سانحۂ 9 مئی اور عام معافی


9مئی 2024 ء کو فوجی تنصیبات پر حملہ ہوئے ایک سال ہو گیا ہے گزشتہ ایک سال کے دوران کچھ مقدمات کے فیصلے تو ہو گئے ہیں اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ان کو دی گئی سزائیں معاف کر دی ہیں تاہم کور کمانڈر ہاؤس لاہور، جی ایچ کیو اور شہداء کی یادگاروں پر حملہ کرنے والوں کے خلاف مقدمات زیر سماعت ہیں ان مقدمات میں ملوث مرکزی ملزمان کے بارے میں مقدمات چلائے جانے بارے شکوک شبہات کا اظہار کیا جا رہا تھا پی ٹی آئی کی دوسرے درجے کی قیادت کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا تھا بانی پی ٹی آئی اور کچھ دوسرے لیڈروں کو رواں ماہ رہا کر دیا جائے گا اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کے درمیان رابطوں کے نتیجے میں عمران خان کی رہائی کا قوی امکان ہے اگر مئی میں رہائی ممکن نہ ہوئی تو عمران خان اکتوبر تک اڈیالہ جیل سے باہر آ جائیں گے لیکن 9 مئی سے دو روز قبل فوج کے ترجمان میجر جنرل احمد شریف نے دھواں دھار پریس کانفرنس کر کے فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والے لیڈروں کے خلاف مقدمات کے مستقبل بارے میں کی جانے والی قیاس آرائیوں کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے ”9 مئی کے واقعہ میں ملوث اور منصوبہ سازوں کو قرار واقعی سزا نہ دی گئی تو ہمیں 9 مئی جیسے ایک اور سانحہ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اگر کوئی سیاسی سوچ، لیڈر یا ٹولہ اپنی ہی فوج پر حملہ آور ہو اور شہدا کی تضحیک کا مرتکب ہو تو اس سے کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی“ فوج کی جانب سے ان عناصر کو کھلم کھلا یہ پیغام ہے جو کسی ڈیل کے نتیجے میں ”اڈیالہ جیل کے مکین“ کی رہائی بارے میں افواہیں پھیلا رہے ہیں انہوں نے ایسے سیاسی انتشار پھیلانے والے ٹولے کو رہائی کا راستہ تجویز کیا ہے کہ ”یہ ٹولہ قوم کے کے سامنے صدق دل سے معافی مانگے اور وعدہ کرے کہ نفرت کی بجائے تعمیری سیاست لے گا“ فوجی ترجمان نے فوج سے سیاست دانوں کے مذاکرات کو بھی مسترد کر دیا ہے اور کہا کہ ”سیاسی جماعتوں کو آپس میں بات چیت زیب دیتی ہے“ فوج کے ترجمان کی پریس کانفرنس سے یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ ”فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے والوں کے لئے معافی کی کوئی گنجائش نہیں ایسے لوگوں کے بارے میں“ زیرو ٹالرنس ”کی پالیسی اختیار کی گئی ہے“ فوج کی طرف سے یہ واضح پیغام اس وقت دیا گیا ہے جب پی ٹی آئی کی طرف سے ایک سانس میں اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کی بھیک مانگی جاری ہے اور دوسرے سانس میں اس سے معافی مانگنے کا تقاضا کیا جا رہا ہے پی ٹی آئی ایک طرف مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے ساتھ بیٹھنے کے لئے ہی تیار نہیں دوسری طرف ”سیاسی گنجائش“ مانگ رہی ہے پی ٹی آئی دو محاذوں پر اپنی سروائیول کی لڑائی لڑ رہی ہے بدقسمتی سے پی ٹی آئی کی قیادت دو دھڑوں میں منقسم ہے ایک دھڑا مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو فارم 47 کی حکومت کا طعنہ دیتا ہے جب کہ دوسرا دھڑا فوجی قیادت سے مذاکرات کی بھیک مانگ رہا ہے پی ٹی آئی میں قیادت کا جھگڑا اس حد تک شدت اختیار کر گیا ہے ایک دھڑے نے شیر افضل مروت کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ کی دوڑ سے آؤٹ کر کے شیخ وقاص اکرم کا نام فائنل کرا دیا پی ٹی آئی کی قیادت کسی ایک محاذ پر یکسوئی سے لڑ نہیں پا رہی میجر جنرل احمد شریف کی پریس کانفرنس ان ”سیاسی خود سروں“ کے لئے واضح پیغام ہے قوم سے معافی کے بغیر بات آگے نہیں بڑھ سکتی

9مئی 2024 ء کو پورے ملک میں مختلف انداز میں منایا گیا حکومت اور اس میں شامل جماعتوں نے مسلح افواج کے ساتھ اظہار یک جہتی کیا ہے کے پی کے سوا تینوں صوبائی اسمبلیوں نے 9 مئی کے واقعہ کی مذمت کی ہے پی ٹی آئی نے پورے ملک میں احتجاجی مظاہروں کی کال دے کر اپنی سیاسی طاقت کو مظاہرہ کیا ہے فوج کے ترجمان کی پریس کانفرنس کے فور بعد عمران خان نے طویل جوابی بیان داغ دیا جس میں انہوں نے معافی مانگنے کے ایشو پر کہا کہ میں کیوں معافی مانگوں؟ معافی مجھ سے مانگی جائے کیونکہ مجھے ناحق جیل میں ڈالا گیا ہے ”9 مئی 2024 ء کو اڈیالہ جیل میں عمران خان سے سابق صدر عارف علوی کی ہونے والی ملاقات بھی غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے صدارت سے سبکدوش ہونے کے بعد جیل میں ان کی یہ پہلی ملاقات ہے عارف علوی صدارتی منصب پر براجمان ہوتے ہوئے بھی حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کے درمیان رابطے کا کر دار ادا کرتے رہے ہیں شنید ہے عارف علوی عمران خان ملاقات بھی پیغام رسانی کے سلسلے کی کڑی ہے سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان نے پلوں کے نیچے سے اس قدر پانی بہہ جانے کے بعد اپنے طرز عمل میں تبدیلی لائی ہے تو اس کا جواب نفی ہے وہ تو 9 مئی کے سانحہ کے حوالے سے طاقت ور قوتوں سے معافی مانگنے کا تقاضا کر رہے ہیں وزیر اعلیٰ کے پی کے“ پاک فوج زندہ باد ”کا نعرہ لگا کر عام معافی دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں ان کا موقف ہے کہ“ 9 مئی یوم سیاہ ہے جنہوں نے کیا وہ قوم کے مجرم ہیں پی ٹی آئی مجرم نکلی تو معافی مانگنے کو تیار ہے لیکن بے قصور نکلی تو معافی کون مانگے گا؟

”انہوں نے کہا کہ“ عمران خان مذاکرات کے لئے تیار ہیں آئیں عام معافی کا اعلان کر کے آگے بڑھتے ہیں ”پی ٹی آئی کی قیادت مذاکرات کے ایشو پر کنفیوژن کا شکار ہے“ اڈیالہ جیل کے مکین ”کے پیغامات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اپنی“ سیاسی بادشاہت ”کے چھن جانے کے بعد بھی سبق نہیں سیکھا دوسری طرف وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ 9 مئی کے ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا ملے گی ملک کے خلاف بغاوت اور افواج پاکستان میں تقسیم کرنے والوں کو ہر صورت انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کریں گے اسلام آباد میں شہدا ء اور ان کے خاندانوں سے اظہار یک جہتی کے سلسلے میں منعقدہ تقریب میں جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے وزیر اعظم نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے“ 9 مئی کو ریاست، افواج پاکستان اور فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کے خلاف بغاوت تھی فوج کے ترجمان نے کہا کہ ”9 مئی کے منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں سے کوئی کمپرومائز نہیں کیا جائے گا“ آرمی چیف نے بھی ”ڈیجٹل ٹیرر ازم“ کے مرتکب افراد کے خلاف آہنی ہاتھ سے نمٹنے کی بات کی ہے ایک طرف پی ٹی آئی کی قیادت ڈی جی آئی ایس آئی سے مذاکرات کی خواہشمند ہے تو دوسری طرف عمران خان آرمی چیف کو نشانہ بنا رہے ہیں قبل ازیں وہ زبانی الزامات عائد کرتے تھے اب انہوں نے برطانوی اخبار ٹیلی گراف میں آرمی چیف کو ٹارگٹ بنایا ہے عمران خان نے اپنی مقبولیت کے زعم میں یہ طرز عمل اختیار کیا ہے جب کہ سابق صدر عارف علوی سمیت پارٹی کے چیدہ چیدہ رہنما عمران خان کو زمینی حقائق باور کرانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے خصوصی اجلاس میں 9 مئی واقعات کی تحقیقات کے لئے قائم کردہ کابینہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کی گئی ہے جس انکشاف کیا گیا کہ 9 مئی کے واقعات میں پی ٹی آئی براہ راست ملوث ہے پی ٹی آئی معافی مانگ کر ہی اپنی سروائیول کی جنگ جیت سکتی ہے

Facebook Comments HS