اپالو سے آئی کیوب۔ قمر تک

آسمان پر اجرام فلکیات میں چاند سے زیادہ شاید ہی کوئی ایسا موضوع ہو جس پر اہل زمین والوں نے اتنا لکھا ہو یا اتنی دلچسپی دکھائی ہو۔ سائنسدانوں سے سائنس کے طالب علموں تک، اہل دین سے اہل دنیا تک، شاعروں سے دانشوروں تک، ان پڑھوں سے مخالفین تک، غرض انسانی تاریخ اٹھا کے دیکھ لیں ہر طرف چاند کے ہی تذکرے ملیں گے۔ چاند چیز ہی ایسی ہے۔ بقول میر ؛
ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے
اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے
جب امریکی خلاباز نیل آرمسٹرانگ نے چاند پر پہلا قدم رکھا تو اس وقت بھی لوگوں کو یقین نہیں آیا تھا اور انہوں نے طرح طرح کی باتیں کیں۔
تاہم اب کہ عجب آ پڑی ہے۔ جب 3 مئی بروز جمعہ 2024 کو 2 بج کر 17 منٹ پر پاکستان نے چاند پر سیٹلائٹ مشن بنام ”آئی کیوب۔ قمر“ بھیجا تو لوگوں کو ایک دفعہ پھر اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا اور وہ طرح طرح کی باتیں کرنے لگے جیسا کہ یہ ایک جھوٹ کا پلندا ہو۔ کئی لوگوں نے کہا کہ یہ تو چین ساختہ سیٹلائٹ ہے۔ کئیوں نے اسے ناکام مشن قرار دے دیا۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔
ویسے بھی چاند کے بارے میں مغالطے شروع دن سے ہی رہے ہیں۔ کوئی اسے بڑھیا کی کٹیا اور چرخے سے تشبیہ دیتا ہے۔ کوئی اس سے بے جان اجرام فلکی کہتا ہے تو کوئی اسے فقط خوبصورتی سے تشبیہ کا ایک استعارہ سمجھتا ہے۔ اور تو اور وہ حضرات جو کچھ عرصہ پہلے ہمارے ہمسائے کے چندہ صاحب کی طرف بھیجے گئے چندریان مشن پر ہمیں طعنے دے رہے تھے وہ بھی شکوہ کناں ہیں کہ یہ کیوں ہوا ہے یا اس وقت کیوں ہوا ہے۔
کچھ کو تو اس سیٹلائٹ کے نام یعنی ”آئی کیوب۔ قمر“ سے ہی ناراض ہیں اور شدید اعتراض کر رہے ہیں۔
اب چاند کی بارے میں مزید کیا کہا جائے؟ ویسے بھی چاند پہ تھوکا منہ پہ آتا ہے۔ ہم بھی کوئی حکم صادر نہیں کر رہے۔ اردو کے چند مشہور اشعار پر ہی اکتفا کرتے ہیں باقی آپ فیصلہ خود کر لیں ؛
اس کے چہرے کی چمک کے سامنے سادہ لگا
آسماں پہ چاند پورا تھا مگر آدھا لگا
(افتخار نسیم)
کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا
کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرہ ترا
(ابن انشاء )
۔
عید کا چاند تم نے دیکھ لیا
چاند کی عید ہو گئی ہوگی
(ادریس آزاد)
ہر ایک رات کو مہتاب دیکھنے کے لیے
میں جاگتا ہوں ترا خواب دیکھنے کے لیے
(اظہر عنایتی)
۔
چاند سے تجھ کو جو دے نسبت سو بے انصاف ہے
چاند کے منہ پر ہیں چھائیں تیرا مکھڑا صاف ہے
(شیخ ظہور الدین حاتم)
۔
مجھ کو معلوم ہے محبوب پرستی کا عذاب
دیر سے چاند نکلنا بھی غلط لگتا ہے
(احمد کمال پروازی)
کئی چاند تھے سر آسماں کہ چمک چمک کے پلٹ گئے
نہ لہو مرے ہی جگر میں تھا نہ تمہاری زلف سیاہ تھی
(احمد مشتاق )
۔
رسوا کرے گی دیکھ کے دنیا مجھے قمرؔ
اس چاندنی میں ان کو بلانے کو جائے کون
(قمر جلالوی)

