سینیٹر طلحہ اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان ”دوریوں“ کی اندرونی کہانی


سینیٹر محمد طلحہ محمود سے ”قربت اور دوستی“ میں قدر مشترک ”اولڈ کوہسارین“ ہونا ہے میری مادر علمی گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج اصغر مال ہے اور میرا زمانہ طالبعلمی 1965 ء سے 1970 ء ہے ایوب خان کے خلاف تاریخی تحریک نے بھی اسی درسگاہ سے جنم لیا تھا مجھے اس تاریخ ساز دور میں گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کی سٹوڈنٹس یونین کا جنرل سیکریٹری تھا سینیٹر محمد طلحہ محمود کا دور ہمارے بعد شروع ہوا لیکن جب مجھے ان کے بارے میں علم ہوا کہ انہوں نے اسی مادر علمی کے فارغ التحصیل ہیں تو ہمارے درمیان تعلق دوستی میں تبدیل ہو گیا انہوں نے اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز جمعیت علما اسلام سے کیا ہمارے درمیان ملاقاتوں میں اضافہ کا باعث مولانا فضل الرحمنٰ کی قربت بھی ہے اکثر و بیشتر مولانا فضل الرحمن کے ہاں میرا آنا جانا تھا تو وہاں ان سے ملاقات ہوتی تھی میں نے سینٹر طلحہ محمود کو ایک دھیمے لہجے کا سیاست دان پایا جب کہ مولانا فضل الرحمن شعلہ بیان لیڈر ہیں جو ہر وقت تحریک چلانے اور ایجی ٹیشن کرنے کے لئے تیار نظر آتے ہیں ایسی جماعت میں دھیمے مزاج کے لیڈر کا گزارا کرنا مشکل ہوتا ہے لیکن سینیٹر محمد طلحہ محمود نے اس جماعت میں ربع صدی گزار دی اس کی ایک وجہ تو مولانا فضل الرحمن کی طلسماتی شخصیت تھی دوسرا سینیٹر محمد طلحہ محمود کی شخصیت کے اندر اخلاص ہے انہوں جس جماعت کو اپنے سیاسی کیریر کی بنایا بنایا اس کو جوانی دے دی موسم گرم سرد ہو جب کا دور ہو انہوں نے جمعیت علما اسلام سے باہر نہیں دیکھا انہوں نے ہمیشہ پارٹی پالیسی کو پیش نظر رکھ کر سیاست کی یہی وجہ ہے سینیٹر محمد طلحہ محمود کے بارے میں اکثر لوگ کہا کرتے تھے کہ وہ جمعیت علما اسلام کا قیمتی سرمایہ ہیں وہ ایک سرمایہ دار ضرور ہیں لیکن انہوں نے اپنے تمام وسائل جمعیت علما اسلام کے لئے وقف کر رکھے تھے لانگ مارچ ہو یا ملین مارچ ہر جگہ سینیٹر محمد طلحہ محمود ہی ان کی کامیابی کے پیچھے نظر آتے تھے.

سینیٹر طلحہ محمود نے جمعیت علما اسلام کے ٹکٹ پر چترال سے انتخاب لڑا لیکن بوجوہ کامیابی حاصل نہ کر سکے اب وہ چوتھی بار سینیٹ کا انتخاب لڑ رہے ہیں ان کی کامیابی کے امکانات ہے سینیٹر محمد طلحہ محمود ایوان بالا میں جے یو آئی کے پارلیمانی لیڈ رہے، وہ 16 ماہ کی شہباز شریف کی حکومت میں وفاقی وزیر سیفران تھے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور مفتی عبدالشکور کی حادثاتی وفات کے بعد انہیں وفاقی وزارت مذہبی امور کا قلمدان بھی دے دیا گیا ان کی وزارت کے دوران حج کے مثالی انتظامات کیے گئے ان کا شمار ملک کے متمول سیاست دانوں میں ہوتا ہے لیکن ان کے دروازے ہر وقت غریب، مستحق اور ضرورت مند لوگوں کے لئے کھلے رہتے ہیں سینیٹر طلحہ محمود کی پیپلز پارٹی میں شمولیت کا سیاسی حلقوں نے خیر مقدم کیا گیا ہے سینیٹر محمد طلحہ محمود مسلسل تین بار سینیٹر منتخب ہوئے ہیں ممکن ہے جب پہلی بار سینیٹر منتخب ہوئے اس وقت ان کا کسی حد تک انحصار جمعیت علما اسلام کے ووٹ بینک پر ہو البتہ بعد میں سینیٹ کے دونوں انتخابات انہیں اپنے زور بازو پر ہی لڑنے پڑے ”سیاسی حکمت عملی“ کے نتیجے میں انہیں انتخابی معرکے سر کرنا پڑے سینیٹر محمد طلحہ محمود اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان گاڑھی چھنتی تھی لیکن ان کے اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان کچھ ایسے لوگ آ گئے جنہوں نے دنوں کو ایک دوسرے سے دور کر دیا سینیٹر محمد طلحہ محمود کی پیپلز پارٹی میں شمولیت سیاسی لحاظ سے دھماکہ سے کم نہیں ممکن ہے سینیٹر محمد طلحہ محمود کی پیپلز پارٹی میں شمولیت کے فیصلے سے قبل مولانا فضل الرحمن انہیں ذاتی طور روک لیتے تو شاید وہ جمعیت سے علیحدٰگی کا فیصلہ موخر کر دیتے لیکن جب انہوں نے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کے بعد پیپلز پارٹی جائن کرنے کا فیصلہ کر لیا تو پھر انہوں نے پیچھے مڑ کر دیکھنا گوارا نہیں کیا اس لحاظ سے ان کی علیحدہ گی جمعیت علما اسلام کو بڑا دھچکا ہے سینیٹر محمد طلحہ محمود کی پارلیمانی زندگی صاف ستھری ہے انہوں نے سینیٹ کی حیثیت سے کبھی تنخواہ لی اور نہ کوئی مراعات۔

 

مختلف کمیٹیوں کے چیئرمین کی حیثیت سے بڑے اہم اقدامات اٹھائے سب سے بڑا بے نامی کی سموں کا تھا موبائل کمپنیاں ان لوگوں کے نام بتانے کے لئے تیار نہ تھیں جن کو سمیں جاری ہوتی تھیں اس طرح جرائم پیشہ لوگوں کو گرفت میں لانے کے لئے خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا سینیٹر محمد طلحہ محمود کی کوششوں سے پہلی بار پاکستان سم جاری کرنے کا ریکارڈ تیار گیا ہے آج کسی شخص کو بائی میٹرکس کے بغیر سم جاری نہیں ہو سکتی سم کا ریکارڈ ہی جرائم پیشہ اور دہشت گردوں کو قانون کے شکنجے میں لانے کا بڑا ذریعہ ہے اس بات کا کریڈٹ سینیٹر محمد طلحہ محمود کو جاتا ہے جنہوں موبائل کمپنیوں کے دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے سموں کی رجسٹریشن کے قانون پر عمل درآمد کرایا 16 ماہ کی مخلوط حکومت میں قرعہ فال سینیٹر محمد طلحہ محمود کے نام نکلا انہیں وزارت سرحدی و ر ریاستی امور کا قلمدان سونپا گیا مولانا عبدالشکور کی حادثاتی وفات کے بعد سینیٹر محمد طلحہ محمود کو وفاقی وزارت مذہبی امور کا اضافی چارج دے دیا گیا اگرچہ ان کو مختصر مدت کے لئے چارج ملا لیکن انہوں نے ”کامیاب حج آپریشن“ مکمل کر کے حکومت اور اپنی نیک نامی میں اضافہ کیا پہلی بار ایک عوامی وزیر کی حیثیت سے حجاج کرام کے درمیان نہ صرف حج کا فریضہ ادا کیا بلکہ ان کے مسائل کے حل میں ذاتی دلچسپی لی عوامیت کا یہ عالم تھا منیٰ میں سعودی پولیس نے انہیں دھر لیا اور کئی گھنٹے تک اپنی تحویل میں رکھا جب سعودی پولیس کو معلوم ہوا کہ اس نے مختلف مکاتب میں پاکستانی حجاج کے کیمپوں کا معائنہ کرنے والی شخصیت پاکستان کے وزیر مذہبی امور ہیں تو اس کی دوڑیں لگ گئیں سعودی حکام نے سینیٹر محمد طلحہ محمود سے معافی مانگنا پڑی۔

انہوں نے اپنی جیب خاص سے بلا امتیاز تمام پاکستانی حجاج کو تحائف دیے وفاقی وزارت مذہبی امور نے حجاج کرام سے حج واجبات کی مد میں زائد رقم وصول کی تھی انہوں حج آپریشن ختم ہوتے ہی اربوں روپے حجاج کو واپس دلا دیے انہوں نے اپنے ذاتی خرج پر حج کیا اور نہ ہی سرکاری مراعات حاصل کر کے اچھی مثال قائم کی کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس کی وجہ سے وفاقی وزارت مذہبی امور کے بدعنوان افسروں کا عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا یہی وجہ ہے ہے راجہ محمد ظفر الحق کے دور وزارت کو حجاج یاد کرتے ہیں اب سینیٹر طلحہ محمود کا دور یاد کیا جاتا ہے سینیٹر محمد طلحہ محمود ایک وضعدار شخصیت کے مالک ہیں مہمان نوازی ان کا طرہ امتیاز ہے اپنے مہمانوں کو شہد کا تحفہ دینے کو ان کی روایت کا درجہ حاصل ہو گیا ہے سینیٹر طلحہ محمود ایک غریب پرور لیڈر کی حیثیت سے شہرت رکھتے ہیں ان کے تحت متعدد رفاہی ادارے چل رہے ہیں انہوں نے جمعیت علما اسلام کے زیر انتظام چلنے والی تحاریک میں اہم کر دار ادا کیا ہے حکومتی مناصب پر فائز رہنے کے دوران انہوں نے نیک شہرت کمائی ہے وہ صحافی دوست کے طور پر شہرت رکھتے ہیں ہر وقت مستحق صحافیوں کی مدد کے لئے تیار رہتے ہیں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور سینیٹر طلحہ محمود کے درمیان رابطے کا کر دار سابق سپیکر راجہ پرویز اشرف نے کیا بالآخر صوبے کی سیاسی صورت حال کو پیش نظر رکھ کر انہوں نے پیپلز پارٹی جوائن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

Facebook Comments HS