بوتل، ڈھکن، ڈبہ، سکڈ اور میں
اپنے شعبہ میں بلکہ کہیں بھی نوکری ملنے کے آثار نظر نہیں آ رہے تھے، اب کیا کیا جائے؟ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے کا وقت نہیں تھا، اس لئے یہی سوچا کہ فیکٹریوں کا رخ کیا جائے اور وہاں قسمت آزمائی جائے۔ کافی نئے امیگرنٹ بلکہ پرانے بھی یہی کر رہے ہیں، مجھ میں کوئی سرخاب کے پر تو لگے نہیں تھے۔
بڑی سادگی سے زمانہ
کہانی کا رخ موڑتا ہے
یہ سب کچھ سوچ کر میں نے اخبارات اور ادھر ادھر سے کچھ ایمپلائمنٹ ایجنسیز کے نام، پتے اور ٹیلیفون نمبر جمع کیے ، تاکہ ملازمت کی جدوجہد شروع کی جائے۔
اس جدوجہد میں سب سے بڑا مسئلہ ایک ”جاہل“ ریزیومے بنانے کا تھا۔ جاہل ریزیومے کا مطلب ایک ایسا رزیومے جس میں آپ کی تعلیم بارہویں جماعت سے زیادہ نہ ہو اور نہ اس میں کسی ایسے کام کا تجربہ شامل ہو جس سے آپ پڑھے لکھے نظر آئیں۔ اگر ایسا ہوا تو شاید آپ فیکٹری کی ملازمت کے لئے نا اہل قرار پائیں۔
میں نے بمشکل تمام ایک ”جاہل“ ریزیومے تیار کیا جس کی رو سے میری تعلیم فقط انٹر تک تھی اور میں کینیڈا آنے سے پہلے ”دیہاڑی“ پر ادھر ادھر کام کرتا تھا۔ اس ریزیومے کے ساتھ میں فیکٹری میں ملازمت کی تلاش میں نکل پڑا۔
میرا پہلا انٹرویو ایک مقامی ایمپلائمنٹ ایجنسی سے کچھ اس طرح تھا
انگلش بول لیتے ہو، انگلش پڑھ سکتے ہو؟
فرسٹ ایڈ کی ٹریننگ ہے؟
ڈرائیونگ لائسنس ہے، گاڑی ہے؟
اس سے پہلے فیکٹری میں کام کرنے کا تجربہ ہے؟
تمہارے پاس سیفٹی بوٹس ہیں؟
فورک لفٹ چلا لیتے ہو؟ پمپ ٹرک چلانا جانتے ہو؟
ظاہر ہے کہ ان تمام سوالوں کے جواب (انگلش لکھنا پڑھنا چھوڑ کر) میری طرف سے نفی میں تھے۔ نفی کیا مجھے تو بعض باتوں کا مطلب بھی نہیں پتا تھا مثلاً شرنک ریپ کیا ہے؟ پمپ ٹرک چلانا تو دور کی بات ہے، پہلے پتہ تو چلے کہ پمپ ٹرک ہے کیا؟
انٹرویو لینے والی نے بہت مایوسی سے سر ہلایا جس کا صاف صاف مطلب تھا کہ حضور آپ اس کام کے لئے بالکل نا اہل ہیں۔ بہر حال اس نے مجھے ایک فارم پکڑا دیا اور کہا اسے بھر کر استقبالیہ پر جمع کر دوں۔
استقبالیہ نے مجھے بتایا کہ مجھے اسی جگہ اگلی صبح چھ بجے سے پہلے پہنچنا ہے۔ میں آتے ہی استقبالیہ پر اپنا نام اور سوشل انشورنس نمبر نوٹ کرا دوں۔ زیادہ تر فیکٹریوں میں صبح کی شفٹ سات بجے شروع ہوتی ہے، جیسے جیسے آسامیاں آتی رہیں گی ایجنسی اپنی گاڑی سے لوگوں کو فیکٹریوں پر بھجواتی رہے گی، واپسی کا انتظام خود کرنا ہو گا۔
اس تمام گفتگو سے میں نے یہ اخذ کیا کہ مجھے نوکری مل گئی ہے۔
دوسری صبح چھ بجے پہنچنے کا مطلب تھا کہ میں گھر سے پانچ بجے نکل لوں۔
