فلسطین : کیا ہرزل کی شکاری پارٹی شروع ہے؟


غزہ میں خون ریزی جاری ہے. ہسپتالوں کے قریب اجتماعی قبریں دریافت ہو رہی ہیں. ایک اطلاع کے مطابق دو ہسپتالوں میں دو ایسی اجتماعی قبروں سے 392 لاشیں دریافت ہوئی ہیں. ان میں بچوں عورتوں اور معمر افراد کی لاشیں بھی شامل ہیں. مرنے والے کتنے بے بس تھے اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ کچھ لاشیں ایسی حالت میں دریافت ہوئی ہیں کہ ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے. بعض لاشوں کے متعلق یہ شبہ ہے کہ ان کے مریضوں کے مرنے کا انتظار بھی نہیں کیا گیا. ابھی یہ بیچارے سانس لے رہے تھے کہ انہیں دفن کر دیا گیا. بغیر تحقیق کے کسی کو بھی مجرم نہیں قرار دینا چاہیے. اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے امور کے انچارج نے ان قبروں کے بارے میں تحقیقات کا مطالبہ کر دیا کہ کیا اس بربریت کے پیچھے اسرائیلی فوجیوں کا ہاتھ تھا کہ نہیں?

انٹرنیشنل کریمنل کورٹ نے اس پر تحقیقات شروع کیں. اس مرحلہ پر اگر یہ مطالبہ کیا جاتا کہ یہ تحقیقات شفاف اور منصفانہ ہونی چاہئیں تو یہ ایک مختلف بات ہوتی لیکن ابھی یہ معاملہ شروع ہی ہوا تھا کہ بارہ امریکی سینیٹروں نے انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے پراسیکیوٹر کو ایک خط لکھا. ایسے خطوں کے مندرجات اور مقاصد جو بھی ہوں لیکن ان میں کچھ سفارتی آداب کو ملحوظ نظر رکھا جاتا ہے اور مطالبات کو سلیقے سے اور کچھ آداب میں ملفوف کر کے پیش کیا جاتا ہے. لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ان امریکی سینیٹروں کی بنیادی تعلیم اس سطح تک نہیں پہنچی تھی کہ انہیں اس طریقہ کار کا کچھ علم ہوتا ہے.

کم از کم صاف گوئی کی داد دینی چاہیے کیونکہ اس خط کا لب و لہجہ کچھ ایسا ہے جیسا کہ پرانے زمانے میں متعلق العنان بادشاہوں کے شاہی فرمانوں کا ہوتا تھا. یعنی کچھ ایسا کہ مابدولت یہ حکم صادر فرماتے ہیں وغیرہ وغیرہ. اگر حکم پر عمل کرلو تو ہو سکتا تھا کہ ظل سبحانی منہ موتیوں سے بھر دیں ورنہ دیوار میں زندہ چننے کا امکان تو موجود ہے. اس خط کا آخری پیراگراف ملاحظہ فرمائیں. سینیٹر صاحبان تحریر فرماتے ہیں :

Target Israel and we will target you. If you move forward with the measures indicated in the report we will move to end all American support for the ICC, sanction your employees and associates, and bar you and your families from the United States. You have been warned.

ترجمہ : تم اسرائیل کو نشانہ بناؤں. ہم تمہیں نشانہ بنائیں گے. اس رپورٹ میں جن اقدامات کی نشاندہی کی گئی ہے اگر تم نے ان پر کارروائی کی تو ہم انٹرنیشنل کریمینل کورٹ کی تمام مدد بند کر دیں گے. تمہارے ملازمین اور رفقائے کار پر پابندیاں لگا دیں گے اور تمہارے اور تمہارے خاندان کے امریکہ داخل ہونے پر پابندی لگا دیں گے. ہم نے تمہیں خبردار کر دیا ہے.

یہ عبارت پڑھ کر میرا خیال تھا کہ نیچے کسی فرعون کے دستخط ہوں گے لیکن جب پڑھا تو فرعون کی بجائے بارہ امریکی سینیٹروں کے دستخط تھے. یہ الفاظ کسی گلی کے بدمعاش کے نہیں جو کہ سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہا ہو. دنیا کی سب بڑی طاقت کے سینیٹر ایک بین الاقوامی عدالت کو مخاطب ہیں. اگر امریکہ میں کسی معمولی جج کو بھی کو ہم جیسا کالا ایسا خط لکھے تو اس کا کیا نتیجہ ہو گا?

