شمالی افغانستان میں بارشوں، تباہ کن سیلابی ریلوں سے کم سے کم 150 ہلاکتیں، ہزاروں بے گھر
اس سیلاب میں سینکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین ہیں جبکہ درجنوں افراد لاپتہ ہیں اور تقریباً دو ہزار مکانات تباہ ہو چکے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک کے مطابق اب سیلاب کے بغلان صوبے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 300 سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ایک ہزار سے زیادہ گھر تباہ ہو چکے ہیں۔
طالبان حکام کے مطابق شمالی افغانستان میں سیلاب کے نتیجے میں 100 سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔ صوبہ بغلان کے پانچ اضلاع میں شدید بارشوں کے بعد درجنوں افراد لاپتہ ہیں۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ جمعہ کی رات اس سارے علاقے میں مزید طوفان کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔
سوشل میڈیا پر آنے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کئی دیہاتوں کے گھروں میں پانی کے ریلے بہنے لگے جس سے تباہی ہوئی ہے۔
افغانستان گذشتہ چند ہفتوں کے دوران غیرمعمولی طور پر شدید بارشوں کی زد میں رہا ہے۔ اپریل کے وسط سے سیلاب میں متعدد افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
افغانستان کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان عبدالمتین قانی نے بی بی سی کو بتایا کہ کم از کم 131 افراد بغلان صوبے اور 20 تخار میں ہلاک ہوئے ہیں۔
مرنے والوں میں سے اکثر کا تعلق بغلان کے بورکا ضلع سے تھا جہاں 200 سے زیادہ لوگ اپنے گھروں میں پھنسے ہوئے تھے۔
اس سے قبل عبدالمتین قانی نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا تھا کہ کابل کے شمال میں واقع بغلان میں امدادی سرگرمیوں کے لیے ہیلی کاپٹرز بھیجے گئے تھے، لیکن نائٹ ویژن لائٹس کی کمی کی وجہ سے ’آپریشن کامیاب نہ ہو سکے۔‘
- افغانستان میں زلزلے سے ہزاروں ہلاکتیں: ’پہلے ہی جھٹکے میں تمام گھر منہدم ہو گئے‘
- افغانستان میں زلزلے سے تباہی: ’کچھ لوگوں نے زخمی اور مردہ خواتین کو چھونے سے انکار کیا‘
- غربت کے شکار افغانستان میں طالبان ’دنیا میں بہترین کارکردگی دکھانے والی کرنسی افغانی‘ کو کیسے کنٹرول کرتے ہیں؟
مقامی اہلکار ہدایت اللہ ہمدرد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ فوج سمیت امدادی اہلکاروں نے ’کیچڑ اور ملبے کے نیچے کسی بھی ممکنہ متاثرین کی تلاش کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ کچھ خاندانوں کو خیمے، کمبل اور کھانا فراہم کیا گیا جو اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں۔
کابل کو شمالی افغانستان سے ملانے والی مرکزی سڑک بند ہے۔ سیلاب سے تقریباً دو ہزار گھروں، تین مساجد اور چار سکولوں کو بھی نقصان پہنچا۔
سیلابی صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب بارش اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ عام نکاسی آب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نسبتاً خشک سردیوں نے مٹی کے لیے بارش کو جذب کرنا مشکل بنا دیا ہے۔ افغانستان میں ہر سال طوفانی بارشوں اور سیلاب سے لوگ ہلاک ہوتے ہیں، جہاں دیہی علاقوں میں مکانات درست طریقے سے تعمیر نہیں کیے ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق افغانستان موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے دنیا کے سب سے زیادہ خطرے والے ممالک میں شامل ہے۔
بہت سے عوامل سیلاب کی وجہ بنتے ہیں مگر موسمیاتی تبدیلی سے بہت زیادہ بارشوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
صنعتی دور شروع ہونے کے بعد سے دنیا پہلے ہی تقریباً 1.1 سینٹی گریڈ تک گرم ہو چکی ہے اور جب تک دنیا بھر کی حکومتیں کاربن کے اخراج میں قابل ذکر کمی نہیں کرتیں درجہ حرارت بڑھتا رہے گا۔
- افغانستان میں بھوک کا شکار بچے: ’طالبان نے کہا انھیں زہر دے دو لیکن کمانے کے لیے گھر سے باہر مت نکلنا‘
- نیلوفر ایوبی: ’والد نے قینچی سے میرے بال کاٹے اور والدہ سے کہا آج سے اسے لڑکے کی طرح کپڑے پہناؤ‘
- افغانستان میں زلزلے سے تباہی: ’کچھ لوگوں نے زخمی اور مردہ خواتین کو چھونے سے انکار کیا‘
- افغانستان میں زلزلے سے ہزاروں ہلاکتیں: ’پہلے ہی جھٹکے میں تمام گھر منہدم ہو گئے‘