میں نے صبح چار بجے کا الارم لگایا لیکن پھر بھی پوری رات اٹھ اٹھ کر گھڑی دیکھتا رہا کہ ایسا نہ ہو کہ آنکھ لگ جائے۔ چار بجے سے کچھ پہلے میں نے آخری دفعہ گھڑی دیکھی، الارم بند کیا اور تیاری شروع کر دی۔ ٹھیک پانچ بجنے میں پانچ منٹ پر میں مانگے کے سیفٹی شوز پہنے بس سٹینڈ پر موجود تھا۔
بس پکڑ کر جب میں ایجنسی پہنچا تو ابھی بھی چھ بجنے میں دس منٹ باقی تھے لیکن مجھ سے پہلے ہی درجن بھر لوگ ایجنسی کی انتظار گاہ میں تشریف فرما تھے۔ حسبِ ہدایت میں نے استقبالیہ پر اپنا نام اور سوشل انشورنس نمبر نوٹ کرا دیا اور انتظار میں بیٹھ گیا۔ لڑکی نے پہلے تین لوگوں کا نام پکارا، اور انہیں روانہ کر دیا، پھر دو آدمیوں کا نام پکارا۔ اس طرح سات بجے سے کچھ پہلے تک دس آدمی روانہ ہو چکے تھے۔
میرا خیال تھا کہ اب میرا نمبر آنے ہی والا ہے کہ لڑکی نے اعلان کیا کہ ہمارے پاس جتنی آسامیاں موجود تھیں ہم ان پر لوگ بھیج چکے ہیں، اور اب ہمارے پاس اب مزید لوگوں کی مانگ نہیں ہے۔ بقیہ لوگ گھر جا سکتے ہیں۔ جن لوگوں کو جاب کی ضرورت ہے وہ کل دوبارہ صبح چھہ بجے تک یہاں آجائیں۔
کیا مطلب؟ ہم جو پوری رات نہیں سوئے، گھر سے نکلے، پیسے خراب کر کے یہاں آئے، اب واپس چلیں جائیں اور کل دوبارہ آئیں۔ اور پھر اگر یہی ڈرامہ اگلے دن بھی ہوا؟ بہتر یہ ہے کہ اور کوئی ایجنسی تلاش کی جائے۔
دوسرے دن میں ایک اور ایجنسی میں جا پہنچا۔ اپنا جاہل ریزیومے پیش کیا اور کام کا مطالبہ کیا۔ میرا ایک چھوٹا سا انٹرویو لیا گیا جو پچھلے انٹرویو سے ذرا مختلف تھا لیکن میں بھی اب ذرا تجربہ کار ہو چلا تھا اس لئے میرا یہ انٹرویو بہتر ہو گیا۔
مجھ سے پوچھا گیا کہ کون سی شفٹ میں کام کرنا پسند کروں گا۔ (واہ بھئی پسند پوچھی جا رہی ہے ) میں ایک دو تین دن پہلے صبح کا ڈرامہ بھگتے ہوئے تھا اس لئے میں نے کہا دوپہر یا رات کی کسی بھی شفٹ میں کام کر سکتے ہیں۔
انٹرویو لینے والی عورت نے کہا کہ میں گھر جاؤں اور ان کی کال کا انتظار کروں۔ مجھے گھر پہنچنے میں ڈیڑھ گھنٹا لگ گیا۔ گھر پہنچا تو ایجنسی کی طرف سے ٹیلیفونی پیغام میرا منتظر تھا، جس میں مجھے کسی فیکٹری کا نام اور مکمل پتہ بتایا گیا تھا جہاں مجھے دوسرے دن دوپہر میں رپورٹ کرنا تھی۔
میں دوسرے دن مقررہ وقت پر بتائے ہوئے پتہ پر پہنچ گیا۔ فیکٹری کیا تھی، ایک بڑا سا ہال تھا جس میں بے شمار مشینیں لگی ہوئی تھیؒ۔
میں نے ایک شخص سے سپروائز کے متعلق پوچھا تو اس نے ایک دوسرے شخص کی طرف اشارہ کر دیا، جو مشینوں کے دوسری طرف کام کر رہا تھا۔ میں نے اسے جا کر اپنا نام اور ایجنسی کا نام بتایا۔
اس نے مجھے نیچے سے اوپر تک دیکھا اور پوچھا ”بوتل پر ڈھکن لگا لو گے؟“
یہ کیا سوال ہے؟ بوتل پر ڈھکن لگانا کیا مشکل ہے؟ گھر میں لگاتے ہی رہتے ہیں۔ اس سے آسان کام کیا ہو سکتا ہے۔
سپروائزر نے میرے جواب کا انتظار نہیں کیا اور اشارے سے لائن کے آخری سرے کی طرف اشارہ کیا جہاں سے بوتلیں لائن بیلٹ پر آ رہی تھیں اور وہیں ان پر ڈھکن لگائے جا رہے تھے۔ اس جگہ پہلے سے ایک چینی لڑکی یہ کام کر رہی تھی۔ اس نے ہٹ کر مجھے جگہ دے دی، ڈھکنوں کی ٹوکری میرے آگے کر دی اور خود دوسرا کام کرنے لگی۔
میں نے پہلی بوتل پر تو ڈھکن بخوبی لگا لیا، دوسری پر اس وقت لگا سکا جب بوتل میرے پاس سے تقریباً گزر چکی تھی۔ اب میں تیسرا ڈھکن لئے کھڑے تھا کہ جاتی ہوئی تیسری بوتل پر لگاؤں یا آنے والی چوتھی بوتل پر۔
اس کشمکش میں تیسری بوتل بغیر ڈھکن کے گزر گئی۔ چوتھی میں میں نے ڈھکن تو لگا لیا لیکن پانچویں کا ڈھکن اور بوتل دوں میرے ہاتھ سے پھسل گئے۔ بوتل زمین پر گر کر چور چور ہو گئی۔
سپروائزر لال پیلا ہوتا ہوا آیا، ایک کپڑے سے خود فرش صاف کرنے لگا اور دوسرا کپڑا مجھے فرش صاف کرنے کے لئے دیا۔ لال پیلا تو میں محاورتاً کہہ رہا ہوں ورنہ اس کا رنگ تو اتنا گہرا تھا کہ اس پر کوئی اور رنگ چڑھنا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن تھا۔ اللہ معافی
بیلٹ رکنے کا سوال نہیں تھا۔ پہلے والی لڑکی نے دوبارہ ڈھکن لگائے شروع کر دیے۔ فرش کی صفائی کے بعد سپروائزر مجھے بیلٹ کے دوسرے سرے پر لے گیا۔ جہاں بوتلیں بیلٹ سے اٹھا کر ڈبوں میں رکھی جا رہی تھیں اور ڈبے بھرنے کے بعد سکڈ پر رکھے جا رہے تھے۔ میرا کام بھی یہی تھا کہ بوتل جیسے ہی بیلٹ کے آخری سرے پر آئے میں اسے اٹھا کر ڈبے میں رکھ دوں۔ اور جب ڈبہ بھر جائے تو میں اسے سکڈ پر رکھ دوں۔
مجھے یہ کام ڈھکن لگانے کی نسبتاً ذرا سہل دکھائی دیا۔ بوتلوں کو بیلٹ سے اتار کر ڈبے میں رکھنے کے لئے کافی پھرتی کی ضرورت تھی ورنہ ان کا ہجوم ہو جاتا تھا۔ ڈبہ بھرنے کے بعد سکڈ پر رکھنا بھی کافی محنت طلب کام تھا۔ ڈبے خاصے وزنی تھے۔ ذرا سی دیر میں میری کمر دوہری ہونے لگی۔ جیسے ہی ڈبہ بھرنے لگتا میری جان نکلنے لگتی کہ اب اس کو سکڈ پر رکھنے کا وقت آیا۔ آدھے گھنٹے میں میری حالت غیر ہو چکی تھی، لیکن اللہ نے میری فریاد سن لی۔ کہیں سے کڑ کڑ کی آواز آئی اور بیلٹ اور بوتلوں کی قطار رک گئی۔ مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ چھوٹے چھوٹے بونے جو بغیر قدم اٹھیے چل رے تھے رک بھی سکتے ہیں۔ میں نے سکون کا سانس لیا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ پتہ چلا بیلٹ میں دو تین بوتلیں آڑی ترچھی ہو کر پھنس گئی ہیں۔
سپروائزر پھرتیلا تھا اس نے تین چار منٹ کے اندر سب کچھ ٹھیک ٹھاک کر کے دوبارہ بیلٹ چلا دی۔ پھر میں تھا بوتلوں کی نہ ختم ہونے والی قطار، ڈبہ، سکڈ اور میری دوہری ہوتی ہوئی کمر۔ وقت انتہائی سست رفتاری سے گزر رہا تھا۔ خدا خدا کر کے وقفہ کا سائرن ہوا۔
سپروائزر نے میرے قریب آ کر کہا کہ بیس منٹ کا وقفہ ہے۔ ڈائننگ روم میں کمپنی میں بننے والے جوس، اور آئس کریم وغیرہ سب موجود ہیں۔ جو چاہو اور جتنا چاہو کھا سکتے ہو، سب مفت ہے۔
کہاں کا جوس اور کہاں کی آئس کریم؟ آپ سمجھ نہیں سکتے، اس تھکے ہوئے جسم اور دوہری ہوتی ہوئی کمرنے لکڑی کی کرسی پر خود کو کس طرح گرا دیا۔ لکڑی کی یہ کرسی ملکہ وکٹوریہ کے تخت سے زیادہ آرام دہ لگ رہی تھی۔
اس بیس منٹ میں میرے جسم نے کیا کیا عیش کیے ؟ نہ بوتلیں تھیں نہ سکڈ تھی۔ میں اپنی مرضی کا مالک تھا، میں ہاتھ ہلانے یا وزن اٹھانے کا پابند نہیں تھا۔ آرام کے یہ بیس منٹ کا وقفہ چند سیکنڈوں میں گزر گیا۔ وقفہ ختم ہونے کا سائرن صورِ اسرافیل کی طرح لگ رہا تھا۔ پھر وہی کام شروع۔ بوتل، ڈبہ، سکڈ اور میں۔
میری بتدریج غیر ہوتی ہوئی حالت کو سپر وائزر سمجھ گیا۔ اس نے کہا یہ کام چھوڑ دو۔ یہاں سکڈ کا ڈھیر ختم ہو گیا ہے۔ تم دوسرے والے ہال سے ٹرالی پر سکڈیں اٹھا کر لے آؤ، او ر ہاں چاہو تو فرج میں سے کوئی جوس وغیرہ بھی نکال لو، تمہیں پسینہ بہت آ رہا ہے۔ ایسا نہ ڈی ہائیڈریشن ہو جائے۔
خدا خدا کر کے شفٹ ختم ہونے کی گھنٹی بجی، اور میں فیکٹری کے باہر بھاگا۔
مجھے اپنی زندگی کا یہ طویل ترین دن لگ رہا تھا۔ باہر نکلا تو قدم کہیں کے کہیں پڑ رہے تھے۔
مجھے فیض صاحب کے مزدوروں کی شان میں لکھے ہوئے اشعار یاد آرہے تھے اور مزدور کے ماتھے کے پسینے کی حقیقت معلوم ہوتی جا رہی تھی۔
وہ مزدور جن کی ہم نے بات تو بہت کی تھی لیکن کبھی ان کو محسوس نہیں کیا تھا۔
سروں پر بوجھ لادے ہوئے مزدور، فیکٹریوں کے تپتے ہوئے شیڈ کے نیچے کام کرتے ہوئے مزدور، ٹھیکیداروں کے ستائے ہوئے مزدور، دبلے پتلے اور فاقہ زدہ مزدور، دور دراز سے شہروں میں کام کی تلاش میں آئے ہوئے مزدور اور بوتل پر ڈھکن لگاتے ہوئے مزدور۔
گھر پہنچا تو کھانے پینے کا ہوش تک نہ تھا، جاتے ہی جوتوں سمیت بستر پر ایسا گرا کہ دوسرے دن ٹیلیفون کی گھنٹی سے آنکھ کھلی۔
ایجنسی کی طرف سے اطلاع تھی کہ مجھے اب اس ملازمت پر نہیں جانا ہے، بلکہ آج کہیں بھی نہیں جانا ہے۔
کل بتایا جائے گا کہ کہاں جانا ہے؟
مجھے اپنی کارکردگی سے اسی قسم کے رد عمل کی توقع تھی۔
میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ آج مجھے کہیں نہیں جانا اور کروٹ لے کر سو گیا۔
خواب میں فیض صاحب کو دیکھا اور ان کا شکریہ ادا کیا جو ہم جیسے مزدوروں کا کتنا خیال رکھتے تھے

