ کھسروں اور قانون کے رکھوالوں کے مابین پو لیس مقابلے میں فریقین نے اپنی پیشہ ورانہ مہارتوں کا خوب مظاہرہ کیا۔ اس سے قبل خواجہ سراؤں نے رات کی تاریکی میں نیلام ہوتیں عصمتوں کا تحفظ یقینی بناتے ہوئے مفت خور وں کو، Absolutely Not کہہ کر تاریخ رقم کردی۔ اس قدر دلیری سے تھانے کو یرغمال بناتے ہوئے ثابت کر دیا کہ،
اسیں موت کولوں وی نہیں ڈردے اسیں موت دے کھوہ وچ کم کر دے۔
اس سے قبل بہاولنگر میں وردیوں کے تصادم میں پہلی بار پولیس بغیر کچھ لیے دوستی کا ہاتھ بڑھا چکی تھی یوں دو بھائیوں کی لڑائی کے بعد تیسرے بھائی کا کردار بھی تاریخ مئی کا حصہ بن گیا۔ مئی کے مقدس مہینے کی اصل شان، نو مئی، کا یوم الحرب ہے۔ مئی المبارک کا پہلا عشرہ اس حوالے سے تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں بہت سی کرامات بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ملت اسلامیہ کا عظیم سپوت جو دشمنوں کی گولی کا شکار ہو کر چھ ماہ سے ایک دھج سے وہیل چیئر پر محو انقلاب تھا، اچانک غیبی امداد سے اٹھ کھڑا ہوا اور اپنے پاؤں پر چل کر زنداں کو گیا۔ اس روز پورے دیس نے انقلاب کی خاطر کمر کسی۔ کہیں تخت گرانے کی مشق ہوئی تو کہیں تاج اچھالنے کا جہاد ہوا۔ کفر کی علامات اور مجسموں کو تاراج کیا گیا۔ ظالم سماج اور آمروں کے گھروں اور دفاتر سے قوم کی لوٹی ہوئی دولت کو نئے سرے سے لوٹ کر انقلاب کی راہ ہموار کردی گئی۔ کچھ کے لیے یہ دن جنگ آزادی اور کچھ کے لیے غدر ٹھہرا جبکہ قوم کی خاطر ساڑھ ستی کا شکار ہو کر صرف یوم الحزن ثابت ہوا۔ مگر تا حشر اس دن کی یاد باقی رہے گی۔ مئی 2013 کے انتخابات کسے یاد نہیں، جن کی بنیاد پر پاکستان میں دھرنا کلچر کا آغاز ہوا اور گھٹن کی ماری قوم کو سستی تفریح ہاتھ آئی۔
اسی طرح 12 مئی کا سانحہ کراچی بھی اسی تاریخ مئی کا حصہ ہے۔ البتہ 28 مئی کا یوم تکبیر کبھی پوری قوم کے لیے باعث افتخار تھا مگر سیاسی قائدین کی نرگسیت نے گھر گھر فساد برپا کر کے قومی تاریخ ہی متنازع کردی۔ دیگر معاملات کی طرح مئی المبارک کے سعید یا نحس ہونے کی بابت قوم کبھی ایک پیج پر تھی، نہ ہے اور نہ ہوگی۔ ماہ مئی میں ہونے والی تمام مہمات پر ہر گروہ کا اپنا اپنا سچ اور اپنا پنا جھوٹ ہے۔ مذہب ہو، سیاست ہو یا معاشرت ہو ہم ایک قوم ہونے کی تہمت سے یکسر مبرا ہیں۔
اگر مذہبی مشاہیر کو شان مئی بلند کرنے کا ٹاسک مل جائے تو ماضی کی طرح مئی کی تابناک تاریخ رقم کر ڈالیں۔ ہو سکتا ہے لکھا جائے کہ شیطان نے آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے ایبسولوٹلی ناٹ مئی کے مہینے میں ہی کہا تھا۔ یا پھر طوفان نوح مئی کے دوسرے عشرے میں آیا۔ ہو سکتا ہے نئی تحقیق میں حضرت یوسف کی قید مئی میں ثابت کرلی جائے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ قابیل کے ہاتھوں ہابیل کا قتل مئی کے آخری عشرے میں نکل آئے۔ یا پھر مئی کے پہلے جمعہ کو صور پھونکنے کی پیش گوئی گھڑ لی جائے۔ پھر تو ماہ مئی کا اپنے فضائل و برکات کے لحاظ سے سب مہینوں کا سردار ہونا لازم ٹھہر جائے گا۔ یہی نہیں بلکہ سال کے دیگر مہینوں کے لیے دعوت سروش ہوگی۔

