معافی مانگنا اتنا مشکل کیوں ہے؟


پاک فوج کے ترجمان کی طرف سے سانحہ 9 مئی میں ملوث سیاسی جماعت سے معافی کے مطالبے کے بعد ملک میں یہ مباحث سننے میں آرہے ہیں کہ درحقیقت معافی کسے مانگنی چاہیے۔ ملک کے سیاسی لیڈروں کے رویوں سے تو یہی لگتا ہے کہ ملک کے عوام کو ہاتھ جوڑ کر تمام عناصر سے درخواست کرنا پڑے گی کہ ان کے حال پر رحم کیا جائے تاکہ اس ملک کو آگے بڑھنے کا موقع فراہم ہو۔

اس سے قطع نظر کہ آئی ایس پی آر کی طرف سے کیا جانے والا مطالبہ درست تھا یا نہیں لیکن یہ بات تو پورے یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ گزشتہ سال 9 مئی کو رونما ہونے والے واقعات پر ملک کے ہر شخص کو اظہار ندامت و پریشانی ہونا چاہیے۔ کون سی قوم ہوگی جو خود اپنا ہی وجود کاٹ پھینکنے پر آمادہ ہو جائے۔ یہ ایک سیاسی مظاہرہ نہیں تھا بلکہ بلوائیوں کے گروہوں نے عسکری تنصیبات اور شہدا کی یادگاروں پر دھاوا بولا تھا اور ریاست کی رٹ کو نشانہ بنایا تھا۔ اس سانحہ کو صرف فوج کا مسئلہ قرار دے کر آگے بڑھنا ممکن نہیں ہے۔ اس لیے اس وقوعہ اور اس کے بعد سامنے آنے والے حالات کو وسیع تر تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

فوج کی پریشانی یہ ہے کہ اس روز سیاسی کارکنوں کو فوج سے لڑانے کی منظم کوشش کی گئی تھی۔ ان واقعات سے فوج کے اندر بعض حلقوں کے رویہ سے فوجی ڈسپلن کی خلاف ورزی ملاحظہ کی گئی جو کسی بھی عسکری ادارے کے لیے اہم چیلنج ہے۔ یہ مظاہرے ایک سیاسی لیڈر کی گرفتاری پر کیے گئے تھے، اسی لیے اسی پارٹی پر اس پرتشدد احتجاج کا الزام عائد ہو رہا ہے۔ فوجی ترجمان کے علاوہ حکومت کا بھی یہی موقف ہے کہ خاص طور سے عسکری اداروں کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی تحریک انصاف کی قیادت کی طرف سے تیار ہوئی تھی۔ وسیع تر قومی مفاد کا تقاضا تو یہی تھا کہ اس تنازعہ کو طول دینے کی بجائے ہر گروہ اپنی اپنی جگہ پر غلطیوں کا ادراک کرتا تاکہ آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کیا جاسکتا۔

بدقسمتی سے یہ صورت حال دیکھنے میں نہیں آئی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی 9 مئی کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف نہ تو الزامات مرتب کیے جا سکے، نہ ہی اکثر ملزموں کے خلاف چالان عدالتوں میں پیش ہوئے اور نہ کسی کو اس روز ہونے والے غیر قانونی حرکتوں کی وجہ سے سزا دی جا سکی ہے۔ گویا ملک کا عدالتی و قانونی نظام اس معاملہ میں ملوث عناصر سے مناسب طریقے سے عہدہ برا ہونے میں کامیاب نہیں ہوا۔ اس حد تک فوج کے ترجمان کا شکوہ درست ہے کہ ملک کا نظام انصاف ان ملزموں کو سزائیں نہیں دے سکا جنہوں نے اس روز فوج کو نشانہ بنانے اور اس کی صفوں میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی تھی۔ اٹارنی جنرل نے گزشتہ دنوں سپریم کورٹ کی ہدایت پر ایسے بیس افراد کی فہرست ضرور پیش کی ہے جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان پر فوجی عدالتوں میں مقدمے چلائے گئے تھے لیکن یہ لوگ نادانستگی میں اس جرم میں ملوث ہوئے تھے، اس لیے آرمی چیف نے انہیں معافی دے دی ہے۔

