دو کتابوں پر مختصر تاثر
پہلی کتاب : پاکستان کیسے بنا؟ از زاہد چودھری
کچھ برس پہلے یہ کتاب پنجاب یونیورسٹی کتاب میلے میں دیکھی تو خریدنے کو دل للچایا مگر بوجہ خرید نہ سکا۔ 2019 میں لاہور ایکسپو سینٹر کتاب میلے کے آخری دن آخری وقت میں باہر نکلتے ہوئے پھر کتاب پر نظر پڑی اور خریدنے کو بہت دل للچایا، بیگم ساتھ تھیں وہ مجھے دیکھ کر مسکرائیں آپ کی ادا کو میں نے اجازت جانا اور دکان دار سے قیمت دریافت کی۔ کہنے لگا قیمت تو ان بارہ جلدوں کی 6400 روپے ہے مگر آپ کو رعایت کے بعد 3200 میں مل جائے گی۔ اندھا کیا مانگے، دو آنکھیں، میں نے کتاب خرید لی۔
آپ سے کیا کہوں آزادی، بٹوارہ اور وطن عزیز کا معرض وجود میں آنا ایسے موضوع ہیں کہ ان کو پڑھے بغیر جیا نہیں جاتا، اور پڑھ لوں تو رہا نہیں جاتا۔ اس موضوع پر جتنا پڑھتا ہوں اتنی پیاس بڑھتی جاتی ہے۔ ہر کتاب کے مطالعہ کے بعد ذہن کچھ اور الجھ جاتا ہے اور نئے سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔
مجھ کو لگتا ہے ہم ان موضوعات کے بارے میں جو کچھ رسمی طور پر پڑھتے ہیں وہ زیادہ تر کیا اور کیوں سے متعلق ہے اور بہت کم کیسے کا احاطہ کرتا ہے۔
یہ کتاب بارہ جلدوں پر مشتمل ہے جس میں سے پہلی دو جلدیں وطن عزیز کیسے بنا سے متعلق ہیں جب کے باقی دس ہمارے 76 سال کی کہانی بیان کرتی ہیں۔ پچھلے برس بہت سی دوسری کتابوں کے ساتھ اس کو بھی شروع کیا مگر صرف پہلی جلد مکمل کر سکا۔ اگست نیا سال شروع ہوا تو دوسری جلد شروع کر لی جو اس ہفتے مکمل ہو گئی۔ دراصل جتنا مجھے تاریخ پڑھنے کا شوق ہے اتنی ہی یہ مجھ پر گراں گزرتی ہے۔ میں یہ کیسے لکھوں کہ آزادی اور بٹوارے کی تاریخ جو انسانی المیوں سے بھری پڑی ہے اسے پڑھنا اور برداشت کرنا کس قدر مشکل ہے۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ آزادی کی جو قیمت ہند و پاک کے لوگوں نے ادا کی وہ بہت زیادہ تھی۔ یہ بھی سوچتا ہوں کہ اتنی مہنگی آزادی کی بعد کی نسلوں نے وہ قدر نہیں کی جو اس کا حق تھا۔
کتاب بہت سے سوالات کا تسلی بخش خواب دیتی ہے مگر اس کا بنیادی مقصد اس سوال کا جواب دینا ہے کہ کیا انگریز تقسیم چاہتا تھا یا ہند کا اتحاد۔ دراصل کتاب اس الزام کے جواب میں لکھی گئی ہے کہ پاکستان انگریز کا تحفہ ہے۔ مصنف جو کہ ایک بڑا محقق ہے نے بڑے غیر جذباتی انداز میں خاص حقائق کی روشنی میں حقیقت واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ کتاب کی خوبی یہ ہے کہ اس کو لکھتے ہوئے مصنف نے تمام فریقین کے شائع شدہ مواد سے استفادہ کیا ہے۔
مصنف اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ انگریز تو آخری وقت تک متحدہ ہندوستان کی راہ تلاش کرتا رہا مگر یہاں کے باسی تقسیم کے سوا کسی بات پر راضی نہ ہوئے۔ بہت ساری نئی باتیں میرے علم میں آئیں بہت سے سوالوں کے جواب پائے اور بہت سے نئے سوالات پیدا ہوئے۔ سب سے زیادہ اس بات کا جواب ملا کہ یہ ہم بحیثیت قوم ایسے کیوں ہیں، اس خرابی کا راز ہماری تعمیر میں پوشیدہ ہے۔ آزادی کے کرداروں میں مجھ کو سب سے مخلص، بے بس اور مظلوم مولانا آزاد لگے۔ اس سوال کا جواب بھی کسی حد تک مل گیا کہ قائد نے اتنی بھاری قیمت کے باوجود گورنر جنرل بننے پر کیوں اصرار کیا۔ وہ ملت جس کا سب سے زیادہ نقصان ہوا وہ ِسکھ ہیں۔
پاکستان بن گیا ہے مگر ابھی دس جلدیں باقی ہیں جو یہ بتائیں گی کہ ہم نے قائد کے پاکستان کے ساتھ کیا سلوک کیا۔
دوسری کتاب: ماضی کے مزار از سبطِ حسن
یہ ان کتابوں میں سے ہے جو مجھے ابا سے ورثے میں ملیں۔ بہت برس پہلے جب میں نے اعتزاز احسن کی کتاب سندھ ساگر اور قیام پاکستان پڑھی تو اس کے ساتھ اسے بھی پڑھا۔ تب میں اس کے مندرجات کو نہ پا سکا مگر اس کے بارے میں بہت دن تک سوچتا رہا۔ ان دنوں میں ابھی اس بات کو بھی نہیں سمجھ پایا تھا کہ حال ماضی کی کوکھ سے جنم لیتا ہے اور پھر مستقبل کی صورت گری کرتا ہے۔
ابھی کتاب میلے سے ڈاکٹر مبارک علی کی کتابیں لیں اور رمضان کے دنوں میں پڑھ لیں۔ ان کی لکھی تہذیب کی کہانی پڑھی تو سبطِ حسن کی ماضی کے مزار پھر یاد آئی۔ پچھلے ہفتے شروع کی اور آج اختتام کو پہنچی۔ اب کی بار کتاب دل میں اتر کر شعور کا حصہ بن گئی ہے۔ سبطِ حسن کی اردو اتنی اچھی ہے کہ بلند معیار پر پورا بھی اترتی ہے اور قاری کے مزاج پر بوجھ بھی نہیں بنتی۔
کتاب تہذیب کی کہانی اس طرح سناتی ہے کہ عہد با عہد تہذیب جہاں آج پہنچی ہے اس کی خبر مل جاتی ہے۔ کتاب رسم و رواج ‚جو آج مختلف معاشروں میں رائج ہیں اور جو رائج رہے ہیں، ان کی جڑیں تلاش کرتی ہے۔ کتاب مختلف معاشروں میں جو رائج عقائد ہیں ان کے درمیان تعلق ڈھونڈتی ہے۔ کتاب اس سے بحث کرتی ہے کہ تخلیق، تقدیر اور حیات بعد الموت کے بارے میں نظریات کی اصل ایک ہے مگر بیانات مختلف ہیں۔ مصنف کیونکہ اشتراکی اور مارکسسٹ نظریات کے حامی ہیں اور اسی روایت کی وجہ سے ہر چیز کے پس منظر میں معاشی مفادات دیکھتے ہیں۔ مثلاً ان کے خیال میں اَموی سماج اس وقت کی معاشرتی ضرورت تھا اور جب معاشی ضرورت بدلی تو سماج اَبوی ہو گیا۔ یعنی عورت کی برتری سے مرد کی برتری میں بدل گیا۔
کتاب بابلی تہذیب کی عظمت کو واضح کرتی ہے۔ کتاب میں آپ جگہ جگہ انسانی کی ہمت کی عظمت کو محسوس کر سکتے ہیں۔ کتاب بلاشبہ قاری کے تاریخی شعور میں بے پناہ اضافہ کرتی ہے۔ تاریخی شعور کے ساتھ ساتھ یہ ادبی ذوق کو بھی رواج دیتی ہے۔ کتاب میں ان داستانوں کے مظموم تراجم بھی نقل کیے گئے ہیں جو علماء آثار نے مدفون لوحوں میں ڈھونڈی ہیں۔ کتاب آپ کو انسانی کی کہانیاں بنانے اور سنانے کی صلاحیت کے قدیم ہونے کا پتہ دیتی ہے۔ سوچتا ہوں کتاب پر جونہی طبیعت کچھ لکھنے پر مائل ہوتی ہے تو تفصیل سے لکھتا ہوں۔ وقت ملے تو سب کو اسے پڑھنا چاہیے۔


