اٹل فیصلہ

رات کے وقت دروازے کی گھنٹی بجی۔ میں بے دھیانی میں دروازہ کھولنے آیا تو مجھے نیم روشن گلی میں کوئی نظر نہیں آیا۔ کیا کوئی بیل بجا کر بھاگ گیا تھا؟ میں نے ادھر ادھر نظر دوڑائی تو مجھے گلی کے دائیں جانب ایک آدمی کی موجودگی کا احساس ہوا۔ میں نے غور کیا تو ایک شخص موٹر سائیکل کے ساتھ کھڑا میری طرف دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ اب میں انہیں پہچان چکا تھا۔ وہ سر فاروق تھے۔
میں نے ان سے مصافحہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ کچھ روز قبل جدہ سے لوٹے تھے۔ میں دفتر سے چھٹی لے کر گھر آیا ہوا تھا۔ جب انہیں میرے ایک کزن سے میرے آنے کا معلوم ہوا تو ملنے آ گئے۔ ”کیا موڈ ہے پھر؟“ وہ بولے۔ ”سر کہیں چلتے ہیں،“ میں نے معمول کے مطابق جواب دیا۔ وہ موضوع تبدیل کرتے ہوئے قدرے سنجیدگی سے بولے : ”یار میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب میل جول کو محدود کرنا ہے“ میں سوچنے لگا کہ آخر کیا ماجرا تھا؟ ”بس میں نے سوچ لیا ہے۔ یہ میرا اٹل فیصلہ ہے!“ اب وہ مسکرا رہے تھے۔ ایسی پر اعتماد مسکراہٹ جس سے اگلا بندہ نہ چاہتے ہوئے بھی یقین کر لے۔ میں کچھ پوچھنے ہی والا تھا کہ وہ بولے : ”تم بائیک پر بیٹھو، میں تمہیں تفصیل سے بتاتا ہوں۔“
سر فاروق میری ساتویں کلاس کے استاد تھے۔ ان کا گھر میرے گھر کے رستے میں تھا۔ ہم اسکول سے اکٹھے واپس آتے۔ جب ان کا گھر آ جاتا تو وہ ایک ماہر دست شناس کی طرح میرا ہاتھ دیکھ کر بولتے : ”تمہارے ہاتھ کی لکیریں بہت اچھی ہیں!“ میں مارے تجسس ان سے پوچھتا: ”سر کیا ہے ان میں؟“ تو وہ کہتے : ”یہ تمہیں دس سال کے بعد پتہ چلے گا۔“ میں چپ ہو جاتا اور اپنے گھر کی راہ لیتا۔
اب اس بات کو کم و بیش دس سال بیت چکے تھے۔ میری زندگی میں معمولی کئی اور غیر معمولی کچھ تبدیلیاں آ چکی تھیں۔ ہاں ہاتھوں کی لکیروں میں شاید کوئی بدلاؤ نہیں آیا تھا۔ اور آج وہ ایک تبدیلی کی نوید لے کر حاضر ہوئے تھے۔ ”اٹل فیصلہ ہے!“ ان کے لفظ ابھی تک میرے ذہن میں گونج رہے تھے۔ میں سوچ رہا تھا کہ آج کیا مختلف ہو گا؟ عموماً میں جب ان کے ساتھ نکلتا تھا تو کوئی آدھے شہر کا چکر اور درجن بھر لوگوں سے مل لیتا تھا۔
ہم ریلوے اسٹیشن کے سامنے ایک کھلے پارک میں پہنچ گئے۔ انہوں نے کینٹین کے مالک سے دعا سلام کی۔ دو کولڈ ڈرنکس لے کر ہم ایک جگہ بیٹھ گئے۔ پھر انہوں نے مجھے بتایا کہ جدہ کی ایک مسجد میں کیسے ان کی ملاقات ایک گیارہ سالہ لڑکے سے ہوئی۔ وہ کسی مشکل میں تھا۔ انہوں نے اس کی مدد کی۔ پھر وہ لڑکا روز انہیں مسجد میں ملنے لگا۔ اس کی امی کی بھی سر سے علیک سلیک ہو گئی۔ وہ سر کی بہت زیادہ ممنون تھیں کہ انہوں نے مشکل وقت میں اس کے بیٹے کی مدد کی۔
بس یہی کہانی تھی۔ میں سوچ میں پڑ گیا کہ آخر اس میں ایسا کیا تھا جس نے انہیں تعلقات کو محدود کرنے پر مائل کیا۔ پھر ہم وہاں سے چل دیے۔ راستے میں ان کے چچا کا گھر تھا۔ وہ وہاں رکے۔ گھر کے مرد باہر ایک بڑے بینچ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ فردا فردا سب سے ملے۔ پھر اندر خواتین سے بھی مل آئے۔
ہمارا اگلا پڑاؤ ڈسٹرکٹ ہسپتال تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک کولیگ کا بیٹا ہسپتال میں داخل تھا، اس کی تیمار داری کرنی تھی۔ بائیک پارکنگ میں کھڑی کر دی۔ ان کے دوست اور ایک دو رشتہ دار ہمیں ملنے وارڈ سے باہر آ گئے۔ وہیں ایک میدان میں ہم چار پانچ لوگ دائرہ بنا کر بیٹھ گئے۔ ان کے دوست نے ہمیں بیماری کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ سر نے دوست کے بیٹے کے لیے دعا اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ پھر کسی بھی قسم کے تعاون کی یقین دہانی کے ساتھ ان سے چلنے کی اجازت طلب کی۔
اب ہمیں بھوک محسوس ہو رہی تھی۔ سر نے بتایا کہ ان کے ایک دوست نے حال ہی میں جدہ سے واپس آ کر پاکستانی چوک کے پاس فاسٹ فوڈ کا کام شروع کیا تھا۔ ہم وہیں چل کر رات کا کھانا کھائیں گے۔ وہاں پہنچ کر پیزے کا آرڈر دے دیا۔ ان کے دوست نے وضاحت سے اس کام کے پیچھے محرکات سے آگاہ کیا۔ گرما گرم پیزا آیا تو سر نے تصویر کھینچ کر فیس بک پر اپلوڈ کر دی اور واٹس ایپ کے کئی گروپوں میں شیئر کر دی۔ پھر کیا تھا کمنٹس اور لائکس کا تانتا بندہ گیا۔ وہ ساتھ ساتھ رپلائی کرتے رہے اور لائکس چیک کرتے رہے۔ انہوں نے کچھ آڈیو میسجز کے جوابات بھی ریکارڈ کرائے۔ اور میں تھا کہ پوری دل جمعی کے ساتھ چیز سے لبالب پیزا کھانے میں مصروف تھا۔
دکان سے باہر آ کر انہوں نے بتایا کہ ان کے دوست کا کاروبار کچھ مشکل میں تھا۔ سو یہاں آنے کا ایک مقصد اس کی مالی امداد کے ساتھ ساتھ تشہیر کرنا بھی تھا۔ وہاں سے کچھ فاصلے پر واقع ہم ایک کریانہ اسٹور پر رکے۔ پھر وہی علیک سلیک، دعا سلام اور دن کی تیسری کولڈ ڈرنک۔ اب سر اور وہ دکان دار کچھ سنجیدہ گفتگو کر رہے تھے۔ مجھے ان کی باتوں سے اندازہ ہوا کہ سر نے اسے کچھ پیسے ادھار دیے ہوئے تھے جو اب وہ احسن طریقے سے لوٹا نہیں پا رہا تھا۔
پھر ہم وہاں سے صدر بازار کی طرف آ گئے۔ ہمارا آپس کا حال احوال بھی اسی طرح چلتے چلتے ٹکڑوں میں ہوتا رہا۔ راستے میں کئی لوگوں کو انہوں نے دور سے سلام کیا۔ کچھ کالز سنی اور آڈیو میسجز کے جوابات ریکارڈ کرائے۔ ہم کلمہ چوک کے پاس ایک بار بی کیو شاپ پر رکے۔ یقیناً وہ اب کھانے کی دوسری شفٹ نہیں لگائیں گے۔ لیکن دکان دار جو ان کا بچپن کا دوست تھا کے پر زور اصرار پر ہمیں چائے پینی پڑی۔ وہاں انہوں نے کچھ گھریلو معاملات پر گفتگو کی۔ اور انہیں کئی جاننے والے بھی ملے۔
”یار اب مزید کیا پروگرام ہے؟“ وہ ابھی بھی مکمل تازہ دم نظر آ رہے تھے۔ ”سر بس مجھے گھر چھوڑ دیں۔“ میری بیٹری شاید ڈسچارج ہونے والی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک دو روز میں ان کی جدہ واپسی تھی سو ہماری اگلی ملاقات اب کافی عرصے کے بعد ہوگی۔ وہ مجھے دروازے پر ڈراپ کر کے چلے گئے۔ انہوں نے آگے اپنی ہمشیرہ کے گھر جانا تھا اور بہنوئی اور ان کے بچوں سے ملنا تھا۔
مجھے اندر جاتے ہوئے ان کے کچھ دیر پہلے بولے جملے یاد آ گئے : ”میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب میل جول کو محدود کرنا ہے۔“ میں نے سوچا کہ یہ محدود میل ملاپ تھا تو زیادہ مقدار کیا ہوگی؟ شاید وہ سماجی روابط کو کم کرنے سے پہلے سب سے آخری بار مل لینا چاہتے تھے؟ یا پھر ہاتھوں کی لکیروں کی طرح سر میں بھی کوئی بدلاؤ نہیں آیا تھا!

