مولانا۔ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف میدان میں، حکومت کردار ادا کرے!
جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمن اب تک پشین، کراچی اور پشاور میں تین بڑے احتجاجی جلسہ منعقد کر چکے ہیں، مولانا کا لہجہ، رویہ، اور انداز انتہائی غصہ، جارحانہ اور باغیانہ ہے۔ کیا وجہ ہے کہ مولانا اتنے غصہ میں ہیں، وہ بہت دکھی ہیں، ناراض ہیں یا دل جلے ہو کر میدان میں اترے ہیں۔ سیاست میں دوستی ناراضگیاں ہوتی رہتی ہیں لیکن اس وقت دیگر جماعتوں سے الگ الگ ہو کر مولانا باغی بن کر سیاسی میدان میں ہیں اور وہ اپنے کارکنوں سے بھی حلف لے رہے ہیں کہ وہ کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اور ضرورت پڑی تو پہاڑوں پر چڑھ جائیں گے، شاید پہاڑوں پر چڑھنا آخری حد ہے۔ جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ بلوچستان میں بلوچ پہاڑوں پر چڑھنے کے بعد اب تک واپس نہیں ہوئے ہیں، لیکن مولانا کو اتنا آگے نہی نکلنا چاہیے۔ پہلے تو مولانا فضل الرحمن سیاست کو خیر باد کہنے جا رہے تھے لیکن شاید ہمدردوں نے اسے روکا ہو گا، سمجھایا ہو گا کہ دہلی ابھی دور ہے۔ صبر، برداشت، تحمل سے کام لیا جائے۔ 9 مئی کو پشاور میں جلسہ تھا۔ ایک طرف حکومت 9 مئی کے حوالے سے یوم مذمت منا رہی تھی دوسری طرف مولانا پشاور میں خطاب کر رہے تھے۔ کہ 9 مئی کا واقعہ افسوسناک عمل تھا جس کی پوری قوم نے مذمت کی۔ لیکن 9 مئی کے بعد جس پارٹی پر الزامات عائد کیے گئے اس کا انتخابات میں کامیاب ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام نے 9 مئی کے بیانیے کو مسترد کر دیا یا پھر انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے، ۔
ہم سمجھتے ہیں کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے وہ کہتے ہیں کہ انتخابات صاف شفاف ہوئے ہیں پھر آپ کے 9 مئی کے بیانیے کو قوم نے مسترد کر دیا ہے، جو کامیاب ہوئے ہیں انہیں اقتدار ملنا چاہیے، مولانا نے وہیں پر فوج اسٹیبلشمنٹ پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا، کہا سیاست میں فوج کا رول نہی ہے لیکن سارا رولا انہوں نے ڈالا ہوا ہے۔ پاکستان بنانے میں فوج کا کوئی کردار نہی ہے، مسلمانوں نے قربانیاں دے کر ملک بنایا، اسٹیبلشمنٹ /فوج نے ملک بچایا نہی ملک کو توڑا ہے، 71 ء میں 90 ہزار فوجیوں کا سرینڈر کرنا ہمارا سر شرم سے جھک گیا تھا۔ آپ کون ہوتے ہو ہمیں سیاست سکھانے والے ہم سیاست کریں یا نہ کریں، میں پاکستان کے آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی کو جانتا ہوں، 40 سال سیاست کی ہے، سب پتا ہے، جہاں سے (بیرکوں ) سے آئے ہو وہی واپس جانا ہو گا ہم کا احترام کریں گے اور شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔
مولانا اس وقت عالمی سطح پر قدآور سیاسی اور مذہبی شخصیت کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ عالمی سطح پر مولانا اور اس کی جماعت جمعیت علمائے اسلام کھل کر فلسطین کی حمایت کی ملک بھر بڑے اجتماع کیے ۔ مولانا فضل الرحمان، راشد محمود سومرو نے قطر جاکر حماس رہنماؤں اور فلسطین کے وزیر اعظم ساب ملاقاتیں کی اور امداد بھی کی جو کہ رکارڈ کا حصہ ہے۔ مولانا جے یو آئی وفد کے ہمراہ افغانستان کا دورہ کیا جہاں پر ان کا والہانہ استقبال کیا گیا طالبان حکومت کی جانب سے سرکاری پروٹوکول دیا گیا اور جو گلہ شکوہ تھا وہ دور کرنے کی کوششیں کی گئیں۔
افغانستان کا دورہ کرنا، ایران سمیت پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنا مولانا کا مشن بتایا جا رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمان اس وقت عالمی تنظیم رابطہ اسلامی کا ممبر بن چکے ہیں۔ مولانا سمجھتے ہیں کہ ان کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کو جہاں ڈیرا اسماعیل خان سے ہرایا گیا وہاں جو مقابلے میں تھے پیپلز پارٹی کے فیصل کریم کنڈی ان کو مخالفت کی وجہ سے گورنر کے پی کے لگایا گیا ہے۔ وہاں کے کٹر سیاسی مخالف علی امین گنڈا پور کو خیبر پختون خواہ صوبے کا وزیر اعلیٰ لگایا ہے جب کہ اس کے بھائی کو ڈیرا اسماعیل خان کا میئر لگایا گیا ہے۔
ایک طرف مولانا فضل الرحمن وفاقی حکومت کا حصہ نہ بنے جس کی وجہ سے کے پی میں جے یو آئی کے گورنر کو ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اب اسٹیبلشمنٹ مزید مولانا فضل الرحمن کا گھیرا تنگ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ جبکہ دو تہائیوں تک جے یو آئی کے پلیٹ فارم سے سینیٹر اور وفاقی وزیر بننے والے طلحہ محمود بھی پیپلز پارٹی کو پیارے ہو گئے ہیں۔ امکان ہے کہ آگے چل کر مولانا کے مزید ساتھیوں کو ان سے الگ کیا جائے لیکن فرق اس وجہ سے نہی پڑ رہا ہے کیونکہ اس وقت مولانا کے پاس اسٹریٹ پاور ہے۔
یہی وجہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے بلوچستان کے علاقے پشین، سندھ کے شہر کراچی اور کے پی کے پشاور میں بڑے جلسے کرنے اور سخت تقریر کے باوجود کسی نے کھل کر مخالفت یا تنقید نہی کی ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور صدر آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری بھی خاموش ہیں جبکہ وزیراعظم شہباز شریف اور میاں نواز شریف بھی جواب دینے کے موڈ میں نہی ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے ترجمان نے بھی تین گھنٹے کی پریس کانفرنس میں کوئی خاص بات جواب نہی دیا۔
دیکھا جائے تو 2018 ء کے عام انتخابات کے بعد 2024 ء کے عام انتخابات میں مولانا کے بقول انہیں دیوار سے لگایا گیا ہے۔ ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 1997 ء میں بھی ہم نے سیاست سے علیحدگی کا فیصلہ کیا تو ہمیں منایا گیا اور وعدہ کیا گیا کے غلطی ہوئی ہے آئندہ ایسا نہیں ہو گا، 88 ء کے عام انتخابات میں جے یو آئی کو 8 نشستیں حاصل کی پھر 6 ہوئی اس کے بعد 4 نشستوں تک محدود رکھا گیا۔ اس کے 2002 کے عام انتخابات میں جے یو آئی ایم ایم اے کو 60 سے زائد قومی کی نشستیں دی گئی اور 2008 ء میں سیٹیں کم کردی گئی، 2013 ء میں مزید کم کردی گئی۔
2018 ء میں 10 سے 12 تک رکھا گیا اور اب 2024 ء میں 8 سے 10 نشستوں تک محدود کیا گیا ہے۔ مولانا سمجھتے ہیں کہ اس بار دہشتگردی کا بہانہ بنا کر ہمیں ڈرایا گیا ورک نہی کرنے دی گئی۔ اور جو ہم نے نشستیں جیتی وہ بھی دھاندلی کر کے ہرایا گیا سندھ میں راشد محمود سومرو سمیت اہم رہنماؤں کو ہرایا گیا۔ جبکہ بلوچستان اور سندھ میں 80 ارب سے 100 ارب روپے تک اسمبلی خریدی گئی ہیں۔ کے پی میں ہمیں ہرانے کے لئے پیسے وصول کیے گئے ہیں۔
عام انتخابات کے بعد ملک میں نئے صدر کے لئے نواز لیگ اور پیپلز پارٹی نے آصف علی زرداری کو صدر منتخب کرایا۔ عام انتخابات سے قبل پی ڈی ایم کے حکومت کے وقت طے پایا گیا تھا کہ وزیر اعظم جو بھی بنیں گے صدر مولانا فضل الرحمن ہی ہوں گے۔ لیکن مولانا سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے آصف علی زرداری کے لئے یہاں تک کہ دیا کہ وہ مفاہمت کے نہیں مفادات کے بادشاہ ہیں۔ جے یو آئی اس وقت میدان عمل میں ہیں، مولانا فضل الرحمن نے اگلے جلسہ کا اعلان لاہور میں 7 ستمبر کو کیا ہے، یہ ملک گیر جلسہ 7 ستمبر اس وجہ سے بھی رکھا گیا ہے کہ قومی اسمبلی سے احمدیوں، قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا اس کی گولڈن جوبلی 50 سال مکمل ہونے پر ختم نبوت کانفرنس ہوگی۔
ہو سکتا ہے کہ اس کانفرنس میں نواز لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف، پیپلز پارٹی کے سید خورشید احمد شاہ بھی شریک ہوں۔ دوسری طرف تحریک انصاف عمران خان کی آزادی کے لئے تحریک چلا رہی ہے۔ امکان ہے کہ آگے چل کر عمران خان کو رہا کیا جائے اور ان ہاؤس تبدیلی کے ذریعے دوبارہ عمران خان کی جماعت کو اقتدار سونپا جائے۔ بقول مولانا فضل الرحمان کے نواز شریف ان کے دوست ہیں وہ ان سے زیادہ پریشان ہیں۔ کیونکہ انہیں دھوکہ دے کر بلایا گیا اور وزیراعظم شہباز شریف کو بنایا گیا ہے۔
ملکی معیشت اس وقت آخری اسٹیج پر ہے۔ آئی ایم ایف کی فرمائش پر اتنی مہنگائی کردی گئی ہے کہ غریب مڈل کلاس کا جینا عذاب بن گیا ہے۔ عوام دو وقت کی روٹی کے لئے پریشان ہے۔ اور مولانا فضل الرحمن میدان میں اترے ہیں ہو سکتا ہے کہ اگر اسے راضی نہ کیا گیا وہ نواب اکبر بگٹی کی طرح پہاڑوں کا بھی رخ کر سکتے ہیں۔ بہر حال مولانا فضل الرحمان سیاست کے سلطان سیاسی بصیرت رکھنے والے مدبر سیاستدان ہیں۔ جو عالمی سطح پر اس وقت پاکستان کی آواز اور پہچان ہیں۔
حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو چاہیے کہ آپس میں مل کر مولانا کے خدشات دور کیے جائیں۔ جو ان کی جیتی ہوئی نشستیں ہیں وہ انہی واپس کی جائیں۔ فارم 45 کے تحت ملک بھر میں الیکشن کمیشن کامیاب امیدواروں کا دوبارہ اعلان کرے جو درخواستیں الیکشن ٹربیونل میں دائر ہیں وہ بھی جلد کیس چلا کر نمٹا دی جائیں۔ سیاسی جماعتیں ملک کی بہتری ترقی مضبوطی کے لئے ایک پیج پر کام کریں۔ تاکہ ہم متحدہ ہو کر ایک قوم بن سکیں۔