اس ایک وضاحت سے قطع نظر ابھی تک کوئی ایسی تفصیلات موجود نہیں ہیں کہ سانحہ 9 مئی میں کتنے لوگوں کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے ہیں اور ان میں سے کتنے لوگ پولیس یا فوج کی حراست میں ہیں۔ آرمی چیف نو مئی کے دن ایک تقریر میں واشگاف الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ اس روز ہنگاموں اور غیر قانونی کارروائی کرنے والوں کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ ملک کا نظام قانون ان لوگوں کے خلاف مروجہ طریقہ کے مطابق کارروائی کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ ایک سو کے لگ بھگ افراد کے خلاف مقدمات فوجی عدالتوں میں زیر غور ہیں۔ یہ معاملہ ابھی تک سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور ایک سال گزرنے کے باوجود یہی طے نہیں ہوسکا کہ کیا کسی شہری کے خلاف کوئی فوجی عدالت کارروائی کر سکتی ہے۔ پانچ رکنی بنچ ایسے کسی اقدام کو غیر آئینی قرار دے کر سانحہ 9 مئی میں ملوث لوگوں کے خلاف فوجداری عدالتوں میں کارروائی کرنے کا حکم دے چکا ہے البتہ اس فیصلہ کے خلاف نظر ثانی کی متعدد اپیلوں پر ابھی تک فیصلہ نہیں ہوسکا۔ اس کی ذمہ داری اگر سپریم کورٹ کی سست روی پر عائد ہوگی تو حکومت اور دیگر فریقین بھی اس معاملہ میں مستعد نہیں ہیں۔

یہ بھی طے نہیں ہے کہ صرف ایک سو کے لگ بھگ افراد کے خلاف ہی فوجی عدالتوں میں کیوں مقدمے چلائے جا رہے ہیں۔ اگر اس سانحہ میں ملوث باقی سینکڑوں یا ہزاروں لوگوں کو انسداد دہشتگردی یا فوجداری عدالتوں سے ’انصاف‘ مل سکتا ہے تو ان لوگوں کو جرم کی کس شدت کی وجہ سے فوج کے حوالے کیا گیا ہے۔ کسی جرم کا دفاع تو نہیں جا سکتا لیکن اگر کوئی حکومت کسی جرم کا نام لے کر ملک کے شہریوں کے خلاف بلا تخصیص کارروائی کرے گی اور اس بارے میں رازداری سے کام لیا جائے گا تو شبہات پیدا ہونا فطری ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے متعدد لوگوں کو 9 مئی کے واقعات میں ملوث ہونے پر گرفتار کیا گیا لیکن اس الزام میں عدالت سے ضمانت ملنے پر کسی نہ کسی دوسرے الزام میں انہیں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ اس معاملہ میں ملک کا نظام قانون نہ تو فعال ہے اور نہ ہی منصفانہ طریقے سے کام کر رہا ہے۔ اس کی ذمہ داری متعلقہ حکومتوں کو قبول کرنا پڑے گی۔

البتہ اس جرم کو مسترد کرنے یا اسے سیاسی رنگ دینے کا طرز عمل بھی قبول نہیں کیا جاسکتا۔ بدقسمتی سے تحریک انصاف نے یہی سیاسی غلطی کی ہے جس کی وجہ سے اس حوالے سے وہ تضادات کا شکار رہی ہے۔ پارٹی اس روز رونما ہونے والے واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتی ہے اور یہ کہتی ہے کہ درحقیقت پارٹی کو اس میں پھنسایا گیا ہے۔ ’فالس فلیگ آپریشن‘ کا الزام لگانے کا مقصد درحقیقت یہی ہے کہ جو عناصر تحریک انصاف کو سانحہ 9 مئی کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں، انہوں نے خود ہی تحریک انصاف کو پھنسانے اور کمزور کرنے کے لیے یہ ’ڈرامہ‘ رچایا تھا۔ یہ موقف غیر ذمہ دارانہ ہے۔ تحریک انصاف اس بارے میں کوئی شواہد پیش نہیں کر سکی۔ وہ اس معاملہ کو سیاسی رنگ دے کر کسی طرح اس بوجھ سے نجات حاصل کرنا چاہتی ہے۔ تاہم فوج کی ناراضی اور سخت موقف کی وجہ سے اس کے لیے مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔ 7 مئی کو میجر جنرل احمد شریف کی پریس کانفرنس درحقیقت فوج کی اسی مایوسی کا اظہار تھی کہ ایک طرف عدالتوں سے اس روز عسکری تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کو سزائیں نہیں ہو رہیں تو دوسری طرف اسے سیاسی رنگ دے کر فوج کو مزید بدنام کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ تحریک انصاف کے لیڈروں کے بیانات اور سوشل میڈیا مہم جوئی سے اس بارے میں کافی شواہد جمع کیے جا سکتے ہیں۔

7مئی کی پریس کانفرنس اور پھر 9 مئی کو آرمی چیف کی تقریر میں گو کہ سخت موقف اختیار کیا گیا تھا لیکن ان دونوں مواقع پر فوج نے ملک کے عدالتی نظام سے انصاف مانگا ہے اور سیاسی انتشار کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ الفاظ کے چناؤ پر ضرور انگلی اٹھائی جا سکتی ہے لیکن اس پیغام کو سمجھنے میں غلطی کا کوئی جواز نہیں ہونا چاہیے۔ فوج کے یہ دونوں موقف درست ہیں کیوں کہ ملک میں ہر طبقہ کی طرف سے فوج کو سیاسی اسٹیک ہولڈر مانا جاتا ہے۔ سیاسی معاملات یا کسی سیاسی پارٹی کے بارے فوج کے موقف پر ضرور اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن گزشتہ سال 9 مئی کے واقعات پر انصاف طلب کرنے کا مطالبہ جائز اور درست ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ شہباز شریف کی حکومت بھی تحریک انصاف کی طرح سانحہ 9 مئی کو سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے۔ ورنہ وزیر اعظم کو پر جوش بیان جاری کرنے کی بجائے اس روز سرزد ہونے والے جرائم پر فوری سزائیں دلوانے کا وعدہ کرنا چاہیے تھا اور اپنے ہی اعلان کے مطابق ان تمام بے قصوروں کو رہا کرنا چاہیے جنہیں عدالتوں سے ضمانت کے باوجود مختلف طریقوں سے قید رکھا جا رہا ہے۔

سانحہ 9 مئی کو سیاسی رنگ دینے کا الزام صرف تحریک انصاف پر ہی عائد نہیں ہوتا، اسی لیے یہ معاملہ گنجلک اور پریشانی کا سبب بنا ہے اور شاید اسی لیے جب فوج کے ترجمان نے معافی مانگ کر آگے بڑھنے کی بات کی تو اس پر شدید رد عمل دیکھنے میں آیا۔ اس وقت تحریک انصاف چونکہ معتوب اور نشانے پر ہے، اس لیے حکومت کو بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سانحہ نو مئی میں ملوث لوگوں کے حوالے سے تمام معلومات عام کرنی چاہئیں۔ جن کے خلاف شواہد موجود نہیں ہیں، انہیں رہا کیا جائے اور اس حوالے سے گرفتار لوگوں اور ان کے خلاف ثبوتوں کی تفصیلات عام کی جائیں۔ جب کسی جرم میں ملوث افراد کو سزائیں مل جائیں گی تو کسی بھی پارٹی یا فرد کے لیے اس کی ذمہ داری سے فرار حاصل کرنا مشکل ہو گا۔

فوج کی طرف سے سانحہ 9 مئی پر معافی مانگنے کے مشورہ کو بھی وسیع تر تناظر میں دیکھنا چاہیے اور اسے انا کا مسئلہ بنانے کی بجائے سیاسی امکانات پیدا کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ یہ دلیل بھی سننے میں آئی ہے کہ فوج پہلے اپنے ’جرائم‘ کی معافی مانگے، پھر تحریک انصاف بھی معافی مانگ لے گی۔ یہ دلیل واقعاتی حقیقت کی بجائے سیاسی حجت کی حیثیت رکھتی ہے جبکہ نو مئی کے واقعات ایک ایسی حقیقت ہیں جس سے انکار ہی درحقیقت تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ کا سبب بنا ہے۔ غلطی پر معافی مانگنا کبھی بھی مشکل نہیں ہونا چاہیے لیکن اگر کسی غلطی کو سیاسی ہتھکنڈا بنانے کا عزم کیا جائے گا تو معافی مانگنے اور معاف کرنے کا راستہ کٹھن ہو جائے گا۔ اس وقت اہل پاکستان اسی صورت حال کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ اس تنازعہ سے پیدا ہونے والی بے چینی ملکی معیشت کی بحالی اور سیاسی استحکام کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے۔

فوج سمیت تمام عناصر اور اداروں کو دوسروں پر انگشت نمائی کی بجائے اپنی اپنی غلطی کا احساس کرنا چاہیے۔ خواہ کسی سے معافی نہ مانگی جائے لیکن خود کو اپنے ضمیر کی عدالت میں پیش کرنے کا اہتمام ضرور کیا جائے۔ یہی رویہ ملک کو موجودہ مشکل سے نکالنے کا راستہ ہموار کرے گا۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali