جرمنی میں کتب جلانے کا دن۔ 10 مئی 1933
جرمن تاریخ میں ایک سیاہ دن کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس دن، جرمنی میں ”غیر جرمن روح کے خلاف“ نامی ایکشن کے تحت ہزاروں کتابیں سرعام جلائی گئی تھیں۔ نازی جماعت کے حامی طلباء کے ایماء پر، اس پلان کے تحت ہر چیز، ہر بات، ہر کام یا ہر نظریہ جو نازی نظریات سے مطابقت نہیں رکھتا، اسے صفحہ ہستی سے مٹانا مقصود تھا۔ برلن کے اوپرن پلاٹس کے پاس، ستر ہزار لوگوں کی موجودگی میں، نازی مخالف اور یہودی دانشوروں کی کتابوں کو جلایا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ایسے لگ رہا تھا جیسے آپ کسی چیز کو زندہ جلا رہے ہیں۔
کتب جلانے کے عمل سے پہلے، ہمبولٹ یونیورسٹی، جو فریڈرک ولہیلم یونیورسٹی کہلاتی تھی، میں ایک تقریب کا انعقاد ہوا جہاں فلاسفی اور سیاسی تدریس کے ایک، نئے پروفیسر نے ”غیر جرمن روح کے خلاف“ کے عنوان سے ایک مقالہ پڑا۔ اس پروفیسر کا یہ افتتاحی لیکچر تھا۔
یونیورسٹی کے لیکچر ہال میں ایس۔ اے وردیوں میں ملبوس طلباء کا وفد موجود تھا۔
ایس۔ اے ، نازی جماعت کا پیرا ملٹری ونگ تھا جو جماعت کے اراکین کی حفاظت پر مامور تھا اور دوسرا مشہور زمانہ ایس۔ ایس، جو نازی جماعت کی حفاظتی پولیس تھی۔
عینی شاہدین کے مطابق، بائیں ہاتھوں میں سوستک پرچم اٹھائے، یہ طلباء، لکچرار کی میز کے دائیں بائیں، بالکل سیدھے کھڑے تھے۔ پروفیسر نے اپنی تقریر کی شروعات میں اونچی آواز میں کہا کہ جرمنی اور جرمن روحانیت کے لئے نازی نظریات کی اہمیت کو ان الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے :
” تعلیم یافتہ افراد کو سپاہیوں میں بدلنا ہے اور ضمیر کی آزادی اور انفرادیت کا دور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوا چاہتا ہے“ ۔
کہا جاتا ہے کہ پروفیسر کے افتتاحی لیکچر کے بعد ، ایک مشعل بردار جلوس یونیورسٹی سے اورانین برگر سٹراسے / اسٹوڈنٹ ہوسٹل کی طرف نکل پڑتا ہے۔ تیز بارش ہو رہی تھی۔ ہوسٹل کے پاس پہلے ہی سے ایک ٹرک جس پر تقریباً پچیس ہزار کتابیں لوڈ تھیں اور جو اوپرن پلاٹس جانے کا منتظر تھا۔ ٹرک پر آویزاں بینر پر لکھا تھا کہ
”غیر جرمن روح کے خلاف طلباء کا جلوس“
اس جلوس میں پروفیسروں کی بڑی تعداد، اپنے روایتی گاؤنوں میں ملبوس، پیدل چل رہی تھی۔
جلوس کے راستوں پر کھڑے لوگوں کا جم غفیر، جلوس کے لئے نعرے لگا رہا تھا۔
جلوس کے اوپرن پلاٹس پہنچنے کے بعد سب لوگ قطار در قطار لکڑیوں کے ڈھیر کے پاس کھڑے ہو گئے۔ فائر بریگیڈ نے ان لکڑیوں پر پٹرول چھڑکا۔ جلوس والوں نے اپنی مشعلیں جلتی ہوئی لکڑیوں میں پھینکیں جس سے آگ کے شعلے مزید بھڑک اٹھے۔ وہاں پر بڑی روشنیوں کا انتظام کیا گیا تاکہ وہاں موجود فوٹوگرافرز کو تصاویر لینے میں آسانی ہو۔
کتابوں کو جلتی آگ میں پھینکنے سے پہلے، ایس اے اور ایس۔ ایس کے آرکسٹرا نے حب الوطنی کی دھنیں اور پریڈ کے گیت گائے۔ طلباء کے ایک لیڈر، نے اپنی تقریر میں کتب جلانے کے عمل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہر ”غیر جرمن“ چیز کو جلا دیا جائے گا۔
طلباء راہنما کی تقریر کے بعد ، طلباء نے کتابوں کو جلتی آگ میں پھینکنا شروع کیا۔ سب سے پہلے ان پندرہ مصنفین کی تخلیقات، جن سے نازی جماعت کے پیروکاروں کو سخت نفرت تھی، کو پھینکا گیا۔ کتب پھینکتے وقت، موجود لوگوں کی چیخ و پکار میں، خاص فقرے ادا کیے جا رہے تھے :
مثلاً ”میں فلاں مصنف کی تخلیقات آگ میں پھینک رہا ہوں“ یا سگمنڈ فرائڈ کی کتب آگ میں ڈالتے وقت ”میں فطری روحانیت کے خلاف زندگی گزارنے اور انسانی روح کی عظمت کے خلاف“ لکھی گئی کتابوں کو جلا رہا ہوں یا جنسی تعلقات کے ماہر میگنس ہرش فیلڈ کے کتب پر ”میں قوم کی اخلاقیات کو تباہ کرنے والی“ تخلیقات کو جلا رہا ہوں۔
جن پندرہ مصنفین کی کتابوں کو جلایا گیا تھا ان میں اکثریتی بائیں بازو کے مصنفین تھے۔ مثلاً کارل مارکس، کارل کاوٹسکی، ورنر ہیگیمن وغیرہ وغیرہ
فریڈرک ولہیلم فوسٹر نامی پیسیفسٹ، جو نازی جماعت اور اس کے نظریات کے کٹر دشمن تھے، اور جنہوں نے انیس سو بیس میں بعنوان ”میری عسکریت اور جرمن نیشنلزم کے خلاف جہدوجہد“ کتاب لکھی تھی جس میں نازی نظریات کے خلاف متنبہ کیا گیا تھا۔ فوسٹر کی کتب جلاتے وقت کہا جا رہا تھا کہ ”میں سیاسی بدمعاشی اور غداری کے خلاف“ ان کتب کو آگ میں ڈال رہا ہوں۔
جن مصنفین کی کتابیں برلن کے اوپرن پلاٹس پر جلائی گئی تھیں ان میں کم از کم چھ یہودی تھے۔
کتب جلانے کے عمل میں پیش پیش طلباء میں سے ایک ایسا راہنما بھی تھا جو، دوسری عالمی جنگ کے خاتمے پر، بعد میں دائیں بازو کی جماعتوں میں ایکٹو رہا اور جرمنی کے ایک بڑے شہر میں کتابوں کے بزنس سے منسلک رہا تھا۔