ملاحظہ فرمائیں کہ ایک بین الاقوامی عدالت میں ایک معاملہ زیر غور ہے اور امریکی سینٹ کے کن ٹٹے اسی انداز میں دھمکیاں دے کر کام نکالنا چاہ رہے ہیں جس طرح کچھ شہروں میں بد معاش دکانداروں سے بھتہ وصول کرتے ہیں. اس ماحول میں دلائل کا کیا کام? سچائی کس کھاتے میں? غریب مقتولین کی خاموش بے بس فریاد کون سنے? مظلوم کس دیوار گریہ سے سر ٹکرائے? 35000 فلسطینی اس بربریت کا شکار ہوئے. شارلی ایبڈو کے گستاخانہ خاکوں کے قضیہ میں جو اموات ہوئیں, اس پر پورے مغرب نے زمین آسمان ایک کر دیا کہ ہم تنگ نظری کے نام یہ بربریت برداشت نہیں کر سکتے. اور آج یہ حال کہ اگر ان کے اپنے ممالک میں بھی طلباء احتجاج کریں تو لاٹھی چارج اور گرفتاریوں پر اتر آتے ہیں.

ایسا ہونا ہی تھا. شروع سے ارادہ یہی تھا. اس تاریخی عمل کو سمجھنے کے لئے ہم آج سے ڈیڑھ سو سال قبل کے دور میں جا کر جائزہ لیتے ہیں. اس وقت تو فلسطین میں یہودیوں کی معمولی تعداد تھی. یہ علاقہ ابھی سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا. 1896 میں یہودی راہنما تھیوڈر ہرزل صاحب نے ایک کتاب دی جیوئش سٹیٹ لکھی (یہ صاحب بعد میں صیہونی تحریک کے بانی کے طور پر سامنے آئے.) اور اس کتاب میں یورپ میں یہود پر ہونے والے مظالم کا ذکر کرنے کے بعد ایک علیحدہ یہودی ریاست کا نظریہ پیش کیا گیا. دو ممالک میں یہ ریاست بنانے پر غور کیا جا رہا تھا. ایک تو فلسطین اور دوسرا ارجنٹائن. ارجنٹائن میں نقص یہ تھا کہ وہاں پر ابھی سے یہودیوں کی آباد کاری کی مخالفت شروع ہو چکی تھی کیونکہ وہاں یورپی نسل کے لوگ آباد تھے. اور فلسطین میں خوبی یہ تھی کہ وہاں بیچارے عرب آباد تھے اور کسی نے ان کی آہ وبکا نہیں سننی تھی. فلسطین میں یہ آباد کاری کن اصولوں پر ہونی تھی? اس کا جواب تلاش کرنے کے لئے ہرزل کے اصل الفاظ درج کیے جاتے ہیں.

Immigration is consequently futile unless based on an assured supremacy. (The Jewish State by Theodor Herzl, published by New York Federation of American Zionist 1917, p 11 )

ترجمہ: ہمارا نقل مکانی کرنا اس وقت تک بے سود ہے جب تک بالا دستی کی یقین دہانی نہ ہو.

اب یہ سوال حل طلب رہ جاتا ہے کہ یہ بالادستی کیسے حاصل کی جائے گی کیونکہ فلسطین میں تو ایک پوری قوم آباد تھی. اس کا حل بھی اس کتاب میں تجویز کیا گیا تھا. اسی صفحہ پر ہرزل لکھتے ہیں :

Supposing, for example, we were obliged to clear a country of wild beasts, we should not set about the business in the fashion of Europeans of the fifth century. We should not take spear and lance and go out singly in pursuit of bears; we should organize a large and active hunting party, drive the animals together, and throw a melinite bomb into their midst.

ترجمہ : فرض کریں کہ اس بات کی ضرورت ہے کہ ایک ملک کو جنگلی درندوں سے صاف کیا جائے. ہم یہ کام پانچویں صدی کے یورپیوں کی طرح نہیں کریں گے کہ نیزے اور بھرچے لے کر ایک ایک ریچھ کا پیچھا کریں. ہمیں ایک بہت بڑی اور فعال شکاری پارٹی شروع کرنی چاہیے اور جانوروں کو ایک جگہ اکٹھا کریں اور ان کے درمیان ایک بم پھینک دیں.

اسی فارمولے کے تحت پہلے فلسطین میں بچے کھچے عربوں کو غزہ اور مغربی کنارے میں جمع ہونے پر مجبور کیا گیا اور اب ان کا قتل عام کیا جا رہا ہے. 1896 میں صیہونی تحریک کے بانی نے جس شکاری پارٹی کا نظریہ پیش کیا تھا. یہ پارٹی شروع ہو چکی ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments